سعودی ولی عہد سے ملاقات میں وزیراعظم پاکستان کا عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال

خبر کا کوڈ: 1500449 خدمت: پاکستان
خاقان عباسی

وزیراعظم پاکستان امریکی صدر کے بیان کے فورا بعد ایسی حالت میں سعودی عرب کے دورے پر گئے ہیں کہ پاکستانی ماہرین پاک امریکہ تنازعہ میں سعودی عرب کے ممکنہ کردار کو یکسر بے سود قرار دے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ترجمان وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور سمیت دوطرفہ اور مسلم امہ کو درپیش معاملات پر بات چیت کی گئی اور خطے میں امن وسلامتی اور ترقی سے متعلق مذاکراتی عمل اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو خاص اہمیت دیتا ہے، پاکستان سعودی عرب اور اس کی قیادت کے ساتھ جاری تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے تمام کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کےخاتمے، خطے میں استحکام کیلیے جانی و مالی قربانی دی جب کہ سعودی عرب کی قیادت کا 2030 کی ترقی کا وژن قابل تحسین ہے۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ پاکستان کی دہشت گردی کےخلاف قربانیاں قابل تحسین ہیں جب کہ سعودی عرب پاکستان کو ایک مضبوط اورمستحکم ملک دیکھنا چاہتا ہے، امید ہے پاکستان جلد تمام چیلنجز پر قابو پاکر ترقی و خوشحالی کا سفر جاری رکھےگا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔

اس سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سعودی عرب کے پہلے سرکاری دورے پر جدہ پہنچے جہاں ان کا ڈپٹی گورنر مکہ عبداللہ بن بندر نے استقبال کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی  عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بھی حاضری دیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پاک امریکہ تنازعہ کے حل کیلئے کہ جس کی وجہ سے وزیراعظم پاکستان ہنگامی طور پر سعودی عرب کے دورے پر گئے ہیں، سعودی عرب کی ممکنہ کوششوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ ریاض حکومت تاحال نام نہاد اسلامی اتحاد کے خدوخال وضع کرنے میں بھی ناکام رہی ہے چہ رسد بہ دیگر ممالک کے مسائل یا تنازعات کو حل کرنا !!!

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری