ایران، شمالی کوریا اور وینزویلا کے بعد ٹرمپ توپخانے کا رخ پاکستان کی جانب

خبر کا کوڈ: 1498416 خدمت: پاکستان
ترامپگدون

امریکی صدر ٹرمپ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے ایسی حالت میں پاکستان کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں کہ اس ملک کی مسلم کش پالیسیوں نے گزشتہ 16 برس سے فوجی مداخلت کے باوجود افغان طالبان کو کھلی چوٹ دی ہوئی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے، دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے پھر الزامات لگا دیئے، کہتےہیں امریکا اربوں ڈالر دیتا ہے مگر پاکستان دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے۔

ورٹ میئرآرلنگٹن میں جنوبی ایشیا کے متعلق پہلے خطاب میں صدر ٹرمپ نے پاکستان، افغانستان اور انڈیا کے بارے میں پالیسی کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں، امریکہ کا ساتھ دینے سے پاکستان کو فائدہ ورنہ نقصان ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان اکثر ان افراد کو پناہ دیتا ہے جو افراتفری پھیلاتے ہیں، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ہر صورت ختم کرنا ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ہم ان پر اقتصادی پابندیاں لگائیں گے جو دہشت گردوں کو بڑھاوا دیتے ہیں، پاکستان اور افغانستان میں بیس دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔

ٹرمپ نے مجبور ہوکر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں کا بھی ذکر کرنا پڑا، کہا کہ ماضی میں پاکستان اور ہماری فوجوں نے مل کر مشترکہ دشمن کے خلاف لڑائی کی، پاکستانی عوام کی قربانیوں اور خدمات کو فراموش نہیں کر سکتے۔

دوسری طرف امریکی صدر نے بھارت کی تعریفوں کے خوب پل باندھے، کہا کہ ہم بھارت کے کردار کے معترف ہیں، چاہتے ہیں کہ بھارت افغانستان کی معاشی ترقی میں کردار ادا کرے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکہ عراق، شام سمیت افغانستان میں بھی بری طرح ناکام ہوچکا ہے جبکہ اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے اب پاکستان کو دھمکیاں دینے لگا ہے۔

واشنگٹن، امریکہ سمیت نیٹو افواج کی بھاری نفری تعینات کرنے کے باوجود افغانستان میں امن و استحکام لانے سے قاصر رہا ہے جبکہ پوری دنیا اس بات پر گواہ ہے کہ دہشتگرد گروہ خود امریکہ کے ہی پیداوار ہیں اور "الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے" کے مصداق اب اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے دیگر ممالک کو دھمکیاں دینے لگا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری