فخر پاکستان علی رضا ایدھی کا تسنیم نیوز کو انٹرویو؛

"عبدالستار ایدھی" کی کاوش اور جدوجہد نے دل میں انسانیت کی خدمت کا ولولہ پیدا کیا + ویڈیو

خبر کا کوڈ: 1489098 خدمت: انٹرویو
علی رضا ایدھی

"پاکستان ایمرجنسی رسپانس لرننگ پروگرام" پاکستان کی نوجوان نسل کو خود حفاظتی اقدامات سے متعلق تعلیم و تربیت دینے کا ایک ادارہ ہے جس کے زیرنگرانی تاحال کراچی اور اسلام آباد میں 40 ہزار سے زائد بچوں او نوجوانوں کو تعلیم و تربیت فراہم کی جاچکی ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: پاکستان ایمرجنسی رسپانس لرننگ پروگرام ملک کی نوجوان نسل کو خود حفاظتی اقدامات سے متعلق تعلیم و تربیت دینے کا ایک ادارہ ہے۔ یہ ادارہ 2012 میں کراچی سے شروع یوا اور تب سے اب تک کراچی اور اسلام آباد کے چالیس ہزار بچوں، نوجوانوں کو خود حفاظتی اقدامات سے متعلق آگاہی و تربیت فراہم کر چکا۔

ادارہ ہٰذا کے قیام کا مقصد ملک میں عدم دستیاب انسانی اقدار کی معاشرے میں بتدریج ترویج اور بحالی ہے۔ اس پروگرام کے تحت آنے والی نسلوں کو انسانی ہمدردی پر مبنی مواد سے روشناس کرایا جا رہا ہے اور ان میں انسانی مدد و خدمت کے جذبے کی آبیاری کی جارہی ہے۔

ادارہ درج ذیل مضامین کی تعلیم و تربیت فراہم کرتا ہے۔

•  زلزلے سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر
•  سڑک کا استعمال اور پیدل چلنے کے آداب
•  ہنگامی صورتحال میں کیئے جانے والے اقدامات
•  آگ سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر
•  ابتدائی طبی امداد

تسنیم نیوز: آج تعلیم کے حوالے سے اور تعلیم یافتہ پاکستان کے حوالے سے بات ہوگی اور ہم سے بات کر رہے ہیں فخر پاکستان علی رضا ایدھی جو کہ بانی اور منتظم اعلیٰ ہیں پاکستان ایمرجنسی رسپانس لرننگ پروگرام کے جنہوں نے اپنی کاوش سے یہ ادارہ قائم کیا اور اس کے روح رواں ہیں۔ ہمارے ساتھ ٹیلیفون پر موجود ہیں، السلام علیکم علی رضا ایدھی صاحب

علی رضا ایدھی: علیکم السلام،

تسنیم نیوز:جناب فرمائیے گا کہ کیسے آپکو یہ خیال آیا، اس پروگرام کی بنیاد کیسے ڈالی؟ وہ کیا محرکات تھے جنہوں نے آپ کو اکسایا کہ آنے والی نسلوں کو یہ تعلیم دی جائے؟

علی رضا ایدھی: جناب عالی 2005 میں پاکستان میں ایک ہولناک زلزلہ آیا تھا، ہم بھی کچھ رضاکار اپنے ساتھ لیکر لوگوں کی امداد کرنے کشمیر پہنچے مگر یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ہزاروں لاکھوں لوگ وہاں مدد کے لئے پہنچے ہیں مگر کسی کو آتا کچھ نہیں، نہ کوئی ابتدائی طبی امداد سے واقف ہے، نہ ہی کسی کو ریسکیو کے بارے میں کچھ علم ہے، نہ ہی کسی کو اسکاؤٹنگ کے بارے میں علم تھا۔ لوگ صرف اپنے جذبے کے تحت پہنچ تو گئے مگر کسی کام کے نہیں ہیں۔ اس وقت یہ خیال آیا کہ کوئی ایسا پروگرام شروع کیا جائے جس کے تحت لوگوں کے مثبت جذبے کو باقاعدہ تربیت دے کر کارآمد بنایا جائے۔ 2005 سے ہم نے دماغی محنت کی اور بالآخر 2012 میں باقاعدہ یہ ادارہ قائم کیا جس کے تحت آگاہی و تربیت کا آغاز کیا گیا اور اب تک کراچی اور اسلام آباد میں 40 ہزار بچوں اور نوجوانوں کو ان مضامین کی تعلیم و تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔ صرف اسلام آباد میں 20 ہزار سے زائد بچوں کو  روڈ سیفٹی، فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور ارتھ کوئیک سیفٹی کی تعلیم دی جا چکی ہے۔

تسنیم نیوز:بہت اہم پروگرام ہے یہ، ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان اسکاؤٹس جو ایک ادارہ ہے وہ بھی اسکاؤٹس کو یہ تربیت دے رہا ہے لیکن آپ نے اس اہم کام کا بیڑا اٹھایا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کئی بار ایسی صورتحال پیش آتی ہیں جیسے کہ آرمی پبلک اسکول کا سانحہ پیش آیا یا اور کئی حادثات و سانحات ہوتے ہیں جس میں ڈزاسٹر  مینجمنٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ ذرا تفصیل سے بتائیں کہ کن کن شعبہ جات میں آپ نے بچوں کو تربیت دی ہے؟

علی رضا ایدھی: جی میں آپ کو بتاؤں، آپ نے اسکاؤٹنگ کا ذکر کیا، اسکاؤٹنگ ایک عالمی تحریک ہے اور اس کے تحت بھی کافی کچھ سکھایا جاتا ہے مگر جب اس کام کا آغاز کیا تو علم ہوا کہ ہمارے یہاں اسکاؤٹس کو آگ بجھانے یا آگ کی صورتحال سے نپٹنے کی کوئی آگاہی و تربیت نہیں دی جاتی۔ تو میں نے کئی اسکاؤٹ گروپس کو آگاہی دی اور بعد میں باقاعدہ فائر ڈپارٹمنٹ سے تربیت بھی دلوائی۔ پاکستان ایمرجنسی رسپانس لرننگ پروگرام بنیادی طور پر اسکول کے طلباء و طالبات کو خود حفاظتی کے مختلف موضوعات کی آگاہی و تربیت فراہم کرتا ہے۔ سب سے پہلے ہم بچوں کو پیدل چلنے کے آداب سکھاتےہیں، روڈ کیسے استعمال کیا جائے، سڑک پر دائیں چلیں کہ بائیں، وہ کیا احتیاطی تدابیر ہیں جن کو اختیار کر کے ہم حادثات سے بچ سکتے ہیں۔ اور اگر کوئی حادثہ ہو جائے تو اس صورت میں ہم کیسے کسی کی مدد کر سکتے ہیں۔ یہ موضوع ہم جماعت اول سے ہر کسی کو سکھا رہے ہیں، حتیٰ کہ یونی ورسٹی لیول کو بھی۔

دوسرا موضوع ہے آگ سے بچاؤ کی تدابیر اور آگ سے نپٹنے کی صلاحیت، اگر کسی گھر، اسکول، آفس یا محلے میں چھوٹی موٹی آگ لگ جائے تو اس پر کیسے قابو پایا جائے، یا اپنی جان کیسے بچائی جائے۔ ہمارے یہاں جگہ جگہ آگ بجھانے کے آلات موجود ہوتے ہیں مگر ہم ان کے استعمال سے ناواقف ہیں۔ لوگوں کو آگ کے بنیادی عناصر نہیں پتہ جس کے سبب وہ بھڑکتی آگ کو پھیلنے سے روک نہیں پاتے۔ یہ ہم بچوں کو سکھا رہے ہیں اور اس کا بہت مثبت اثر دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بچوں نے بہت دلچسپی لی اور ہمیں اس کے بارے میں بتایا۔

تیسرا موضوع ہے ہنگامی صورتحال سے نپٹنا جسے ایمرجنسی رسپانس کہا جاتا ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کے لئے آپ کو ہمہ وقت ذہنی طور پر آمادہ ہونا چاہیئے۔ اور ساتھ ساتھ اس کی صلاحیت بھی ہونی چاہیئے۔ جیسے کہ سوتے ہوئے اگر کوئی مکھی مچھر ہمیں تنگ کرے تو ہم جاگ نہیں پڑتے بلکہ سوتے میں ہی اسے بھگا دیتے ہیں یا مار دیتے ہیں۔ ایمرجنسی رسپانس ایسے ہی ریفلیکس ایکشنز ہوتے ہیں جو ہمٰیں کسی بھی نا موافق صورتحال میں بچاؤ فراہم کرتا ہے۔ ہمیں ان باتوں کو اپنی زندگی میں اس طرح منطبق کرلیں کہ بوقت ضرورت ہم کسی بھی ایمرجنسی سروس کو کال کر کے مدد طلب کریں۔ اور ممکن ہو تو لوگوں کی مدد کریں۔ اس میں ہم تمام ایمرجنسی نمبرز بچوں کو یاد کرواتے ہیں۔ کال کرنے کا طریقہ سکھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ دیگر چھوٹی چھوٹی باتیں سکھاتے ہیں جیسے کوئی حادثہ ہو جائے تو سڑک پر مجمع نہ لگائیں، مضروب کو سڑک سے سائیڈ پر منتقل کریں۔  یا اگر کوئی بے ہوش ہو گیا ہے تو اسکے گرد مجمع نہ لگائیں اور اسے ہوا لگنے دیں۔

چوتھا موضوع ہے ابتدائی طبی امداد۔ یہ ہم آٹھویں جماعت سے شروع کرتے ہیں۔ اس کے لئے ہم ہلال احمر اور اس جیسے دیگر اداروں کے تعاون سے بچوں کو تربیت فراہم کرتے ہیں۔

یہ تمام تربیت ہم متعلقہ پیشہ ور اداروں کے تعاون سے فراہم کرتے ہیں جس کے لئے ہم نے ان اداروں سے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر رکھے ہیں۔ انہیں اداروں کے نصاب کو ہم عوام تک پہنچا رہے ہیں۔

تسنیم نیوز:اچھا یہ بتائیں ایدھی صاحب کہ کوئی والینٹیئر یا رضاکار اگر آپ کے ساتھ کام کرنا چاہے تو کیا طریقہ کار ہے؟ جیسے عبدالستار ایدھی صاحب کے پاس رضاکار خدمت کے لئے آتے تھے اور وہ وہاں اپنی صلاحیت اور وقت دیتے تھے۔

علی رضا ایدھی: ہمارے پاس اکثریت رضاکاروں کی ہی ہے، اور مزید بھی لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو کر اس مقصد میں مدد کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس جتنے لوگ کام کر رہے ہیں وہ رضاکارانہ طور پر اپنی صلاحیت اور وقت ہمیں دیتے ہیں۔ ہم انہیں اپنے ساتھ لیکر جاتے ہیں جہاں ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ جو کچھ وہ سیکھنا چاہتے ہیں ہم سے سیکھتے ہیں۔

تسنیم نیوز: آپ نے اپنے نام کے ساتھ عبدالستار ایدھی سے متاثر ہو کر ایدھی کا لاحقہ لگایا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ بیان کیجیئے؟

علی رضا ایدھی: بچپن سے ہی مجھے دوسروں کی خدمت کا شوق تھا، کبھی کسی کا پانی بھر دیا، کسی کا سودا سلف لا دیا۔ کچھ بڑا ہوا تو اسکاؤٹنگ میں جو کچھ سیکھا اس کے مطابق لوگوں کی مدد کرتا تھا۔ حادثات کے زخمیوں کو روڈ سے اٹھا کر ہسپتال پہنچا دیتا تھا۔ لوگ میرا مزاق اڑاتے تھے کہ یہ بھی عبدالستار ایدھی ہو گیا ہے۔ مگر میرے لئے یہ اعزاز کی بات تھی۔ مگر ایدھی صاحب کی زندگی میں میری جسارت نہیں تھی کہ میں ان کا نام اپنے نام سے جوڑ سکوں۔ گذشتہ برس جب ایدھی صاحب کی رحلت ہوئی تو میں نے اپنے آپ کو روحانی طور پر یتیم محسوس کیا۔ میں نے اس وقت تہیہ کیا میں اپنےزبان و الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے کام سے ایدھی صاحب کو خراج عقیدت پیش کروں گا۔ جو بھی کام کروں اس کو ایدھی صاحب کی نذر کروں۔ کیوں کہ میں نے مستقل مزاجی ایدھی صاحب سے سیکھی ہے۔ انہوں نے دائیں بائیں دیکھنے کے بجائے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھی اور اپنے کام میں جٹے رہے۔ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ اللہ پاک مجھے مستقل مزاجی عطا کرے تا کہ میں اپنا کام دیانت داری سے کرتا رہوں۔ میں اپنی زندگی میں جتنا بھی کام کروں وہ میں اپنے پیارے وطن پاکستان کو اور عبدالستار ایدھی کو ہدیہ کرتا ہوں۔ ایدھی صاحب کی کاوش اور جدوجہد نے مجھ میں وہ جذبہ اور ولولہ پیدا کیا کہ میں انسانیت کی خدمت کر سکوں۔

تسنیم نیوز:آخر میں نوجوانوں کے لئے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ کیونکہ نوجوان ہی آنے والے وقت میں ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔

علی رضا ایدھی: میں آنے والی نسلوں سے صرف ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ میں نہ صرف یہ پڑھا سکھا رہا ہوں بلکہ پیغام بھی یہی دینا چاہتا ہوں۔ ہمارے معاشرے میں بسنے والے پاکستانیوں میں انسانیت کی شدید کمی ہے۔ انسان دوستی کی شدید کمی ہے۔  ہم انسان بنیں، پاکستان بنیں۔ صرف ایک جملہ نوجوان نسل کے لئے پیغام ہے۔

"انسان بنو، پاکستان بنو"

تسنیم نیوز:بہت شکریہ، بڑی نوازش علی رضا ایدھی صاحب آپ نے وقت دیا، انشاءاللہ آئندہ بھی آپ کو پروگرام میں لینے کی کوشش کریں گے۔

علی رضا ایدھی: فی امان اللہ

فخر پاکستان علی رضا ایدھی بہت اہم پروگرام " پاکستان ایمرجنسی رسپانس لرننگ پروگرام " پر کام کر رہے ہیں۔ ڈزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے آنے والی نسلوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ یہ کام دیگر ادارے بھی کر رہے ہیں مگر اس کا نیا پہلو جو دیکھنے میں آیا ہے وہ یہ کہ جب آپ بڑھتے ہوئے بچوں کو، چھوٹی کلاسز کے بچوں کو یہ سکھائیں گے تو اس کا اثر نہ صرف ان کی زندگی تک محدود رہے گا بلکہ وہ آنے والی نسلوں تک یہ تربیت بہتر طریقے سے منتقل کر سکیں گے۔ پاکستان کے سپوت علی رضا ایدھی صاحب نے بتایا کہ ہم بچوں کو بتائیں کہ آگ کی کیمسٹری کیا ہے اور ہم کیسے آگ لگنے سے بچ سکتے ہیں۔ ہنگامی صورتحال سے کیسے نپٹا جا سکتا ہے؟ کسی کی مدد کیسے کی جا سکتی ہے؟ ایمرجنسی اداروں سے مدد کیسے طلب کی جا سکتی ہے۔ اگر یہ پروگرام اسی طرح چلتا رہا تو آنے والے وقت میں ہم پاکستان میں ایک انسان دوست اور ہمدرد معاشرہ تشکیل دے پائیں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری