صدر جے یو پی سندھ کا تسنیم نیوز کیساتھ انٹرویو؛

21 اگست "یوم اقصیٰ اسپیشل"؛ غاصب صہیونی ریاست کو ختم ہونا چاہیے + آڈیو

خبر کا کوڈ: 1497424 خدمت: انٹرویو
صدر جے یو پی سندھ

صدر جے یو پی سندھ کا کہنا ہے کہ حماس اور حزب اللہ کے مجاہدین نے جس جنگ کو اپنا خون دیکر جیتا تھا وہ ہمارے حکمرانوں نے میز پر ہار دی ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: آج دنیا بھر میں مسلمان مسجد الاقصیٰ کی شہادت کے خلاف یوم اقصیٰ منائیں گے۔

یاد رہے کہ اس دن سانحہ بیت المقدس پیش آیا جب اکیس اگست انیس سو انہتر کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلہ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد الاقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہو گیا۔ اس المناک واقعہ کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور سانحے کے ایک ہفتے کے بعد اسلامی ممالک نے مومر العالم اسلامی قائم کی تاہم انیس سو تہتر میں پاکستان کے شہر لاہور میں ہونے والے دوسرے اجلاس کے بعد چھپن اسلامی ممالک کی یہ تنظیم غیرفعال ہو گئی۔

مسجد الاقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے جو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے، مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا الحرم القدسی الشریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا قبضہ ہے، یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے، جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کر سکتے ہیں، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد الحرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد الاقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔

مسجد الاقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور معراج میں نماز کی فرضیت سولہ سے سترہ ماہ تک مسلمان مسجد الاقصیٰ کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے اور پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہو گیا۔  

اسی حوالے سے جمعیت علمائے پاکستان کے سرکردہ رہنما اور معروف عالم دین علامہ السید عقیل انجم قادری کا تسنیم نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ صہیونی عالم اسلام کے اتحاد کے مرکز و محور مسجد الاقصیٰ کو ختم کرکے یہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں، فلسطین پر صہونیوں نے زبردستی قبضہ کیا، القدس شریف پر کنٹرول کیا اور بتدریج ان کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔ گزشتہ دنوں بھی وہاں نمازوں پر پابندی عائد کی گئی، سکینر لگائے گئے، دیواروں میں کیمیکل ڈال کر مسجد الاقصیٰ کو گرانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ لیکن جہاں مسجد تعمیر ہو جائے وہ قیامت تک مسجد ہی رہتی ہے۔ ایک طرف صہونیوں کی سازش ہے، دوسری جانب امت مسلمہ کی خاموشی ہے۔ حماس اور حزب اللہ کے مجاہدین نے جس جنگ کو اپنا خون دیکر جیتا تھا، جو جنگ حزب اللہ کے مجاہدوں نے میدانوں میں جیتی تھی وہ ہمارے سیاستدانوں نے ٹیبل پر ہار دی ہے، کیمپ ڈیوڈ جیسے شرمناک معاہدے پر دستخط کئے گئے، اور غاصب ریاست کو تسلیم بھی کر لیا، صرف عالم کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے مسئلہ فلسطین ایک اہم مسئلے کی حیثیت رکھتا ہے، پوری دنیا اور خصوصا مشرق وسطیٰ کا امن فلسطین میں امن سے وابستہ ہے، فلسطین میں امن تب ہی قائم ہوگا جب فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق دیئے جائیں گے اور ان کی ریاست دوبارہ تسلیم کر لی جائے گی، ہمارا مطالبہ ہے کہ اسرائیل کا وجود ختم ہونا چاہیے، فلسطین میں امن قائم ہونا چاہیے اور اس کے لئے امت محمدی کا اتحاد اور عالم اسلام کے تمام رہنماوں کی یکسوئی اور باہمی اویزشوں کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری