داعش ایک خطرناک وائرس ۔۔۔ (چوتھی قسط)

خبر کا کوڈ: 1476047 خدمت: مقالات
داعش

اس آرٹیکل میں داعش کے بارے میں اسلامی مذاہب کے بعض علماء کے خیالات قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: جامعۃ الازہر مصر کے سربراہ شیخ احمد الطیب نے مسلمان علماء کی کونسل کے اجلاس میں داعش کے دہشت گردوں کے تشدد آمیز اقدامات کے بارے میں کہا کہ اس قسم کے تشدد آمیز اقدامات کا حقیقی اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: "یہ بات کہ موجودہ حالات میں جو جرائم بم دھماکے اور تخریب کاری ہو رہی ہے، اسے ہم اسلام سے منسوب کریں، صرف اس وجہ سے کہ ایسے افراد ان جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں کہ جو ان کا ارتکاب کرتے وقت اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں، ایک آشکارا ظلم اور واضح امتیازی سلوک ہے۔

شیخ احمد الطیب کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ادیان ابراہیمی میں سے کسی کی بھی پیداوار نہیں ہے یہ ایک نفسیاتی اور ذہنی بیماری ہے کہ جو مذہب کو ایک محاذ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

جامعۃ الازہر کے وکیل ڈاکٹر عباس شومان بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہم نے جامعۃ الازہر میں کئی بار مسلمانوں اور بےگناہ عوام کے قتل عام، مسیحیوں کی جبری طور پر اپنے آبائی علاقوں سے بےدخلی اور ایزدیوں کے قتل اور انہیں ایذائیں پہنچانے کے سلسلے میں داعش کے جرائم کی مذمت کی ہے، کیونکہ اسلام میں مذہبی آزادی کی فضا موجود ہے اور سب مخالفین محفوظ ہیں جب تک کہ وہ ہمارے عقیدے کی مخالفت میں کام نہ کریں اور ہمارے خلاف جرم کا ارتکاب نہ کریں۔ خداوند متعال کا فرمان ہے: "جو چاہے مومن رہے اور جو چاہے کافر رہے"۔

مصر کے مفتی اعظم شیخ شوقی علام داعش کے بارے میں کہتے ہیں کہ عراق میں داعش گروہ جو اقدامات انجام دے رہا ہے وہ کسی بھی طرح جہاد نہیں ہیں۔ انہوں نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام عالمین کے لیے رحمت تھے، کہا کہ جو شخص انتہا پسند افراد کے نظریات کا جائزہ لے گا وہ اس بات کو جان لے گا کہ ان انتہا پسند افراد کی توجیہات شریعت اسلام سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔ مصر کے مفتی اعظم اس کے بعد کہتے ہیں کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ داعش گروہ نے قرآن کریم کی پچاس آیات کی غلط تفسیر پیش کی ہے اور ان کو اپنے حق میں استعمال کیا ہے۔

مصر کے اہل سنت علما کا نقطۂ نظر، اہل سنت میں جامعۃ الازہر کی ساکھ اور حیثیت اور قاہرہ کی مرکزیت کے پیش نظر انتہائی اہم ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں کے بہت سے اہل سنت علماء نے جامعۃ الازہر میں  تعلیم حاصل کی ہے۔ دیگر مسلمان ملکوں میں بھی اہل سنت علما نے داعش کی ماہیت اور اس تکفیری اور دہشت گرد گروہ کے جرائم کے بارے میں واضح نظریات پیش کیے ہیں۔ پاکستان میں شعبہ انجمن الازہر کے سربراہ شیخ صاحب زادہ عزیز نے کہا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ، مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان کا خون بہانے نیز مسلمان خواتین اور نوجوان لڑکیوں کی عصمت دری کے لیے صیہونزم کا منصوبہ ہے۔

پاکستان علما کونسل نے بھی ایک بیان جاری کر کے داعش کی مذمت کرنے کے علاوہ اس گروہ کے اقدامات کو غیراسلامی قرار دیا کہ جو اسلامی تعلیمات کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ اس کونسل کے بیان میں آیا ہے کہ اسلام اور مسلمان اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی بےگناہوں کو قتل کرے اور ان کا مال و اسباب تباہ کر دے۔ پاکستان علما کونسل نے دنیا کے مسلمانوں اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی ایسے گروہ کے ساتھ تعاون نہ کریں کہ جو تشدد سے کام لیتا ہے اور اسلامی تعلیمات اور پیغمبر اسلام کے ارشادات کو پاؤں تلے روندتا ہے۔

ہندوستان کے ایک ہزار پچاس مسلمان علماء نے اعلان کیا ہے کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے اقدامات دین اسلام کی تعلیمات اور اصولوں کے خلاف ہیں۔ ہندوستان کے بزرگ علمائے کرام نے کہ داعش کی مذمت میں جن کے فتوے پندرہ جلدوں میں چھپے ہیں، اعلان کیا ہے کہ اسلام قتل، تخریب کاری اور مقدسات کی توہین کا دین نہیں ہے۔ ہندوستان کے مسلمان علما پندرہ جلدوں پر مشتمل فتووں کی یہ کتاب کہ جو تاریخ میں سب سے بڑا فتوی سمجھا جاتا ہے، دنیا کے تمام ملکوں کے سربراہوں اور اقوام متحدہ کے اس وقت کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو ارسال کی۔ داعش کے خلاف اس فتوے پر دستخط کرنے والوں میں دہلی کی جامع مسجد کے امام سید احمد بخاری، درگاہ اجمیر شریف کی متولی، بمبئی کی رضا اکیڈمی کے سربراہ اور بمبئی علما کونسل کے ارکان سمیت ہندوستان کے ممتاز علمائے کرام شامل ہیں۔ عالم اسلام کے سینکڑوں دیگر علما نے بھی اس فتوے کی تائید کی ہے۔ داعش افغانستان میں بھی اپنی سرگرمیاں انجام دے رہا ہے اور افغان علما نے بھی اس تکفیری دہشت گرد گروہ کے جرائم کی مذمت کی ہے۔

افغان علما کونسل نے اعلان کیا ہے کہ داعش کے تمام اقدامات کی اسلام کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ گروہ دنیا والوں کے سامنے اسلام کی پرتشدد تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ بیان اس وقت دیا گیا تھا کہ جب داعش سے وابستہ افراد نے ان عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کی عصمت دری کو جائز اور عبادت قرار دیا کہ جو دیگر مذاہب کو ماننے والی ہیں۔ افغان علما کونسل کے ترجمان مولوی محمد قاسم حلیمی نے اس بارے میں کہا ہے کہ اسلام نے اپنے پیروؤں کو امن، اخوت و بھائی چارے اور مساوات کی طرف دعوت دی ہے اور وہ عورتوں کو قید کرنے اور ان کی عصمت دری کو جائز نہیں سمجھتا ہے۔ اس گروہ کے تمام اعمال اور اقدامات نہ صرف یہ کہ اسلام کے مطابق نہیں ہیں بلکہ اسلام اس قسم کے افراد پر لعنت بھیجتا ہے۔ یہ گروہ دین کا نمائندہ نہیں ہے۔ اسلام میں کہاں ہے کہ لوگوں کو بم سے اڑا دو یا دو دن کے شیرخوار بچے کے ٹکڑے کر دو یا عورتوں کی عصمت دری کرو؟ داعش نہ صرف جنسی زیادتی کو بلکہ قتل اور شرک کو بھی روا رکھتا اور جائز سمجھتا ہے۔ ان کے تمام اعمال و اقدامات خلاف اسلام ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ کئی لوگ اب بھی انہیں مجاہدین اسلام کے نام سے جانتے ہیں لیکن اس کے برعکس یہ ایسے اعمال انجام دیتے ہیں کہ جو دین اسلام کی بدنامی کا باعث ہیں۔

لبنان کے اہل سنت عالم دین اور تحریک الامہ کے سربراہ شیخ عبدالناصر الجبری داعش کے بارے میں کہتے ہیں کہ داعش گروہ جیسے ان تکفیری گروہوں کے اقدامات مکمل طور پر اسلام کے خلاف ہیں اور لوگوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ پورے وسائل و امکانات سے اس خطرناک لعنت کا مقابلہ کریں تاکہ امت ان گروہوں کے خطرے سے بچ سکے۔ وہ تکفیریت اور مسلمانوں کے خلاف تکفیر کے نام پر دہشت گرد جو اقدامات انجام دیتے ہیں، ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ تکفیر پیغمبر کی سنت نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو بھی کہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، تو اس کا جان، مال اور عزت و آبرو محفوظ ہے۔ شیخ عبدالناصر الجبری مزید کہتے ہیں کہ امریکہ تکفیری گروہوں کے ذریعے علاقے کو آگ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آج تکفیر صرف فکر و سوچ کی حدود میں نہیں ہے، عراق شام اور لیبیا میں اب یہ فکر و سوچ کی حدود سے نکل کر بےگناہ لوگوں کے قتل تک پہنچ گئی ہے اور تکفیریوں کی شیطان بزرگ امریکہ حمایت کر رہا ہے۔

تیونس کے مفتی اعظم شیخ حمدہ سعید بھی تکفیری گروہ داعش کے بارے میں کہتے ہیں کہ داعش اور تکفیری گروہ عالم اسلام کے لیے سرطان سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ یہ گروہ اور جو بھی تکفیریوں کی مدد کرتے ہیں درحقیقت اسرائیل کی خدمت کر رہے ہیں تاکہ مسئلہ فلسطین کو طاق نسیان کی زینت بنا دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ داعش، عالم اسلام کے زوال اور صلیبی جنگوں کو جاری رکھنے کے لیے مغرب کا منصوبہ ہے۔

جاری ہے ۔۔۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری