تحریر: آر اے سید

داعش ایک خطرناک وائرس ۔۔۔ (پندرہویں قسط)

خبر کا کوڈ: 1499058 خدمت: مقالات
داعش

اس قسط میں موصل میں داعش کی شکست کے بعد عراق کی صورت حال پر مختصر روشنی ڈالیں گے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کے خاتمے کے بعد تین امور کو عراق کی اہم سیاسی ترجیحات قرار دیا جاسکتا ہے۔

پہلی ترجیح عراق سے کردستان کی علیحدگی کے بارے میں ریفرینڈم کا معاملہ ہے۔ 9 جولائی کو عراق کے شہر موصل کی آزادی کا اعلان کیا گیا۔ لیکن اس سے ایک ماہ قبل عراق کے کردستان علاقے کے سربراہ مسعود بارزانی نے کہا کہ پچیس ستمبر دو ہزار سترہ کو عراق سے اس علاقے کی علیحدگی کے بارے میں ریفرینڈم کا انعقاد عمل میں لایا جائے گا۔ اس لئے دہشت گرد گروہ داعش کے خاتمے کے بعد حیدر العبادی کی حکومت کی اولین سیاسی ترجیح عراق سے کردستان کی علیحدگی کے معاملے کا جائزہ لینے سے عبارت ہے۔ البتہ ہمارے اس آرٹیکل  میں اس بات کی گنجائش تو نہیں ہے کہ ہم تفصیل کے ساتھ اس موضوع پر روشنی ڈالیں کہ حالیہ تین برسوں کے دوران بارزانی نے کردستان کے علاقے کی علیحدگی کو اپنے ایجنڈے میں کیوں شامل کر رکھا ہے اور اپنی ساری توجہ اسی مسئلے پر مرکوز کیوں کر دی ہے۔ لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ عراق سے کردستان کی علیحدگی کا معاملہ اٹھانا اس ملک کے آئین کے منافی ہے۔

سنہ دو ہزار پانچ کو منظور کئے جانے والے عراق کے آئین کی پہلی شق کے مطابق جمہوریہ عراق ایک آزاد اور اقتدار اعلی کا حامل ملک ہے اور اس کا سیاسی نظام فیڈرل ہے۔ آئین کی کسی ایک شق میں بھی نہیں آیا ہے کہ اس کا کوئی علاقہ اس سے الگ ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب آئین کے بارے میں ہونے والے ریفرینڈم میں شرکت کرنے والی تمام اقوام منجملہ کردوں نے اس آئین کو قبول کیا ہے۔ اس لئے کردوں سمیت کسی بھی قوم کے لئے عراق کے کسی علاقے کی علیحدگی کو آئین میں مدنظر نہیں رکھا گیا ہے بلکہ اس طرح کا موضوع اٹھانا عراق کی قومی سلامتی اور مفادات کے منافی ہے اور اس کے بہت ہی منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

عراق میں دہشت گرد گروہ داعش کی شکست کے حتمی ہونے کے بعد اب  عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کو پہلے قدم کے طور پر کردستان کی علیحدگی کے موضوع کا جائزہ لینا چاہئے۔ حیدر العبادی نے عراق سے کردستان کی علیحدگی کے بارے میں ریفرینڈم کرائے جانے کے خلاف اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہاتھا کہ کردستان کے بارے میں ریفرینڈم کرانا غیر قانونی ہے اور اس ریفرینڈم کے نتائج کو تسلیم کرنا ہمارے لئے ضروری نہیں ہے۔ اس سے کردستان کی داخلی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔ حیدر العبادی کے رد عمل کے تین حصے ہیں۔ اول یہ کہ وہ ریفرینڈم کو غیر قانونی جانتے ہیں دوم یہ کہ اس ریفرینڈم کے نتائج عراقی حکومت کے لئے تسلیم کرنا لازمی نہیں ہیں۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے کیونکہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایک جانب کردستان عراق کی ارضی سالمیت کا ایک حصہ ہے اور دوسری جانب ممکنہ ریفرینڈم  کا انعقاد بھی ایسا اقدام نہیں ہے کہ اگر اس علاقے کے لوگ اس کے حق میں ووٹ ڈالیں تو عراق کی حکومت کے لئے اسے تسلیم کرنا ضروری ہو۔

سوم یہ کہ حیدر العبادی بجا طور پر اس بات کے قائل ہیں کہ عراق کے علاقے کردستان کے بارے میں ریفرینڈم سے اس علاقے کی داخلی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ کردستان کے علاقے کو اس وقت گروہوں کے درمیان سیاسی اختلافات میں شدت پیدا ہونے جماعتی ڈکٹیٹرشپ کی سمت بڑھنے، وسیع مالی بدعنوانیوں، تیل کی آمدنی میں شدید کمی اور بغداد کی مرکزی حکومت کے ساتھ شدید اختلافات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ عراق سے کردستان کی علیحدگی کے بارے میں ریفرینڈم کی کوشش بغداد حکومت اور کردستان کی مقامی حکومت کے درمیان شدید کشیدگی کا سبب بن سکتی ہے جس کے نتیجے میں عراقی کردستان کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔

البتہ حیدر العبادی اور عراق کی دوسری شخصیات اور عہدیداروں کی جانب سے ریفرینڈم کے خلاف ردعمل ظاہر کئے جانے کے باوجود عراقی حکومت کو کردستان کے علاقے کے حکام کے ساتھ اس مسئلے پر مذاکرات کا آغاز کرنا چاہئے اور اسے اپنی اولین ترجیح قرار دینا چاہئے۔

بلاشبہ دہشت گرد گروہ داعش کی مکمل بیخ کنی کے بعد عراق کی حکومت کی ایک اہم ترجیح اپنے ملک کے داخلی امور میں اغیار کی مداخلت کا مقابلہ کرنے سے عبارت ہونی چاہئے۔

جاری ہے ۔۔۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری