ڈاکٹر عظمیٰ متین کا "فکر حمید گل کنونشن" پر تبصرہ

خبر کا کوڈ: 1494468 خدمت: مقالات
حمید گل

خبر رساں ادارے تسنیم نے گزشتہ روز تحریک نوجوانان پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والے "فکر حمید گل کنونشن" کی کوریج کی تھی جس پر ڈاکٹر عظمیٰ متین نے تبصرہ کیا ہے جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے گزشتہ روز تحریک نوجوانان پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والے "فکر حمید گل کنونشن" کی کوریج کی تھی جس پر ڈاکٹر عظمیٰ متین نے تبصرہ کیا ہے جس کا متن من و عن پیش خدمت ہے۔ 

سلام، تسنیم نیوز کے لئے

آج خبر رساں ادارے تسنیم کے ٹیلیگرام چینل پر ایک خبر نظر سے گزری جس نے بے ساختہ قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ خبر تحریک نوجوانان پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والے آئ ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کی برسی کے پروگرام سے متعلق تھی۔

بظاہر یہ نوجوان کرپشن فری پاکستان، عدلیہ کی آزادی اور نرم انقلاب کا شعار بلند کر رہے ہیں مگر اس نرم انقلاب کی ایک جھلک جنرل صاحب کے فرزند ارجمند کے بیان میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے کہ اگر مطالبات پر عمل ہوتا نظر نہ آیا تو لاکھوں نوجوانوں کے ہمراہ ایک سپاہی کی صورت سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔

گئے زمانوں کے کسی شاعر نے شائد انہی کے لئے کہا تھا؛

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

فکر جنرل حمید گل نامی اس کنونشن کے نمایاں شرکاء میں سے ایک نام مولانا سمیع الحق کا ہے۔ جن نوجوانوں کی فکری تربیت ان کے ہاتھوں انجام پائے گی اور جس معاشرے کی تشکیل اقدار یہ لوگ کریں گے اس کی ایک جھلک Adlous Huxley کے ایک مضمون میں دکھائی دیتی ہے۔ یہ مغربی مفکر اور فلسفی اپنے ایک مضمون میں ان لوگوں کے بے رحمانہ متشدد رویوں کی نشاندہی کرتا ہے جو بزعم خود انسانیت کی نجات کے علمبردار ہیں۔ وہ تاریخ کے جھروکوں سے سسٹر سسیلیا کی زبانی تیرھویں صدی عیسوی کے ایک چرچ کا منظر دکھاتا ہے۔ سینٹ ڈومینک نوجوان رھباوں کے ایک گروہ کے درمیان وعظ فرما رہے ہیں کہ یکایک کسی چھوٹے سے روزن سے ایک ننھی سی چڑیا ہال میں داخل ہوتی ہے اور ان کے سروں پر منڈلانے لگتی ہے۔ اس ننھی سی چڑیا کی معصوم سی پرواز سینٹ ڈومینک کو ناگوار محسوس ہوتی ہے کہ ان کے بیان میں خلل کا سبب ہوئی ہے۔ اسے شیطانی روح کا مظہر قرار دیتے ہوئے حکم صادر کرتے ہیں کہ اسے زندہ پکڑ کر ان کے حوالے کیا جائے۔ حکم کی تعمیل کی جاتی  ہے۔ اذیتناک منظر یہ ہے کہ یہ نام نہاد سینٹ اس معصوم چڑیا کو قرار واقعی سزا دینے کے لئے ایک ایک کر کے اس کے پر نوچتا ہے۔ چڑیا درد سے تڑپتی ہے، فریاد کرتی ہے اور نوجوان رھباوں کا گروہ اس کی چیخ و فریاد پر قہقہے بلند کرتا ہے۔ ستم یہ ہے کہ وحشت و بربریت کا یہ سارا کھیل مذہب کے نام پر کھیلا جاتا ہے۔

اگر تاریخ کے آئینے میں ان کے فکری رھبروں کا کردار دیکھیں تو یہ کسی طرح بھی سینٹ ڈومینک سے کم دکھائی نہیں دیتے۔

حیران ہوں جب یہ "لاکھوں نوجوان سر پہ کفن باندھ کے ملک میں عدالت اور اسلامی نظام کے نفاذ "کے لئے نکلیں گے تو میری ارض پاک کے زخمی زخمی وجود پر کیا گزرے گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری