بلوچستان میں سیکورٹی فورسز پر پھر حملہ، 6 اہلکار شہید اور 3 زخمی

خبر کا کوڈ: 1491970 خدمت: پاکستان
ایف سی اہلکار

بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایف سی کے 6 اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ شرپسندوں نے ہرنائی کے علاقے خوست میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے نشانہ بنایا، جس میں 3 سیکورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

زخمی اہلکاروں کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔

سینئر افسر کا کہنا تھا کہ دھماکے سے ایف سی کی گاڑی کو بھی بُری طرح نقصان پہنچا۔

دھماکے کے وقت ایف سی اہلکار معمول کے گشت پر تھے۔

دھماکے کے فوری بعد ایف سی اور لیویز اہلکاروں کی بڑی تعداد جائے وقوع پر پہنچ گئی، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنا اللہ زہری نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے اس واقعے میں ملوث عناصر کو ہم نہیں چھوڑیں گے۔

سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کا واقعہ اس دن پیش آیا جب پورا ملک اپنا 70واں جشن آزادی منا رہا ہے اور ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں سبز ہلالی پرچم لہرائے جارہے ہیں اور ہر گلی، محلہ برقی قمقموں سے جگمگا رہا ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے پشین اسٹاپ کے علاقے میں ہونے والےخودکش دھماکے میں 8 فوجی اہلکاروں سمیت 15 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

دھماکا ہائی سیکیورٹی زون میں ہوا تھا جس کے قریب ایف سی ہاسٹل واقع ہے جبکہ بلوچستان اسمبلی، کوئٹہ لاء کالج اور نجی ہسپتال بھی دھماکے کی جگہ کے قریب واقع ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان میں کہا گیا کہ ’دھماکے میں سیکیورٹی کی آن ڈیوٹی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ زخمیوں میں بھی 10 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔‘

بیان کے مطابق ’دھماکے میں بھاری مقدار میں بارودی مواد استعمال کیا گیا، جس سے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگی۔‘

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری