گلگت بلتستان میں سالانہ 57 ہزار میٹرک ٹن پھل ضائع ہوتے ہیں

خبر کا کوڈ: 1487370 خدمت: پاکستان
میوه لوکس

گلگت بلتستان میں سینکڑوں قسم کے میوہ جات پائے جاتے ہیں جہاں کسی قسم کا کوئی نظام نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ 57 ہزار میٹرک ٹن میوہ جات ضائع ہو رہے ہیں۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں سینکڑوں قسم کے میوہ جات کے لاتعداد باغات پائے جاتے ہیں لیکن حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے سالانہ 57 ہزار میٹرک ٹن میوہ جات ضائع ہو رہے ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں میوہ جات کو محفوظ کرنے کے لئے کسی قسم کا نظام موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں پہنچنے سے پہلے ہزاروں میٹرک ٹن فروٹ ضائع ہوجاتا ہے۔

حال ہی میں گلگت میں سی پیک تجارتی مواقع کے موضوع پر ایک سیمنار منعقد کی گئی جس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے فورس کمانڈر میجر جنرل ثاقب محمود ملک کا کہناتھا کہ سی پیک میں ون روڈ ون بیلٹ کے ذریعے سے تجارت کی ترقی کے لئے کام شروع ہو چکا ہے۔

میجر جنرل کا کہنا تھا کہ علاقے کی جغرافیاتی اہمیت بے مثال ہے تجارتی اور اقتصادی حیثیت سے مالامال اس صوبے کی تین ملکوں کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں۔

قدرتی وسائل سے مالامال اس خطے میں پہاڑوں کے اندر بے شمار معدنیات چھپی ہوئی ہیں جن کو کار آمد بنا کر بہترین زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

فورس کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں دنیا کے بلند و بالا پہاڑوں کے علاوہ یہاں پر سو سے زائد نہایت خوبصورت قدرتی  جھیلیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکمت عملی مرتب کر کے سی پیک منصوبوں میں تعلیم، صحت اور انفرا سٹرکچر جیسے منصوبوں کو شامل کیا جائے تاکہ سی پیک کی وجہ سے یہ خوبصورت خطہ اور پورا ملک ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے آگے بڑھ سکیں۔

منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے  فورس کمانڈر شمالی علاقہ جات میجر جنرل ثاقب محمود ملک کا کہنا تھا کہ سی پیک ملک و علاقے کی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہے۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں میوہجات کے علاوہ سبزیجات خاص کر آلو کثیر مقدار میں پیدا کیا جاتا ہے اور آلو محفوظ کرنے کے لئے بھی کسی قسم کا کوئی نظام نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ کروڑوں روپے کا آلو گھل سڑ کر ضائع ہوجاتا ہے، کئی مرتبہ روڈ بلاک ہونے کی وجہ سے ٹنوں کے حساب سے آلو دریا برد کیا گیا ہے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت توجہ دے اور گلگت بلتستان میں آلو ذخیرہ کرنے کا کوئی نظام بنائے تو آلو کی مقدار کو کئی گنا بڑھایا جاسکتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری