قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی الزامات مسترد کردیے

خبر کا کوڈ: 1501108 خدمت: پاکستان
قومی سلامتی اجلاس

قومی سلامتی کمیٹی نے امریکی صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی پالیسی پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستان نے امریکہ کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات اور ڈومور کے مطالبے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت نے کہا ہے کہ ہم تو بہت کچھ کر رہے ہیں امریکہ بھی افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ کرے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خود مختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم کی زیرصدارت عسکری اور سیاسی قیادت کے اجلاس میں نئی امریکی پالیسی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات مسترد کردیئے گئے ہیں۔ اجلاس میں دو ٹوک انداز میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سالیمت کا ہر قمیت پر تحفظ کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے سے افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، پڑوسی ملک ہونے کے ناطے افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کیلئے پاکستان عالمی برادری کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ افغانستان میں قیام امن پاکستان سمیت عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت نے امریکہ کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد دینے کے دعووں کو بھی بےبنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو رقم دی گئی وہ امداد نہیں تھی بلکہ افغان جنگ کے لئے امریکہ کو راہداری اور سہولیات دینے کا معاوضہ تھا۔ مالی امداد کے بجائے عالمی برادری پاکستانیوں کی ہزاروں جانوں کی قربانیوں اور 120 ارب روپے کے نقصان کو تسلیم کرے۔

اجلاس میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا اور اسی رویے کی اپنے پڑوسیوں سے توقع رکھتا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ پاکستانی سرحد کے اس پار افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پنگاہیں ہیں جہاں سے آکر دہشت گرد پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔۔ امریکی افواج دہشتگردوں کی ان پناہ گاہوں کے خاتمہ کے لئے اقدامات کرے۔ قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ بھارت جیسا ملک جو دہشتگردی کو اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کررہا ہو وہ کیسے خظہ میں امن کا ضامن بن سکتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری