ریاست مشیگن سے تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

امریکہ میں "عرب ریاست"! جہاں عربی کھانوں، دکانوں اور ریسٹورنٹس کی بھرمار ہے + ویڈیو اور تصاویر

خبر کا کوڈ: 1488178 خدمت: دنیا
امریکا/میشیگان/کنار خبر

عربوں کا اس امریکی ریاست میں ہمیشہ سے ایک مضبوط کردار رہا ہے۔ 5 لاکھ سے زائد رہنے والے عرب اس ریاست پر اس حد تک اثر انداز ہیں کہ سٹورز، تجارتی دکانوں، فارمیسیز اور مارکیٹوں کے بورڈز سب عربی زبان میں تحریر ہیں۔

ریاست مشیگن سے نمائندہ تسنیم نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ ریاست امریکہ کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ آبادی والی ریاستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ شہر مذہبی و دینی تنوع کے لئے مشہور ہے۔ اس وجہ سے مساجد، گرجا گھر اور مذہبی مراکز اس کی خصوصیات میں سے ہیں۔

یہاں فکری اور عقیدتی تنوع دیکھنے میں آتا ہے اس ریاست میں 5 لاکھ سے زائد عرب تاریکین وطن بستے ہیں۔ وہ اتنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں کہ دکانوں، مارکیٹوں اور فارمیسیز کے بورڈزسب عربی زبان میں لکھے گئے ہیں۔

ایک خاتون جو مشیگن کی ساکن ہے، تسنیم نیوز کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہتی ہے: مشیگن اور ڈیٹروائٹ خوبصورت ہیں یہاں عرب بہت زیادہ ہیں۔

ایک اور امریکی شہری جو تفریح کے لئے اس ریاست کا رخ کرکے آیا ہے، نے کہا: اس ریاست میں ریسٹورنٹس کے قوانین و ضوابط نے ہمیں اپنے خاندان کی یاد دلائی ہے۔ میں ٹیکساس میں رہتا ہوں لیکن وہاں ایسے حالات نہیں ہیں۔

ہر چیز سے بڑھ کر جو سیاحوں کو ریاست مشیگن کے سفر کرنے کیلئے جذب کرتی ہے، وہ یہاں کے ریسٹورنٹس ہیں کیونکہ یہاں عربی زائقوں والے کھانے پکائے جاتے ہیں، سب سے زیادہ نمایاں عراقی باورچی ہیں۔ کھانے اور مٹھائیاں روایتی انداز سے تیار کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان دکانوں کی دیواروں کے نقش و نگار کی طرف بھی اشارہ کرنا لازمی ہے، یہ نقش و نگار مشرقی وسطیٰ کی ثقافت و تاریخ کو دکھاتی ہیں، یہ ایسے مناظر ہیں جو وطن سے دوری کے احساسات اور تنہا پن کو ہلکا کرتے ہیں۔

ایک اور عرب جو مشیگن کا ساکن ہے، نے کہا: ان علاقوں میں عرب اور بالخصوص عراقی عرب زیادہ آباد ہیں اور وہ بول چال بھی عربی میں کرتے ہیں۔

تمام ریاستوں کے شہری اس ریاست میں آتے ہیں اور عربوں بالخصوص عراقیوں کی زیادہ تعداد میں دکانوں کو دیکھ کر محظوظ ہوتے ہیں جہاں وہ عربی طرز کے مٹھائیوں اور کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

عربوں نے اس علاقے میں زندگی کے تمام شعبوں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہاں نمایاں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہاں کے سیاسی امیدواروں کی اکثریت بھی عرب ہیں اور اس ریاست کے مختلف شہروں کو چلانے میں اہم کردار ادا کرہے ہیں۔

اس ریاست میں عرب سیاحوں کو اپنے وطن سے دوری کا احساس نہیں ہوتا لہٰذا جو کچھ بھی اس ریاست میں موجود ہیں، انہیں اپنے وطن کی یاد دلاتے ہیں حتیٰ کہ دوسروں سے بات کرنے کے لئے صرف عربی زبان ہی کافی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری