سندھ کی 1100 شخصیات پرکرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات

خبر کا کوڈ: 1494200 خدمت: پاکستان
سندھ حکمران

سیاستدانوں اور سرکاری افسران سمیت سندھ کی تقریبا ً 1100 شخصیات کے خلاف نیب کے تحت کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے تحت انکوائریاں چل رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سیاستدانوں اور سرکاری افسران سمیت سندھ کی تقریبا ً 1100 شخصیات کے خلاف نیب کے تحت کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے تحت انکوائریاں چل رہی ہیں اور کیسز قائم کئےگئے ہیں، ان میں متعدد صوبائی وزرا، اراکین اسمبلی اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی شامل ہیں۔

ایکسپریس نیوز نے لکھا ہے کہ یہ اعداد و شمار محکمہ قانون سندھ کی جانب سے مرتب کردہ ایک رپورٹ میں دیے گئے ہیں جو حال ہی میں وزیر اعلیٰ سندھ کو ارسال کی گئی تھی۔ ملزم سیاستدانوں میں ڈاکٹر عاصم حسین، شرجیل انعام میمن، وزیر داخلہ سہیل انور سیال، وزیر قانون ضیا الحسن لنجار، وزیربرائے فشریز و لائیواسٹاک محمد علی ملکانی،سابق وزیر ثقافت شرمیلا فاروقی، رکن اسمبلی فقیرداد کھوسو، عبدالستار بچانی،سابق وزرا پیرمظہرالحق،دوست محمد راہموں،گیان چند ایسرانی،بابرغوری،عادل صدیقی اوردیگر شامل ہیں۔

جبکہ ملزم  اعلیٰ سرکاری افسران میں سابق چیف سیکریٹری صدیق میمن، سابق ممبربورڈ آف ریونیو شازر شمعون،سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز بدر جمیل میندھرو، سابقہ آئی جی پولیس غلام حیدر جمالی، سیکریٹری لینڈ یوٹیلائیزیشن آفتاب میمن، سہیل اکبر شاہ، مصطفی جمال قاضی، قاضی جان محمد، سابقہ سیکریٹری لیبر نصیر حیات، سابقہ سیکریٹری علی احمد لوند، آئی جی محکمہ مائینز خالد مرزا،اسسٹنٹ کمشنر آفتاب علی شاہ اور دیگر شامل ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری