پاک - چین بارڈر پر نہ گیٹ اور نہ ہی سبز ہلالی پرچم !

خبر کا کوڈ: 1489286 خدمت: پاکستان
آغا راحت حسین الحسینی

مرکزی جامع امامیہ مسجد گلگت کے امام جمعہ والجماعت کا کہنا ہے کہ خنجراب میں پاکستان کی طرف نہ گیٹ ہے اور نہ ہی سبز ہلالی پرچم حتی کہ سیاحوں کے بیٹھنے کے لئے آرام گاہ اور واش روم تک کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

تسنیم نیوز نے علاقائی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ مرکزی جامع امامیہ مسجد گلگت کے امام جمعہ والجماعت سید راحت حسین الحسینی کا نماز جمعہ کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاک چین بارڈر قوم کے لئے شرمندگی کا باعث ہے، سرحد پار باڑ لگا ہوا ہے، قدم قدم پر چین کے جھنڈے لہرا رہے ہیں، سرحد پر تعینات ہشاش بشاش اور منظم چینی محافظین کا یونیفارم اور انہیں دستیاب وسائل دیکھ کر ہر انسان کو رشک آتا ہے۔

سید راحت نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اربوں روپے ٹیکس کی صورت میں آمدنی فراہم کرنے والی سرحد خنجراب میں حالات نازک ہیں، وہاں پر قائم چوکی کے دروازے پر پاکستان کا صرف ایک جھنڈا لگا ہوا ہے جو کہ دور سے نظر بھی نہیں آتا ہے۔

سید راحت نے مزید کہا کہ پاکستان کی طرف سے سہولیات کا فقدان ہے ایک زندہ قوم کی حیثت سے یہ صورت حال ہر پاکستانی کے دل کو آزردہ کرتی ہے حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے سیاحوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سید راحت حسین الحسینی نے کہا کہ پاک چین بارڈر سے ملک میں سب سے زیادہ زر مبادلہ حاصل ہو رہا ہے اربوں روپے آمدنی دینے والے پاک چین سرحد کی حالت زار قابل رحم ہے۔

سید راحت حسین الحسینی نے فورس کمانڈر، چیف سیکریٹری اور آئی جی پی سے اپیل کی ہے کہ پاک چین سرحد خنجراب میں پاکستان کا الگ گیٹ تعمیر کیا جائے تاکہ سیاحوں کو سہولیات دستیاب ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ خنجراب سرحد پر تعینات سرحدی محافظین کو چین کے سیکیورٹی گارڈز کے عین مطابق مراعات و سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے فرائض بہترین انداز میں انجام دیے سکیں۔

سید راحت کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پاک - چین سرحد پر گیٹ تعمیر نہیں کر سکتی ہے تو ہمیں موقع دے، چینی سرحد میں باب پاکستان تعمیر کر کے عظیم پاکستان کا جھنڈا لہرائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے چین برآمد کی جانے والی اشیا کی نہ صرف چیکنگ ہوتی ہے بلکہ پوری گاڑی کی کمپیوٹرائز سکیننگ کی جاتی ہے، اگر کسی فرد سے منشیات بر آمد ہو جائے تو اسے پھانسی دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی طرح پاکستانی حکام کو بھی چاہئے کہ چیکنگ کا جدید ترین نظام قائم کرکے چین سے درآمد کی جانے والی منشیات خصوصا شراب سمیت ممنوعہ چیزوں پر سختی سے پابندی عائد کرے۔

سید راحت کا یوم آزادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بہت سی قربانیوں کے بعد وطن عزیز پاکستان معرض وجود میں آیا ہے۔

زندہ و تابندہ قوموں کی طرح یوم آزادی کے دن کو شایان شان انداز میں منا یا جائے تاکہ وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کے مذموم مقاصد خاک میں مل سکیں۔

نماز جمعہ کے  عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سید کا کہنا تھا کہ قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت کے بعد پاکستان کا قیام ممکن ہوا۔

انہوں نے کہا کہ  یو م آزادی پاکستان کو جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے اور گھروں اور گاڑیوں پر سبز ہلالی جھنڈے لگا کر وطن سے محبت اور زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی سالمیت اور بقاء کے لئے ہر فرد کو انفرادی اور اجتماعی طور پر کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ کوئی بھی اس ملک کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری