داعش ایک خطرناک وائرس ۔۔۔ (گیارہویں قسط)

خبر کا کوڈ: 1492607 خدمت: مقالات
داعش

اس قسط میں داعش کے تنظیمی اتار چڑھاؤ پر روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: عراق میں دہشت گرد اور تکفیری گروہ داعش کی بنیاد ابومصعب زرقاوی نے رکھی۔ زرقاوی کو ایک بے رحم اور وحشی شخص کے طور پر جانا  جاتا تھا۔ اس کے مظالم میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ اپنی جانوں‎ سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے کہ القاعدہ کے اس وقت کے دوسرے بڑے سرغنے یعنی ایمن الظواہری نے اس قدر زیادہ قتل عام کی وجہ سے زرقاوی سے گلہ اور شکایت کی تھی۔ زرقاوی سنہ دو ہزار چھ میں ہلاک ہوگیا۔ اس کے بعد مجلس شورائے مجاہدین نے ایک اعلامیہ جاری کیا۔ اس اعلامیے میں ابوعمر البغدادی کی قیادت میں نام نہاد "دولت اسلامی عراق" کی تشکیل کا اعلان کیا گیا۔ قرائن اور دستاویزات کے مطابق صدام کی معزول حکومت کے حامی بعثی پارٹی کے بعض اراکین کا نام نہاد دولت اسلامی عراق کے عناصر کے ساتھ بہت قریبی تعلقات تھے۔ اس گروہ نے عراق میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیں۔ ابوعمر البغدادی سنہ دو ہزار دس میں ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد ابوبکر البغدادی نام نہاد دولت اسلامی عراق کا لیڈر بن گیا۔ سنہ دو ہزار گیارہ میں شام میں بدامنی شروع ہونے کے بعد سلفیوں اور وہابیوں کے انتہاپسندی اور تکفیری گروہوں نے اپنے آپ کو منظم کیا اور کرائے کے دہشت گردوں کو اکٹھا کر کے شام کی حکومت کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ القاعدہ سے وابستہ جبھۃ النصرہ نامی گروہ بھی اس میدان میں کود پڑا۔ ابوبکر البغدادی نے شروع میں جبھۃ النصرہ کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی تاکہ شام کی حکومت کے خلاف متحدہ محاذ بنایا جاسکے۔ لیکن القاعدہ اور جبھۃ النصرہ نے اس گروہ میں ضم ہونا قبول نہ کیا۔ اور جبھۃ النصرہ سے ہی وابستہ رہا۔ یوں اپریل سنہ دو ہزار تیرہ میں دولت اسلامی عراق و شام کے نام سے ایک دہشت گرد گروہ  وجود میں آیا جس کو اختصار کے ساتھ داعش کا نام دیا گیا۔ داعش اگرچہ القاعدہ سے ہی وجود میں آیا ہے لیکن اس کے بعض طریقے القاعدہ سے مختلف ہیں۔

داعش مزید علاقوں پر قبضہ کر کے اپنے زیر قبضے علاقے میں توسیع کرنے کے درپے ہے۔ اس گروہ نے اپنی قلمرو میں توسیع کے لئے شام کے بعض حصوں خصوصا اس ملک کے شمال مشرقی علاقوں پر قبضہ کیا۔ داعش نے عراق پر حملہ کر کے اس ملک کے بعض علاقوں پر بھی قبضہ کرلیا۔ جون سنہ دو ہزار چودہ میں دہشت گرد گروہ داعش نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر لیا۔  اس کے بعد انتیس جون سنہ دو ہزار چودہ میں داعش نے اعلان کیا کہ اس نے اسلامی خلافت قائم کر دی ہے اور اس نے ابوبکر البغدادی کو مسلمانوں کا خلیفہ قرار دیا۔ اس وقت عراق کے بعض شمالی اور مغربی علاقوں اور شام کے بعض شمالی اور جنوبی علاقوں پر داعش کا قبضہ ہے۔ عراق میں بڑے پیمانے پر شمالی افریقہ، یورپی ممالک، وسطی ایشیا اور مشرقی ایشیا کے شہری داعش میں شامل ہوئے اور یوں شام بھی مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کا اڈا بنا۔ خطے کے بعض ممالک کی حمایت اور یورپی حکومتوں کے تعاون کے بغیر شام میں دہشت گردوں کا اس طرح اکٹھا ہونا ممکن نہیں تھا۔ تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کی تشکیل کے سلسلے میں جو بھی سناریو مدنظر رکھا جائے ایک بات بہرحال مسلمہ ہے وہ یہ کہ ان گروہوں کی جڑیں انتہا پسند وہابیت اور سلفیت میں پیوست ہیں اور ان کی کوئی جائز دینی بنیاد نہیں ہے۔ اس گروہ نے عراق اور شام میں وحشتناک مظالم کا ارتکاب کیا۔ بچوں، خواتین اور مردوں کو بدترین طریقوں سے قتل کرتے ہیں، افراد کو زندہ آگ میں جلا دیتے ہیں، قیدیوں پر بدترین تشدد کرتے ہیں، خواتین کو کنیزیں بناتے ہیں، شہروں کو ویران اور لوگوں کے مال کی لوٹ مار کرتے ہیں۔ مشرقی وسطی کے ممالک کے عوام دوسرے ملکوں کی نسبت زیادہ ان کے دہشت گردانہ اور مجرمانہ اقدامات کی زد میں ہیں۔ پرنسٹن یونیورسٹی (Princeton University) میں مشرق قریب اسٹڈیز کے پروفیسر برنارڈ ہیکل کا وہابیت کے ساتھ داعش کے تعلق کے بارے میں کہنا ہے کہ "داعش ایک طرح کی بے لگام وہابیت ہی ہے۔ وہابیت اور داعش کے درمیان بہت ہی قریبی تعلق پایا جاتا ہے اور تشدد ان کے نظریات کا ایک حصہ ہے۔"

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری