افغانستان جنگ اور امن عمل؛ وہ معمہ جو دہائیوں میں بھی حل نہ ہوسکا

خبر کا کوڈ: 1476734 خدمت: پاکستان
پاکستان، افغانستان و آمریکا

مسئلہ افغانستان کے سلسلے میں پاکستان اور امریکا کی جانب سے ہمیشہ ملے جلے ردعمل سامنے آتے رہتے ہیں لیکن اس بحران کو ختم کرنے کیلئے دہائیاں گزرنے کے باوجود تاحال کسی قسم کی کوئی مثبت پیشرفت سامنے نہیں آئی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق غیرمعمولی طور پر مسئلہ افغانستان کے سلسلے میں کسی بات پر اتفاق ظاہر کرتے ہوئے پاکستان اور امریکا نے افغان امن عمل میں طالبان کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔

تاہم امریکا کی جانب سے پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مبینہ الزام دونوں ممالک کے دہائیوں پرانے تعلقات میں مسائل کی وجہ ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے سیکریٹری اسٹیٹ ریکس ٹلرسن کے نظریات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی بات جو سیکریٹری اسٹیٹ بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہمیں ایک واضح نقطہ تک پہنچنا چاہیے، جس کے لیے طالبان کے کچھ اراکین کو ساتھ بٹھا کر بات چیت کرنی ہوگی۔

اس حوالے سے امریکا میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری نے واشنگٹن کے انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں خطاب کرتے ہوئے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں باہمی سیاسی مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا اور یہی خطے میں پائیدار امن حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنگ سے متاثرہ افغانستان کا امن فوجی حل سے ممکن نہیں ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ فوجی آپشن افغانستان کے لیے مجموعی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں دونوں فریقین کو ان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ افغان جنگ کے اختتام کے لیے سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے ماہرین نئی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے کام کررہے ہیں۔

نئی حکمت عملی کے مطابق مزید 5 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں تعینات کیے جائیں گے جبکہ وائٹ ہاؤس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سفارتکاری اس سلسلے میں ایک اہم جز ہوگا۔

وائٹ ہاؤس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکا کی نئی حکمت عملی افغانستان کی سرحدوں سے نکل کر پورے جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا تک کو کور کرے گی۔

امریکی ریاست کولاراڈو میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے امریکی جوائنٹ چیف اسٹاف چیئرمین جنرل جوزف ڈنفرڈ نے کہا کہ ہماری حکمت عملی کا سب سے اہم عنصر پاکستان ہے۔

جنرل ڈنفرڈ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کے اعلیٰ سطح کے تعاون کے بغیر امریکا افغانستان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی بریفنگ کے دوران افغان صحافی نے اپنے سوالات میں کابل میں ہونے والے بم دھماکے کا الزام پاکستان پر لگانے کی کوشش کی جسے ہیتھر نوریٹ نے نظر انداز کر دیا۔

طالبان کی امن عمل میں شمولیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں ہیتھر نوریٹ کا کہنا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا، لہٰذا اگر امریکا اس نقطے پر پہنچتا ہے جہاں طالبان کی شمولیت کی ضرورت محسوس ہوگی تو ایسے میں درست سمت میں فیصلہ کیا جائے گا اور تب تک افغان شراکت داروں کی مدد جاری رہے گی۔

واشنگٹن تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے افغانستان میں امن اور استحکام بحال کرنے کے اقدامات کی نشاندہی کی جن میں افغانستان کا اندرونی مفاہمتی عمل، بہتر بارڈر مینجمینٹ، افغان پناہ گزین کی اپنے وطن واپسی اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون شامل ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری