تحریر: آر اے سید

داعش ایک خطرناک وائرس ۔۔۔ (چودہویں قسط)

خبر کا کوڈ: 1497785 خدمت: مقالات
داعش

طالبان کی کونسل کے رکن محمد حسن آخوند نے اس گروہ کے بعض افراد کے سلفی اور تکفیری نظریات کی جانب رجحان پر تنقید کرتے ہوئے تاکید کی ہےکہ طالبان کا مذہب سنی حنفی ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: محمد حسن آخوند نے طالبان میں سلفی اور تکفیری افکار کی جانب رجحان بڑھانے سے متعلق ہر طرح کے پروپیگنڈے کو ممنوع قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہےکہ جو بھی اس کی پابندی نہیں کرے گا اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔ افغانستان میں دہشت گرد گروہ داعش کی موجودگی کے اعلان کے بعد بھی طالبان نے ایک بیان جاری کر کے اس ملک کے عوام اور طلبہ کو خبردار کیا کہ اگر کسی کو وہابی افکار پر مشتمل کوئی کتاب نظر آئے تو اسے شہر سے باہر لے جا کر جلا دیں۔ بنابریں اسلام کے بارے میں دہشت گرد گروہ داعش اور طالبان کی انتہاپسندانہ تشریح کے باوجود ان کی تشریحات میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ طالبان اپنے نظریاتی آئیڈلوجی کی تدوین کے سلسلے میں اپنے آپ کو دوسرے ہر فکری گروہ سے آزاد اور الگ جبکہ داعش کو وہابیت کا پیرو سمجھتے ہیں۔ دوسرےالفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہےکہ طالبان کا تعلق دیوبندی مکتب فکر کے ساتھ ہے جس کی ترویج پاکستان کے دینی مدارس کرتے ہیں اور داعش کاتعلق مشرق وسطی میں موجود سلفی وہابی مکتب کے ساتھ ہے۔

جہاد کے بارے میں بھی ان دونوں گروہوں کا اتفاق رائے پایاجاتا ہے۔ لیکن جہاد کے مفہوم اور اس بات میں کہ مسلمانوں کے خلاف بھی جہاد کیا جاسکتا ہے دونوں گروہوں کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ دیوبندی گروہ کا اعتقاد ہے کہ جہاد کے بارے میں علما کی کونسل کو فیصلہ کرنا چاہئے اور جہاد صرف کفار کے ساتھ کیا جا سکتا ہے مسلمانوں کے ساتھ نہیں۔ لیکن مشرق وسطی کے سلفیوں نے اس مفہوم میں توسیع پیدا کر دی ہے۔ ان کے نزدیک ہر فوجی کمانڈر جہاد کا حکم دے سکتا ہے چاہے اس نے دینی تعلیم حاصل نہ کی ہو۔ مثلا دہشت گرد گروہ القاعدہ کے سرغنہ ایمن الظواہری ایک ڈاکٹر ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ جہاد کا فتوی دے سکتا ہے اور اس کے لئے علما کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اپنی اسلامی امارت و خلافت کے حدود کے بارے میں بھی آپس میں شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ طالبان افغانستان کی حدود کے اندر اسلامی امارت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے افغانستان سے باہر اسلامی خلافت کے قیام کا کبھی بھی دعوی نہیں کیا ہے۔ لیکن دہشت گرد گروہ داعش افغانستان کی سرحدوں سے باہر تک سوچتا ہے اور خطےکے بہت سے ممالک اس گروہ کے نام نہاد عظیم خراسان کے جغرافیائی زمرے میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان کی سرگرمیوں کے بارے میں علاقائی سطح پر پائی جانے والی حساسیت دہشت گرد گروہ داعش کی نسبت بہت ہی کم ہیں۔ اس لئے طالبان نے نہ صرف دہشت گرد گروہ داعش کی بیعت نہیں کی ہے بلکہ طالبان کا کوئی بھی فرد داعش کی صفوں میں شامل ہونے کے لئے شام یا عراق نہیں گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کے بہت ہی قلیل شہری داعش میں شامل ہیں۔

ان دونوں گروہوں کے درمیان پائے جانے والے ایک اور اختلاف کا تعلق ان کے تشخص کے ساتھ ہے۔ طالبان مکمل طور پر ایک مقامی گروہ ہے جس کا تعلق افغانستان کی پشتون قوم سے  ہے۔ اگرچہ افغان حکومت کے بقول پاکستان نے اس گروہ کی حمایت جاری رکھی ہے اور یہ چیز طالبان کی بنیادی کمزوری شمار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے انچارج طیب آغا نے طالبان کے سرغنے ملا ہیبت اللہ سے کہا تھا کہ وہ کوئٹہ کونسل کو افغانستان منتقل کر کے اس گروہ کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی سرپرستی سے خارج کریں۔ لیکن دہشت گرد گروہ داعش میں وسطی ایشیائی اور مشرقی ایشیائی ممالک  سے لے کر یورپی ممالک کے پٹھو شامل ہیں جو پیسوں کی خاطر کسی بھی طرح کے ظلم سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے افغانستان میں اس گروہ کے عناصر ایسے ہیں جو شام اور عراق میں شکست کھانے کے بعد افغانستان جا رہے ہیں اور ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ افغانستان کے اعلی حکام نے بھی بارہا ان کی موجودگی کے منفی نتائج کےبارے میں خبردار کیا ہے۔  

جاری ہے ۔۔۔
دہشت گرد گروہ داعش اپنے وحشیانہ اقدامات کی وجہ سے دنیا کے خوفناک ترین گروہ بن چکا ہے۔ جبکہ طالبان کو دہشت گرد گروہ شمار نہیں کیا جاتا ہے۔ افغانستان کی حکومت نے بارہا اس گروہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ملک کے امن عمل میں شامل ہوجائے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان اریک شولٹز نے کہا تھا کہ افغانستان کے گروہ طالبان اور داعش میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ انہوں نے طالبان کو ایک عسکری گروہ جبکہ داعش کو دہشت گرد گروہ قرار دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالبان گروہ اپنے آپ کو دہشت گرد گروہوں سے الگ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے باوجود عام شہریوں پر طالبان کے حملوں کی وجہ سے افغان عوام طالبان پر اعتراض اور تنقید کرتے ہیں۔ البتہ طالبان گروہ حال ہی میں اپنے مواقف میں اعتدال پیدا کر کے افغانستان کے عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر  رہا ہے۔ دہشت گرد گروہ داعش اصل میں ایک عرب گروہ ہے جبکہ طالبان گروہ اپنے آپ کو ایک افغان گروہ جانتا ہے۔
افغانستان کی قومی پارلیمنٹ کے رکن مولوی شاہد اللہ شاہد نے بھی اعلان کیا ہےکہ طالبان کی بنیاد افغان شہریوں پر استوار ہے جبکہ دہشت گرد گروہ داعش کی جڑ عرب ممالک ہیں۔ افغان عوام چونکہ اغیار مخالف جذبات کے حامل ہیں اس لئے انہوں نے کبھی بھی عربوں کا تسلط قبول نہیں کیا ہے۔ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کے باوجود ، کہ جو سنہ 2001 میں اس ملک پر امریکہ کے حملے پر منتج ہوئی طالبان نے کبھی بھی القاعدہ کا تسلط قبول نہیں کیا۔ مشرقی افغانستان میں افراد کو طالبان میں شامل کرنے والے کمیشن کے ممتاز رکن مولوی مخدوم عبدالسلام نے افغانستان میں دہشت گرد گروہ داعش کی موجودگی کو اس ملک کے لئے نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ اسلام کے دشمن ، کفار اور مغربی ممالک اسلامی ملکوں منجملہ افغانستان میں فرقہ واریت پھیلانے کے درپے ہیں اور داعش ان کے آلۂ کار کے طور پر عمل کرتا اور مغربی ممالک کے مفادات پورے کرتا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے طالبان اور داعش کے درمیان پایا جانے والا ایک فرق یہ بتایا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش بے انتہا تشدد اور غیر انسانی اقدامات انجام دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس اخبار کے مطابق دہشت گرد گروہ داعش نے چین سمیت بعض علاقوں میں اس قدر زیادہ تشدد کیا ہےکہ طالبان کے بعض سرغنوں نے افغان حکومت کےسامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور بعض نے اپنے خاندان کے افراد حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں بھیج دیئے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری