ایران اور ترکی کرد ریفرنڈم کے حوالے سے ایک پیج پر ہیں، جنرل باقری

خبر کا کوڈ: 1494328 خدمت: ایران
سرلشکر باقری

اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران اور ترکی کردستان میں ہونے والے ممکنہ ریفرنڈم کے سخت مخالف ہیں۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ کا کہنا ہے عراقی کردستان کے بارے میں ترکی اور ایران کا ایک ہی نقطہ نظر ہے اور دونوں ممالک عراق کے اتحاد پر تاکید کرتے ہیں۔

باقری کا کہنا ہے کہ کردستان میں ریفرنڈم سے خطے کو سخت نقصان پہنچے گا خاص کر عراق، ایران اور ترکی اس سے زیادہ متاثر ہونگے۔

باقری کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ عراق متحد رہے۔

مسلح افواج کے سربراہ نے ترکی اور ایران کے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان صدیوں پرانے تعلقات قائم ہیں اور دونوں ممالک کی سرحدیں پُرامن اور محفوظ ہیں۔

ایرانی مسلح افواج کے سپہ سالار نے کہا کہ ترک، ایران کا اہم ہمسایہ ملک ہے جس کو خطے اور عالم اسلام میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور ترکی کے تعلقات کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو یہ پہلی بار ہے کہ دونوں ممالک کے عسکری حکام کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہورہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، جنرل باقری کا یہ دورہ ان کے ترک ہم منصب جنرل خلوصی آکار کی دعوت پر ہوا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے اعلیٰ فوجی اور سیاسی وفد میں نائب وزیر خارجہ برائے ایشیا-پسیفک ابراہیم رحیم پور، سپاہ پاسدران انقلاب اسلامی کی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد خاکپور، مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف برائے سیکورٹی اور انٹیلی جنس امور بریگیڈیر جنرل غلام رضا محرابی، سرحدی پولیس فورس کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل قاسم رضائی اور دیگر سنیئیر دفاعی حکام شامل ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری