افغان طالبان: فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی جائے/ طالبان کے شیعوں کیساتھ بہترین مراسم ہیں

خبر کا کوڈ: 1490162 خدمت: اسلامی بیداری
والی خودخوانده طالبان در سرپل

افغان طالبان نے صوبہ سرپل کے علاقے "میرزاولنگ" میں ہونے والی جھڑپوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گروہ کے شیعوں کیساتھ بہترین اور نیک روابط ہیں جبکہ طالبان کیخلاف کابل حکومت کے پروپیگنڈوں کو بے نقاب کرنے کیلئے حقیقت یاب کمیٹی تشکیل دی جائے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق افغان طالبان نے صوبہ سرپل کے اپنے نام نہاد گورنر عطاءاللہ کے حوالے سے ویڈیو جاری کرتے ہوئے "میرزاولنگ" نامی علاقے میں جھڑپوں پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔

افغان طالبان نے اپنے گورنر کی گفتگو پر مبنی ویڈیو جاری کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ کابل حکومت اس گروہ کیخلاف غلط پروپیگنڈا کررہی ہے جبکہ ان سازشوں کو بے نقاب کرنے کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل ناگزیر ہے۔

افغان طالبان گورنر کا کہنا ہے کہ اس گروہ کے اہل تشیع کیساتھ نیک روابط ہیں۔

انہوں نے اس ویڈیو میں کہا ہے کہ امت اسلامی کے اصلی فرزندان قابض حکومتوں کے ظلم و ستم کے سامنے دیوار کی طرح کھڑے رہیں اور بیرونی طاقتیں شکست کھائیں گے۔

عطاء اللہ کا کہنا تھا کہ میرزاولنگ میں قتل عام بیرونی طاقتوں اور کابل حکومت کا جھوٹا پروپیگنڈا ہے جو عالمی میڈیا کی زینت بن چکا ہے۔

افغان طالبان نے وضاحت کی کہ یہ اہل تشیع اور ہزارہ قوم کا پہلا علاقہ نہیں ہے جو طالبان کے قبضے میں آیا ہے جبکہ اس گروہ نے اس سے قبل بھی حکومتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران وسیع و عریض شیعہ اکثریتی  علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لیا ہے اور وہاں کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔

اس ویڈیو کے مطابق اہلسنت اور اہل تشیع کے آپس میں بہترین روابط ہیں، ہمسایہ ہیں اور دہائیوں سے ایک ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

اس ویڈیو کی گفتگو میں آیا ہے کہ اس سلسلے میں ایک حقیقت یاب کمیٹی تشکیل دی جائے اور یہ کمیٹی مشاہدہ کریگی کہ اس علاقے میں عام شہریوں کی ہلاکت واقع نہیں ہوئی ہے اور کسی کو بھی ٹکڑے ٹکڑے نہیں کیا گیا ہے جبکہ بعض عناصر نے ان جیسے جھوٹے الزامات سے میڈیا پر بھرمار شروع کی ہے۔      

افغان طالبان نے ایک بار پھر تاکید کی کہ اس موضوع کو بے نقاب کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔

ویڈیو کے آخر میں افغان طالبان کے گورنر نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے شیعوں کے ساتھ بہترین اور نیک مراسم ہیں جبکہ بعض عناصر نے اس سے قبل بھی روس کیساتھ جنگ کے دوران قومی اور مذہبی تفرقے کو ہوا دینے کیلئے کوششیں کی تھیں جن کی طرف توجہ کرنا بے سود ہے۔

واضح رہے کہ بعض ذرائع ابلاغ نے گزشتہ دنوں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کے صوبہ سرپل کے علاقے میرزاولنگ میں افغان طالبان کے ہاتھوں درجنوں شیعوں کا قتل عام ہوا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری