تسنیم نیوز کے ساتھ پروفیسر رسول بخش رئیس کی گفتگو؛

امریکہ چاہتا ہے کہ پابندیاں برقرار رکھ کر ایران کو تنہا کر دیا جائے

خبر کا کوڈ: 1484627 خدمت: انٹرویو
رسول بخش

معروف تجزیہ نگار نے کہا کہ امریکہ کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ ایران پر پابندیاں لگا کر اسے تنہا کیا جائے۔

معروف تجزیہ نگار پروفیسر رسول بخش رئیس نے تسنیم نیوز کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی الیکشن کیمپین میں شامل افراد روس اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں تھے، گرینڈ جیوری اس سنگین الزام کے بارے شواہد کی روشنی میں ٹرمپ کے کیس کو اسپیشل ٹریبونل یا ایف بی آئی کو بھیجنے کی مجاز ہو گی، یہ معمولی الزام نہیں امریکی سسٹم باہر سے متاثر ہوا ہے، اس عمل میں شامل افراد پر غداری کا مقدمہ چلے گا۔

رسول بخش رئیس نے کہا کہ ٹرمپ اوبامہ دور حکومت میں ایران کے ساتھ ہونے والی نیوکلیئر ڈیل کے خلاف ہیں۔ اسی طرح ری پبلکن بھی اس سے خوش نہیں تھے۔ دہائیوں کے بعد امریکی خارجہ پالیسی کا رخ تبدیل ہوا جس کے تحت اوبامہ نے ایران کے ساتھ ڈیل کی۔ اور اس ڈیل کے نتیجہ میں پابندیاں ختم ہوئیں۔ پرامن طریقے سے ایک ایٹمی معاملہ حل کر لیا گیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ایران نیوکلیئر پاور نہ بنے اور یہ معاہدہ ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی۔ جس کے تحت ایران نے نیوکلیئر پروگرام ختم کیا۔ اس کی وجہ ایران میں حسن روحانی کی اصلاح پسند حکومت بھی تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ ایران پر پابندیاں لگا کر اسے تنہا کیا جائے، اور خاص طور پر امریکہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنا چاہتا ہے، چاہے اس کے لئے امریکہ کو طاقت کا استعمال ہی کرنا پڑے۔

رسول بخش رئیس نے کہا کہ مسلمان ممالک کو سمجھنا چاہیے کہ تصادم کی پالیسی سے خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مسلم معاشروں میں کشت و خون اور فساد میں ملوث ممالک کو تاریخ سے سبق سیکھ کر اپنی پالیسیز پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری