ن لیگ کے نامزد امیدوار پر 220 ارب روپے کرپشن کا الزام/ نیب انکوائری کا سامنا

خبر کا کوڈ: 1479014 خدمت: پاکستان
شاہد خاقان عباسی

ن لیگ کی جانب سے عبوری وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار شاہد خاقان عباسی بھی 220 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارروائی کا سامنا کررہے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سربراہ نواز شریف کی وزیراعظم کے عہدے سے برطرفی کے بعد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے لیے ایک اور مسئلے نے سر اٹھالیا ہے کیونکہ ن لیگ کی جانب سے عبوری وزیراعظم کے لیے نامزد امیدوار شاہد خاقان عباسی بھی 220 ارب روپے کی کرپشن کے الزامات میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارروائی کا سامنا کررہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی 2015 میں لیکویفائڈ نیچرل گیس (ایل این جی) درآمد کا معاہدہ دینے کے حوالے سے رجسٹر ہونے والے نیب کیس میں مرکزی ملزم ہیں۔

دیگر ملزمان میں سابق سیکریٹری پٹرولیم عابد سعید، انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم (آئی ایس جی ایس) کے مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) مبین صولت، نجی کمپنی اینگرو کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر عمران الحق اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے سابق ایم ڈی ظہیر احمد صدیقی شامل ہیں۔

پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو برطرف کیے جانے کے بعد ن لیگ نے عبوری وزیراعظم کے لیے شاہد خاقان عباسی کو نامزد کیا ہے جس کے بعد حکومت کی بقیہ 10 ماہ کی مدت میں شہباز شریف نئے وزیراعظم ہوں گے۔

عبوری وزیراعظم کا انتخاب منگل (یکم اگست) کو ہوگا جبکہ قومی اسمبلی میں ن لیگ کی مجموعی اکثریت کو دیکھتے ہوئے خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی عہدے کے لیے منتخب ہوجائیں گے۔

دوسری جانب نیب دستاویزات کے مطابق 2013 میں ایل این جی کی درآمد اور تقسیم کا کنٹریکٹ اینگرو کی ذیلی کمپنی ایلینجی ٹرمینل کو دیا گیا تھا اور یہ معاہدہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے ضوابط اور متعلقہ قوانین کے خلاف تھا۔

اس معاہدے کے خلاف نیب نے 29 جون 201 میں کیس رجسٹر کیا جس کی انکوائری تاحال جاری ہے، جو چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کے اس دعوے کے برعکس ہے کہ ان کی متعارف کروائی گئی حکمت عملی کے تحت شکایت کی تصدیق، انکوائری، تحقیق اور ریفرنس دائر ہونے کا عمل 10 ماہ میں مکمل ہوجاتا ہے۔

ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف دیگر کئی کیسز کی طرح نیب اس کیس کو بھی نظرانداز کرچکی ہے۔

خیال رہے کہ یہ مقدمہ ماہر توانائی اور پلاننگ کمیشن کے سابق رکن شاہد ستار و دیگر کی شکایت پر درج کیا گیا تھا، جس میں شاہد خاقان عباسی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرکے 15 سال میں قومی خزانے کو 2 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری