تحریر: آر اے سید

داعش ایک خطرناک وائرس ۔۔۔ (دسویں قسط)

خبر کا کوڈ: 1487476 خدمت: مقالات
داعش

دہشتگرد گروہ داعش اقوام عالم کو دین سے متنفر کرنے کی غرض سے اسلام کو ایک ایسے خونریز اور وحشی دین کے طور پر پیش کر رہا ہے جو لوگوں کو قتل عام اور خونریزی کی دعوت دیتا ہے جبکہ اسلام ان سب سے بیزار ہے۔

خبر رساں اداہ تسنیم: تکفیری داعش کے عراقی شہر موصل پر قبضے کے بعد عراق کے  اکثر علمائے اہل سنت نے داعش کے جرائم کے خلاف موقف اختیار کرتے ہوئے ان جرائم کی مذمت کی تھی۔ عراق کے علمائے اہلسنت کی جماعت کے سربراہ خالد الملا اس بارے میں کہتے ہیں: تکفیری جارحین کا ہدف و مقصد عراق کے مذاہب اور قبائل کو نابود کرنا ہے۔ وہ دہشت گردانہ واقعات جو موصل میں رونما ہو رہے ہیں وہ بشریت کی پیشانی پر کلنگ کا ٹیکہ ہیں۔ انہوں نے تلعفر کے باشندوں کو بیعت پر مجبور کیا۔ گویا امویوں اور عباسیوں کا دور حکومت لوٹ آیا ہے کہ جس میں خلفاء، عوام کی گردنیں اڑاتے تھے اور اہل بیت کے گھرانے کے ان افراد اور علماء کو جو بیعت کے مخالف تھے، پر شکنجہ کستے اور ان کو ایذائیں دیتے تھے۔

شیخ مہدی الصمیدعی، عراق کے اہلسنت کے مفتی داعش کے بارے میں کہتے ہیں: داعشی دہشت گرد مسلمانوں کو تو قتل کرتے ہیں لیکن بت پرستوں سے وفاداری کرتے ہیں۔ اس بناء پر اس جماعت کی ماہیت کہ جو مسلمانوں کے اموال اور عزت و حرمت کو پامال کر رہی ہے اور ان کے خون کو مباح قرار دے رہی ہے، ہم پر ظاہر ہوچکی ہے۔ یہ لوگ جہنمی ہیں۔

شہر موصل کے علماء کی کونسل کے سربراہ شیخ عبداللہ العزاوی، دہشت گرد گروہ داعش کے بارے میں کہتے ہیں: "داعشی دہشت گردوں کے خلاف جہاد واجب ہے"۔ انہوں نے کہا کہ سنی عوام، ان تمام قتل عام اور جارحیتوں سے جو داعش کے عناصر عراقی عوام کے خلاف انجام دے رہے ہیں، ان سے مبرا اور بیزار ہیں اور ہم ان قتل عام اور گردنیں کاٹنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ 

عراق ہی کے اہل سنت کے مفتی اور عالم شیخ احمد الکبیسی ان افراد کے خلاف، جو خود کو داعشی کہتے ہیں، جہاد کو واجب قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہا کہ یہ سب اسرائیل اور سعودیوں کے حامی ہیں اور اسلام کو کمزور کرنے کے لئےجنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ داعش، وہابیت کی پیداوار ہے تاکہ اسلام کی تباہی و بربادی میں تیزی لائی جائے اور صیہونیوں کی حمایت کے سبب اس وقت داعش دہشت گرد گروہ لیبیا، تیونس، یمن، صومالیہ اور عراق میں اپنا دائرہ وسیع کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

مصر کی الازہر یونیورسٹی نے ایک بیان میں داعش دہشت گرد گروہ کو اپنے شدید حملوں کا نشانہ بنایا اور ان کے عناصر کو خوارج اور جارح قرار دیا۔ الازہر نے داعش کے ذریعے مسلم جوانوں کو جذب کرنے اور خود میں شامل کرنے کے اقدام کی مذمت کی اور اس گروہ کے طرز فکر کو گمراہ کن قرار دیا کہ جو اسلامی ملکوں کے استحکام کو درہم برہم کرنے کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ الازہر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ اپنی علامت اور نشانی کے طور پر اسلام کا  پرچم لہرانے کے ساتھ ہی مسلم جوانوں کو جذب کرنے میں کوشاں ہے جبکہ اسلام اس قسم کے افراد سے متنفر اور بیزار ہے۔ الازہر نے مسلمان عالم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس منحرف اور شدت پسند گروہ کی باتوں میں نہ آئیں اور ان کا دھوکہ نہ کھائیں۔ الازہر نے کہا کہ داعش اور خوارج میں کوئی فرق نہیں ہے کہ جنہوں نے علی ابن ابیطالب علیہ السلام کے خلاف شورش برپا کی اور علی پر کفر کا الزام لگایا اور جو کوئی بھی خوارج کے مذہب کا مخالف ہوتا ان کی تکفیر کرتے تھے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ دھڑے دین اسلام کی تعلیمات کے بارے میں بے بنیاد مطالب اور مضامین شائع کرتے ہیں اور اسلام پر جھوٹ اور افترا باندھتے ہیں تاکہ نتیجے میں اقوام عالم کو دین سے متنفر کریں۔ وہ اسلام کو ایک ایسے خونریز اور وحشی دین کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو لوگوں کو قتل عام اور خونریزی کی دعوت دیتا ہے جبکہ اسلام ان سب سے بیزار ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری