تحریر: آر اے سید

داعش ایک خطرناک وائرس ۔۔۔ (بارہویں قسط)

خبر کا کوڈ: 1494230 خدمت: مقالات
داعش

اس قسط میں وہابی مفتیوں کے غلط اور گمراہ کن نظریات کے چند نمونوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: وہابیت کے افکار و نظریات اور داعش کی دہشت گردی کے درمیان بہت قریبی تعلق پایا جاتا ہے۔ مظالم و جرائم کا ارتکاب کرنے والے دہشت گرد اپنے اقدامات کو جائز ثابت کرنے کے لئے وہابی مفتیوں کے فتووں کا سہارا لیتے ہیں۔ اور وہابی مفتی تکفیر پر مبنی فتوے جاری کر کے خطے میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں۔ ہم یہاں وہابی مفتیوں کے غلط اور گمراہ کن نظریات کے چند نمونوں کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ آل سعود کا مفتی اعظم عبدالعزیز آل شیخ اہل تشیع پر حملوں کو جائز قرار دیتا ہے جبکہ امریکہ کے خلاف نعرے لگانا حرام سمجھتا ہے اور  اس نے غزہ پٹی اور فلسطین کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے جلوس نکالنے کو ممنوع قرار دے رکھا ہے۔ اس کے نزدیک حزب اللہ کی مدد اور اس کے لئے دعا کرنا حرام ہے۔ وہ یزید کے خلاف امام حسین علیہ السلام کے قیام کو باطل جانتا ہے اور کہتا ہے کہ یزید کے خلاف ان کا قیام خلافت کے خلاف جارحیت تھی اس لئے امام حسین علیہ السلام کا قیام جائز نہیں تھا"۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب یزید کی حکومت ایک باطل حکومت تھی اور حضرت امام حسین علیہ السلام نے دین محمدی کو امویوں کے چنگل سے نجات دینے کے لئے اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جانیں اسلام کی راہ میں قربان کی تھیں۔  

عجیب بات یہ ہے کہ آل سعود سے وابستہ مفتیوں نے انسانوں کے قتل عام اور تشدد کی روک تھام کے لئے ابھی تک کوئی ایک فتوی بھی جاری نہیں کیا ہے۔ بلکہ اس کے برخلاف ان کے فتوے مسلمانوں کے قتل عام اور ان پر تشدد روا رکھنے کے سلسلے میں ہی ہوتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کے مدارس اور مکتب سے دوستی اور اسلامی اخوت و اتحاد کی بھی کوئی آواز بلند نہیں ہوتی ہے۔ وہ ملت اسلامیہ کے ایک حصے یعنی اہل تشیع کے کفر اور قتل کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ مثلا گیارہ جون سنہ دو ہزار آٹھ کو بائیس وہابی ملاؤں نے کھلے بندوں اہل تشیع کو کافر اور ان کے قتل کے لئے ہتھیار ساتھ رکھنے کو جائز  قرار دیا تھا۔ یہ فتوی دینے والوں میں شیخ عبداللہ بن جبرین اور عبدالرحمان بن ناصر البراک سرفہرست تھے۔ جن وہابی مراکز سے مسلمانوں خصوصا اہل تشیع کے خلاف اس طرح کے فتوے جاری کئے جاتے ہیں وہ حقیقت میں دہشت گردی کی ترویج اور دہشت گردوں کو پروان چڑھانے کے اڈے ہیں۔ مصر کے اخبار المقال کے چیف ایڈیٹر ابراہیم عیسی کا کہنا ہےکہ وہابیت اسلامی دنیا کو لاحق بیماری ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت طیبہ اور قرآن کریم کی تعلیمات کے مطابق لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کی بنیاد رحمت، مہربانی، استدلال، منطق اور زندگی کی سطح بلند کرنے والی تعلیمات ہیں۔ لیکن تکفیری گروہوں کے اقدامات مکمل طور پر قرآن کریم کی تعلیمات کے منافی ہیں۔ تکفیری گروہوں کی سوچ، زبان اور ان کا کردار دوسروں کو کافر قرار دینے، تشدد کرنے اور ظلم ڈھانے سے عبارت ہے۔ یہ گروہ اپنے غلط نظریات کی وجہ سے کسی دوسرے کے نظریئے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ ان کو نفی اور اسے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ تکفیری دہشت گرد گروہ شام اور عراق میں لوگوں کے قتل عام کرنے اور ان کا مال و دولت لوٹنے کے علاوہ شرک کے مقابلے کے بہانے زیارت گاہوں، مساجد اور آثار قدیمہ کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ تباہی و بربادی ظاہری طور پر شرک کے مقابلے کے بہانے انجام دی جاتی ہے لیکن یہ اسلامی ممالک کی ثقافتی میراث کو لوٹنے پر مبنی ایک اقدام بھی ہے۔

چنانچہ دہشت گرد گروہ داعش کے تباہ کن اقدامات کے بعد عراق اور شام کے بہت سے منفرد تاریخی آثار قدیمہ بھی دلالوں کے ذریعے یورپی ممالک میں اسمگل کر کے ان ممالک کے عجائب گھروں میں پہنچا دیئے گئے۔ اس اقدام سے پتہ چلتا ہےکہ یہ دہشت گرد گروہ بعض دینی نعرے لگا کر ناجائز اہداف کے درپے ہیں۔ البتہ تکفیری دہشت گرد گروہوں کی جانب سے تاریخی اور مذہبی مقامات کے انہدام کے بہت منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

تمدنی شناخت، تشخص کا ایک ایسا اہم پہلو ہے جو کسی ایک دین سے وابستہ تمام افراد کو آپس میں ملاتا ہے۔ تکفیری گروہوں نے اعتقاد اور سیکورٹی کے لحاظ سے اسلامی دنیا کے لئے بہت سے مسائل کھڑے کر دیئے ہیں اس کے علاوہ تمدن کے اعتبار سے بھی یہ گروہ اسلام کے تمدنی تشخص سے تضاد رکھتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری