سابق امریکی فوجی افسر:

امریکی فوج افغانستان سے نکل جائے / پاکستان کیخلاف واشنگٹن کا ممکنہ اقدام مناسب نہیں

خبر کا کوڈ: 1480538 خدمت: دنیا
داگلاس مک‌گرگور

امریکہ کے ریٹائرڈ فوجی افسر نے اس بیان کیساتھ کہ افغان طالبان مغرب میں دہشتگردانہ حملوں کے ذمہ دار نہیں ہیں، کہا کہ افغانستان سے فوجوں کا مکمل انخلاء ہی منطقی اقدام ہے اور یہ موقف کہ "اگر افغان طالبان پر حملہ نہ کریں تو وہ امریکہ پر حملہ کریں گے" حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ڈگلس میک گریگور نے واشنگٹن ٹائمز میں لکھے گئے اپنے مقالے میں کہا ہے کہ ٹرمپ اپنے انتخابی نعرے "امریکہ فرسٹ" کو پورا کرنے کے لئے اقدام کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ قومی اور عسکری اسٹریٹجی بنانے کے ساتھ ساتھ امریکی فوجیوں سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے اس وجہ سے افغانستان میں امریکی فوجی مہم کو روکنے کا قوی امکان ہے تاکہ قومی سرمایے کو مزید بربادی سے روکا جا سکے۔

انہوں نے افغانستان بحران کو حل کرنے کے لئے ٹرمپ کی سلامتی  کمیٹی کی سیاسی حکمت عملی کو بھی ناکارہ قرار دیا۔

اس ریٹائرڈ کرنل نے پاکستان کے خلاف امریکہ کے ممکنہ اقدام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات مناسب نہیں کہ ٹرمپ کے مشاورین اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کے خلاف حکمت عملی بنانے کی کوشسوں میں مصروف ہیں۔

یاد رہے کہ ٹرمپ کے بعض مشاورین جہاں افغانستان میں کرائے کے فوجی بھیجنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف ان میں سے کچھ مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے خواہاں ہیں۔

کرنل گریگور نے کہا کہ "اگر افغان طالبان پر حملہ نہ کریں تو وہ امریکہ پر حملہ کریں گے" جیسے نعروں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

انہوں نے تاکید کی کہ مغرب میں ہونے والے کسی بھی حملے میں افغان طالبان کا کوئی کردار نہیں ہے یہی سبب ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کو امریکی عوام کی بالکل بھی حمایت حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ ایسے لوگوں سے بھری ہوئی ہے جو تلخ حقیقت کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے اور اپنی غلط پالیسی پر عمل پیرا تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری