تحریر: آر اے سید

داعش ایک خطرناک وائرس ۔۔۔ (تیرہویں قسط)

خبر کا کوڈ: 1496922 خدمت: مقالات
داعش

آئندہ دو تین قسطوں میں طالبان اور داعش کے اختلافات و مشترکات پر مختصر روشنی ڈالیں گے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: افغانستان میں تین عسکری گروہ سرگرم  تھے جو طالبان، حقانی گروپ اور حکمتیار کی حزب اسلامی پر مشتمل تھے۔ لیکن سنہ  2015 میں دہشت گرد گروہ داعش نے بھی افغانستان میں اپنی موجودگی کا اعلان کر دیا۔ یہ گروہ افغانستان میں ایک اہم اور موثر گروہ کے طور پر اپنی سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں ایک دہشت گرد گروہ شمار ہوتا ہے۔ یہ گروہ افغانستان کے عام شہریوں اور ملکی و غیر ملکی شخصیات پر دہشت گردانہ حملے کرتا ہے۔ یہ گروہ پبلک مقامات پر بھی دہشت گردانہ بم دھماکے کرتا ہے۔ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی آئی ایس آئی سے وابستہ ہے۔ امریکہ بھی افغان حکومت کے اس دعوے کی تصدیق کرتا ہے لیکن اسلام آباد حکومت اسے مسترد کرتی ہے۔ اگرچہ حقانی نیٹ ورک طالبان کی ہی ایک شاخ شمار ہوتی ہے لیکن حقانی نیٹ ورک نے ہمیشہ ایک الگ گروپ کے طور پر اپنی سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کی ہے۔

دوسرا گروہ گلبدین حکمتیار کی حزب اسلامی ہے۔ اس کا مرکز پاکستان میں ہے۔ یہ پہلا ایسا گروپ ہے جس نے حال ہی میں افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط  کئے ہیں۔ جس کے مطابق طے پایا ہے کہ حزب اسلامی افغانستان منتقل ہوجائے گی۔ تیسرا گروہ، کہ جو افغانستان میں سب سے زیادہ طاقتور عسکری گروہ شمار ہوتا ہے اور حکومت کے ساتھ لڑ رہا ہے وہ طالبان کا گروہ ہے۔ اس گروہ کو سعودی عرب، پاکستان اور متحدہ عرب امارات اور امریکہ کی حمایتوں سے نوے کے عشرے میں افغانستان میں مجاہدین کے مقابلے کے مقصد سے وجود میں لایا گیا۔ سنہ 2001 میں طالبان حکومت افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سرنگوں ہوگئی۔ اس کے باوجود طالبان نے دوبارہ اپنے آپ کو منظم کر لیا اور اب بھی وہ افغان حکومت کا سب سے بڑا مخالف گروہ ہے۔ اس گروہ نے افغانستان پر قبضے کے مقابلے کو ایک اہم ہدف قرار دیا ہے۔ البتہ طالبان گروہ کی قیادت پاکستان میں کوئٹہ شوری سے موسوم کمیٹی کے پاس ہے۔

اس وقت دہشت گرد گروہ داعش افغانستان میں طالبان کے ایک حریف کے طور پر اس گروہ کی پوزیشن کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے مختلف علاقوں پر قبضہ جما کر اس ملک پر اپنا تسلط قائم کرنے کے درپے ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب شروع سے ہی طالبان گروہ نے افغانستان میں دہشت گرد گروہ داعش کی کارروائیوں کے سلسلے میں اس گروہ کی بیعت کو مسترد کرتے ہوئے افغانستان میں اس گروہ کی سرگرمیوں کے بارے میں خبردار کیا۔ دہشت گرد گروہ داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی نے افغان طالبان کے سابق سرغنے ملا محمد عمر کو ایک جاہل جنگجو اور روحانیت و سیاست اور اقدار سے عاری قرار دیا تھا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان دونوں گروہوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور انہی اختلافات کی وجہ سے ان کی آپس میں لڑائی بھی ہو چکی ہے۔ اگرچہ افغانستان میں بعض حلقوں کا کہنا ہےکہ طالبان اور داعش کے مشترکات بھی ہیں لیکن ان کے اختلافات اس قدر گہرے ہیں کہ ان کی وجہ سے یہ گروہ ایک دوسرے سے الگ الگ ہوجاتے ہیں۔

اس زاویۂ نگاہ سے ان دونوں گروہوں کی مشترکہ خصوصیت اسلامی احادیث و روایات کی انتہا پسندانہ تشریح ہے۔ طالبان اسلامی امارت کے قیام پر زور دیتے ہیں جبکہ دہشت گرد گروہ داعش اسلامی خلافت کے قیام پر تاکید کرتا ہے اور دونوں گروہ اسلامی قوانین کی بنیاد پر نام نہاد اسلامی حکومت قائم کرنے پر تاکید کرتے ہیں۔ افغانستان کی قومی پارلیمنٹ کے رکن قاضی عبدالرحیم نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں طالبان اور داعش کے نظریات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ طالبان کے برخلاف دہشت گرد گروہ داعش کے نظریات عالمی رجحان کے حامل ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب طالبان کی سوچ افغانستان کی سرحدوں تک محدود ہے۔ اس کے باوجود دہشت گرد گروہ داعش اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کے اعتبار سے وہابیت کے قریب تر ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ  طالبان نہ صرف تکفیری وہابیت سے قریب نہیں ہیں بلکہ وہ اسے مسترد بھی کرتے ہیں۔

جاری ہے ۔۔۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری