ایم ڈبلیو ایم کے حامی امریکی صدر کی ہرزہ سرائی کیخلاف آج سڑکوں پر نکلیں گے

خبر کا کوڈ: 1501165 خدمت: پاکستان
علامہ راجہ ناصر عباس

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر حملوں کی دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان پر حملوں کی دھمکی کی مذمت کرتے ہوئے جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

25 اگست کو بعد از نماز جمعہ ملک کے مختلف شہروں میں "امریکہ مردہ باد" ریلیاں نکالی جائیں گی۔پاکستان کے عوام امریکہ کی پاکستان اور اسلام دشمنی کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج میں شریک ہوں۔

انہوں نے کہا پاکستان کی سالمیت و بقا کو نئے خطرات درپیش ہیں۔ خطے میں داعش کو لانے کی امریکی چال کی راہ میں ہم رکاوٹ بنیں گے۔ پاکستان کو شام یا عراق نہیں بننے دیا جائے۔ پاکستان کو امریکی بلاک سے نکل جانا چاہیے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ہمارا ہاتھ سوائے لاشوں کے اور کچھ نہیں آیا۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی عالمی برادری نے ہر پلیٹ فارم پر تعریف کی ہے جبکہ امریکہ نے ہمیشہ ڈو مور کا مطالبہ کیا۔ ڈومور کے مطالبے کا جارحانہ انداز قومی وقار پر حملہ ہے جس کا جواب اسی انداز سے دیا جانا چاہیے۔

راجہ ناصر کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ یا کسی دوسرے ملک کی کالونی نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا ہے۔ پاک فوج اور بے گناہ شہریوں کی کم و بیش ایک لاکھ لاشوں کو ہم کندھا دے چکے ہیں۔ دہشت گردی کے عفریت نے پاکستان کی معشیت کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ وطن عزیز کو غیر مستحکم کرنے والے مذموم عناصر کی پشت پناہی امریکہ اور کے حواری کر رہے ہیں۔ امریکہ کا مکار صدر افغانستان میں لگی ہوئی آگ پاکستان منتقل کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ ہمیں مصلحت پسندی کا شکار بننے کی بجائے دو ٹوک موقف اختیار کرنا ہو گا۔

انہوں نے تاکید کی کہ امریکہ پاکستان کا خیر خواہ نہیں بلکہ اپنے مفادات کا یار ہے۔ امریکہ کا وجود اس خطے کے لیے خطرہ ہے۔ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کا یہ بہترین وقت ہے۔ پاکستان کا آج کا جرات مندانہ فیصلہ ہماری آنے والی نسلوں پر بہت بڑا احسان ہو گا۔ دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ دنیا نئی تشکیل کے مراحل میں داخل ہو رہی ہے۔ امریکہ سے تعلقات محدود کر کے ہمیں چین سمیت خطے کے دوسرے ممالک کی طرف جھکاؤ کو بڑھانا ہو گا۔ چین اپنی مضبوط معشیت کے ساتھ سپر پاور کی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ خطے میں چین کا سب سے بڑا حریف بھارت ہے۔ امریکہ اور بھارت شاطرانہ چالیں چل رہے ہیں۔ پاکستان کو بھی حکیمانہ اور با بصیرت فیصلے کرنے ہوں گے۔ بھارت اور امریکہ کے مابین اربوں ڈالر کی تجارت کا ذکر اور بھارت کی تعریف کر کے پاکستان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ کے حوالے سے اپنی خارجہ پالیسیوں میں یوٹرن ہی امریکی صدر کی دھمکی بہترین جواب ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو امریکہ اور بھارت وطن عزیز کے لیے سنگین خطرہ بن جائیں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری