سری نگر؛ جامع مسجد میں نماز پر پابندی کیخلاف مختلف تنظیموں کا بھارتی حکومت کو انتباہ

خبر کا کوڈ: 1476539 خدمت: اسلامی بیداری
جامع مسجد سرینگر

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے مذہبی رہنماوں سمیت تجارتی انجمنوں کے ذمہ داران اور سول سوسائٹی نے سری نگر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر مسلسل قدغن پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے ریاستی حکومت کو متنبہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز کی ادائیگی پر مسلسل قدغن کے معاملے پر مختلف تنظیموں نے حکومت کو انتباہ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی سرکردہ مذہبی تنظیموں کے سربراہان، ائمہ مساجد، علمائے کرام، تجارتی انجمنوں کے ذمہ داران اور سول سوسائٹی نے سری نگر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر مسلسل قدغن پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے ریاستی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر عائد مسلسل پابندی اور وادی کے سب سے بڑے مذہبی رہنما میرواعظ مولوی عمر فاروق کی مسلسل نظر بندی اور ان کی دینی و منصبی فرائض کی ادائیگی پر عائد پابندی فوری طور پر ہٹائے۔

واضح رہے کہ سری نگر کے پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیوں کے سبب نوہٹہ علاقہ میں واقع تاریخی جامع مسجد میں گذشتہ جمعہ کو مسلسل پانچویں بار نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنا دی گئی۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالات 8 جولائی 2016 کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برھان وانی کی شہادت کے بعد خراب ہو گئے اور اس وقت سے لے کر اب تک 200 سے زائد کشمیری شہید اور ہزاروں زخمی اور گرفتار ہوئے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری