تحریر: آر اے سید

داعش ایک خطرناک وائرس ۔۔۔ (آخری قسط)

خبر کا کوڈ: 1500881 خدمت: مقالات
داعش

عراق کے تیل کے عظیم ذخائر مغربی ممالک کی جانب سے اس ملک کو للچائی ہوئی آنکھوں سے دیکھنے کا سبب بنتے ہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: عراق کے تیل کے عظیم ذخائر مغربی ممالک کی جانب سے اس ملک کو للچائی ہوئی آنکھوں سے دیکھنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عراق کا مذہبی اور قبائلی ڈھانچہ بھی اس ملک میں بعض علاقائی ملکوں خصوصا سعودی عرب اور علاقے سے باہر کے ملکوں مثلا امریکہ کی بے جا مداخلت کا موجب ہوتا ہے۔ اسی مداخلت کی وجہ سے سنہ دو ہزار چودہ میں عراق کے بہت سے علاقوں پر دہشت گرد گروہ داعش کے قبضے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ القدس العربی کے صحافی سعید الشہابی کا خیال ہے کہ عراقی موصل میں اپنی کامیابیوں پر خوش ہیں۔ اور انہوں نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا لیکن امریکیوں کی پالیسی دوسری ہے۔ امریکیوں کے نزدیک عراق ایک بہت ہی اچھا شکار ہے۔ جب امریکی صدام حکومت کی سرنگونی کے مقصد سے عراق میں داخل ہوئے تھے تو انہوں نے اپنی نظریں دو ہزار تین کی جنگ کے بعد کے سیاسی اور سیکورٹی بحران سے فائدہ اٹھانے پر جما رکھی تھیں۔ عراقی اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ عراق میں تین سال قبل داعش گروہ خود بخود وجود میں نہیں آیا تھا بلکہ اس کو عراقیوں سے انتقام لینےکے مقصد سے وجود میں لایا گیا تھا کیونکہ انہوں نے اپنی خود مختاری اور اقتدار اعلی کے تحفظ پر اصرار کیا تھا۔

عراقی حکومت کے سامنے ایک اہم ترجیح پارلیمانی بلدیاتی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات کا انعقاد ہے۔ بلدیاتی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات اس سے قبل رواں سال کے آغاز میں ہونا تھے۔ لیکن سیکورٹی مسائل خصوصا دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف حکومت کی لڑائی کی وجہ سے یہ انتخابات ملتوی ہوگئے تھے۔ البتہ پارلیمانی انتخابات کو جو اہمیت حاصل ہے وہ صوبائی کونسلوں کے انتخابات کو حاصل نہیں ہے۔اس لئے ان انتخابات کا انعقاد عراق کی حکومت کے لئے بھی اور سیاسی جماعتوں کے لئے اولین ترجیح شمار ہوتے ہیں۔ عراق کے آئین کی شق نمبر سنتالیس کے مطابق عراق کی فیڈرل حکومت دو اداروں یعنی پارلیمنٹ اور صوبائی و بلدیاتی کونسلوں پر مشتمل ہے۔ عراقی آئین کی شق نمبر پچپن کے مطابق بھی پارلیمنٹ کی مدت چار سال ہے۔ یہ مدت پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس سے شروع ہوتی ہے اور چوتھے سال کے آخری اجلاس کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہے۔ نئی پارلیمنٹ کے اراکین کا انتخاب موجودہ پارلیمنٹ کی مدت ختم ہونے سے پینتالیس دن قبل عمل میں لایا جانا ضروری ہے۔

عراق کے آخری پارلیمانی انتخابات اکتیس اپریل دو ہزار چودہ کو ہوئے تھے۔ اس لئے نئے پارلیمانی انتخابات سنہ دو ہزار اٹھارہ میں اپریل یا مئی کے مہینے میں ہو جانے چاہئیں۔ پارلیمانی انتخابات اس وجہ سے اہم ہیں کہ  اراکین پارلیمنٹ قانون سازی کا عمل انجام دینے کے علاوہ عراق کے آئین کے مطابق اس ملک کے صدر کا انتخاب نو منتخب اراکین پارلیمنٹ کرتے ہیں۔ صدر بھی وزیر اعظم کو نامزد کرتا ہے اور نئے اراکین پارلیمنٹ اس کو اعتماد کا ووٹ دیتے ہیں۔ اس لئے عراق کے پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔

سنہ دو ہزار پانچ میں عراق کا نیا آئین منظور کیا گیا تھا ۔ اس وقت سے لے کر اب تک اس ملک میں تین مرتبہ پارلیمانی انتخابات ہوئے ہیں۔ یہ انتخابات دو ہزار سولہ، دو ہزار دس اور دو ہزار چودہ کو ہوئے تھے۔ اور سنہ دو ہزار اٹھارہ کو ہونے والےانتخابات اس ملک کے چوتھے پارلیمانی انتخابات شمار ہوتے ہیں۔

عراق کے پارلیمانی انتخابات اس ملک کی سیاسی جماعتوں کے لئے بھی بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی وجہ سے ہر مرتبہ پہلے کی نسبت زیادہ جماعتیں ان انتخابات میں شرکت کرتی ہیں۔ سنہ دو ہزار چھ میں ہونے والے انتخابات میں ایک سو باون جماعتوں نے دو سو پچھتر نشستوں کے لئے آپس میں مقابلہ کیا جبکہ دو ہزار آٹھ میں ایک سو اکیاسی جماعتوں نے تین سو پچیس نشستوں کے لئے ان انتخابات میں شرکت کی اور سنہ دو ہزار چودہ میں دو سو ستتر جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور تین سو اٹھائیس نشستوں کے لئے ان کے درمیان مقابلہ ہوا۔ جبکہ سنہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے لئے دو ہزار سولہ کے اختتام تک تین سو جماعتیں اپنے آپ کو رجسٹرڈ کروا چکی تھیں۔ البتہ پارلیمنٹ کی نشستوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

سنہ دو ہزار اٹھارہ کے پارلیمانی انتخابات گزشتہ تینوں انتخابات کی نسبت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ انتخابات عراق میں داعش کی مکمل بیخ کنی کے بعد منعقد ہونے والے اولین انتخابات ہوں گے۔

بہرحال بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ عراق کی حکومت اور سیاسی جماعتوں نے اپنے ملک میں دہشت گرد گروہ داعش کی موجودگی سے سبق حاصل کیا ہوگا اور انہیں اپنے قومی مفادات کو جماعتی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہئے۔ کیونکہ اس طرح کی غلطی سرزد ہونے کی صورت میں عراق ایک بار پھر دہشت گردی اور تشدد کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ دہشت گرد گروہ داعش کے خاتمے کے بعد عراق کو دوسری ہر چیز سے زیادہ قومی اتحاد اور عقل پسندی کی ضرورت ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری