اداروں کے درمیان محاذ آرائی نہیں، اپنا دفاع کرنا ہر شخص کا حق ہے، وزیراعظم پاکستان

خبر کا کوڈ: 1496222 خدمت: پاکستان
خاقان عباسی

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ کسی ادارے کی کسی ادارے کے ساتھ نا تو کوئی محاذ آرائی ہے اور نا ہوگی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق کوئٹہ میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال، قادر بلوچ، وزیر اعلیٰ و گورنر بلوچستان اور کمانڈر سدرن کمانڈ نے بھی شرکت کی۔  چیف سیکرٹری بلوچستان اورنگزیب حق نے اجلاس میں امن و امان کے حوالے سے بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور ہم عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنا کر دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں صوبے میں ترقیاتی کاموں اور بالخصوص سی پیک منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔  نوازشریف کےاعلان کردہ منصوبوں کو آگے بڑھایا جائے گا بلوچستان کے ہر ضلع میں ہیلتھ  کارڈ کا اجراء اور گیس کے منصوبے شروع کررہے ہیں جنہیں رواں سال ہی مکمل کرلیا جائے گا جب کہ ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنےکا منصوبہ 3 مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا پانی کے ذخائر کے لئے نیا منصوبہ اور کچھی کینال پربھی کام شروع ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پورے ملک کی طرح بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پانا ہماری اولین ترجیح ہے امن و امان کی صورتحال پر 2 گھنٹے گفتگو ہوئی، 2013 کے مقابلے میں  صوبے میں امن وامان کی صورت حال بہترہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منتخب حکومت ہی اسٹبلشمنٹ ہوتی ہے مسلم لیگ (ن) پورے پاکستان کی نمائندہ جماعت ہے اور اس بات کا فیصلہ پاکستان کے عوام 4 جون کے بعد کے الیکشن میں کردیں گے۔ اپنا دفاع کرنا ہر فرد اور ادارے کا حق ہوتاہے، ریفرنس فائل کرنا جس کا کام ہے وہ کرے اس کا جواب دیا جائے گا۔ منتخب حکومت ہی اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے، کسی ادارے کی کسی ادارے سے محاذ آرائی نہیں، یہ صرف اخبارات میں ہی نظر آتی ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں سینٹرل کمانڈ جنرل جوزف ایل ووٹیل سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ پاکستان افغان عوام کیلیے اپنے تعاون کے بارے میں پرعزم ہے اور 3 دہائیوں سے زائد عرصہ سے50 لاکھ افغان مہاجرین کی یہاں موجودگی سمیت دہائیوں سے جاری تعاون اس کا ثبوت ہے۔ پاکستان افغان حکومت اور معاشرے کے ساتھ افغان طلبا کیلیے اسکالر شپ اور انفرااسٹرکچر کی ترقی سمیت مختلف طریقوں سے تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

وزیر اعظم نے گفتگو میں مقبوضہ کشمیر میں ناقابل قبول انسانی حقوق کی صورتحال کا بھی حوالہ دیا جہاں بھارتی افواج بے گناہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کیلیے اٹھنے والی آواز دبانے کیلیے موجود ہیں۔ وزیراعظم نے علاقائی تشویش کے مسائل کو حل کرنے کیلیے مل کر کام کرنے کی اہمیت کے حوالے سے جنرل ووٹیل سے اتفاق کیا۔

جنرل ووٹیل نے کہاکہ افغانستان میں امن اور سلامتی کے مقاصد کے حصول کیلیے پاکستان کی بہت اہمیت ہے اورامریکا پاکستان کو اس ضمن میں بڑی اہمیت دیتا ہے، انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی جاری کوششوں کی بھرپور تعریف کی۔

ملاقات میں وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیردفاع خرم دستگیر، مشیرقومی سلامتی جنرل (ر)ناصرجنجوعہ اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی موجود تھیں۔

علاوہ ازیں یوکرین کے وزیر اعظم ولادی میر گریوسمین نے وزیر اعظم کے نام تہنیتی پیغام میں وزارت عظمی کی ذمے داریاں سنبھالنے پر مبار کباد دیتے ہوئے کہاہے کہ یوکرین پاکستان کے ساتھ تعمیری تعاون میں تسلسل کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری