روسی اخبار:

سعودی عرب اپنے خطرناک ترین دور میں/ عرب شہزادے بن سلمان سے چھٹکارا پانے کے در پے ہیں

خبر کا کوڈ: 1487895 خدمت: دنیا
محمد بن سلمان

روس کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ سعودی عرب اپنے سب سے خطرناک دور سے گزر رہا ہے جبکہ بہت سارے شہزادے محمد بن سلمان کی ولی عہدی سے چھٹکارا پانے کے خواہاں ہیں۔

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق روسی اخبار "برافڈا" نے لکھا ہے کہ سعودی عرب شدید بحرانی دور سے گزر رہا ہے جسے اس ملک کی تاریخ میں سب سے خطرناک دور شمار کیا جارہا ہےـ

اس اخبار نے مزید لکھا ہےکہ مستقبل قریب میں سعودی عرب کے بارے میں پیش گوئی مشکل ہےـ

برافڈا نے اپنی رپورٹ میں اس بیان کیساتھ کہ تیل سے مالامال اس ملک کی اقتصادی صورتحال میں اتار چڑھاؤ شدت اختیار کرگیا ہے، لکھا کہ فی الحال سعودیہ بہت مشکلات کا سامنا کر رہا ہےـ

روسی اخبار کے مطابق "یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگلے چند مہینوں میں یہ دور اس ملک کی تاریخ کا فکرمند ترین دور ہو"ـ

اس اخبار نے وضاحت کی کہ سعودی شاہی خاندان کے بہت سے اراکین جوان ولیعہد سے چھٹکارا پانے کے خواہش مند ہیں اور اس امر کی وجہ بن سلمان کی اپنے باپ کی حمایت سے نہایت سریع ترقی اور ملکی معیشت سمیت فوج پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

برافڈا نے مزید لکھا ہے کہ یمن جنگ اور سعودیہ کے مشرقی علاقے میں جاری کشیدگی میں اضافے کے سبب سعودی عرب سلامتی کیلئے خطرات کی شدت کو بڑھادیا ہےـ

اس اخبار نے لکھا :یمن جنگ پہلا امتحان تھا جس میں محمد بن سلمان نے شکست کھائی ہےـ

محمد بن سلمان پہلا شخص ہے جسے سعودی عرب کو اس جنگ میں دھکیلنے کی وجہ سے شدید مذمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ انہوں نے وزارت دفاع کی سربراہی میں اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کیا تھاـ جنگ طول پکڑ گئی لیکن سعودیوں کو اس کا کوئی خاطرخواہ فائدہ نہیں ہواـ

برافڈا اخبار نے مزید لکھا ہے کہ اس جنگ کو سعودی فوج کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہے جبکہ اس کے باوجود ریاض پر سنگین اخراجات کا بوجھ آیا ہے جس کا دوسرا پہلو امریکہ سے بھاری مقدار میں فوجی ساز و سامان کی خریداری ہےـ

اس اخبار نے لکھا ہے کہ سعودی عرب میں بہت سے جوانوں کے اذہان میں وہابیت کا نظریہ ہے لہٰذا یہ مشکل ہے کہ مستقبل میں سعودی ولیعہد مکمل طور پر خود کو پرامن پائے۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقے کے بارے میں برافڈا لکھا کہ یہ علاقہ شدید بدامنی کا شکار ہے جسے آل سعود کے مستقبل کے لیے خطرہ قرار دیا جارہا ہے اور اس امر کو نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتاـ اس علاقے کے باشندوں کا ماننا ہے کہ وہ آل سعود کے ظلم و ستم کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں ـ

 اس اخبار نے مزید کہا :کشیدگی گھٹانے کے لیے ریاض کے پاس اس علاقے میں مواقع بہت کم ہیں اسی بنا پر پیش گوئی

کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں قطر اور ایران کے ساتھ سعودیہ کے درمیان کشیدگیاں مزید بڑھ جائیں گی۔ ان مشکلات کے ساتھ مقابلہ کرنے کیلئے ریاض کی یہ کوشش ہے کہ اپنے سیکورٹی آلات کو دوبارہ آرگنائز کرے اور مخالف قبائل کے اثرات کو کم کرے لیکن ان کوششوں کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہےـ

برافڈا نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھا ہے کہ سعودی عرب نہایت اہم دور سے گزر رہا ہے جسے اس ملک کی تاریخ میں سب سے خطرناک دور شمار کیا جارہا ہے اور موجودہ صورتحال کی بنا پر اس مسئلے کی پیش گوئی مشکل ہے کہ مستقبل قریب میں اس ملک میں کیا ہونے والا ہےـ

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری