نواز شریف کے بچوں نے بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا

خبر کا کوڈ: 1501283 خدمت: پاکستان
شریف فیملی

سابق وزیراعظم نواز شریف کے بچوں حسن اور حسین نواز، مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے بھی پاناما کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حسن، حسین، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے دو نظر ثانی درخواستیں دائر کی گئیں۔

ڈاون نیوز کے مطابق ایک نظر ثانی درخواست سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف جبکہ دوسری نظر ثانی درخواست 3 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی۔

نظر ثانی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پاناما کیس کے سلسلے میں شریف خاندان کے مالی اثاثوں کی جانچ پڑتال کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تحقیقات 'انصاف کے تقاضوں کے منافی'، 'نامکمل' اور اس قابل نہیں تھی جس پر ریفرنس دائر ہو سکے۔

یہ بھی کہا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات کو زیرِغور نہیں لایا گیا جبکہ رپورٹ پر عدالتی فائنڈنگ سے ہمارے حقوق متاثر ہوں گے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت پاناما عملدرآمد بینچ کے تین ججز نے کی لہذا پانچ ججز کو رپورٹ پر فیصلہ کا اختیار نہیں تھا۔

مزید کہا گیا کہ دو ججز 20 اپریل کے فیصلے کے بعد بینچ میں نہیں بیٹھ سکتے تھے (کیونکہ انہوں نے اختلافی نوٹ تحریر کیا تھا) جبکہ تین ججز نے 20 اپریل کے عدالتی فیصلے پر عمل کرایا اور تحقیقات کی نگرانی کی، لہذا ان تین ججز کو بھی جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

درخواست میں پاناما فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) میں شریف خاندان کے خلاف دائر ریفرنسز کے معاملات کی نگرانی کے لیے سپریم کورٹ کا جج مقرر کیے جانے کو بنیادی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ نگران جج کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 4، 10 اے، 25 اور 175 کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست کے مطابق نگران جج کی تعیناتی کے بعد احتساب عدالت آزادانہ کام نہیں کرسکے گی جبکہ آئین اور قانون میں احتساب عدالت کی کارروائی کی نگرانی کی گنجائش نہیں، عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ قانون کے مطابق کام کیا جائے، لیکن فائنڈنگ کی روشنی میں عدالت خوف شکایت کنندہ بن گئی ہے۔

سابق وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے اپنی نظرثانی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف لندن فلیٹس کی خریداری کا کوئی الزام یا ثبوت نہیں لیکن عدالت عظمیٰ عدالت نے ان کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے دیا۔

درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے میں سقم ہیں، لہذا اس فیصلے کے خلاف نظرثانی منظور کی جائے اور اسے کالعدم قرار دے کر درخواستیں خارج کی جائیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار بھی پاناما کیس کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے نظر ثانی درخواستیں دائر کرچکے ہیں۔

28 جولائی کا عدالتی فیصلہ

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ پر سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قراردے دیا تھا، جب کہ سابق وزیراعظم کے بچوں حسن، حسین نواز، مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا تھا۔

25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے 5 جج صاحبان کی جانب سے سابق وزیراعظم کو نااہل قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ نواز شریف نے ’کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ سے متعلق کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے، وہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12 کی ذیلی شق ’ٹو ایف‘ اور آرٹیکل 62 کی شق ’ون ایف‘ کے تحت صادق نہیں رہے، لہذا نواز شریف کو رکن مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل قرار دیا جاتا ہے۔

عدالتی بینچ نے الیکشن کمیشن کو فوری طور پر نواز شریف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی نواز شریف کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے نیب کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تحقیقات کی روشنی میں 6 ہفتوں کے اندر راولپنڈی احتساب عدالت میں نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف لندن کے 4 فلیٹس سے متعلق ریفرنس دائر کرنے جبکہ نواز شریف، حسن اور حسین نواز کے خلاف عزیزیہ اسٹیل ملز، ہل میٹل سمیت بیرونی ممالک میں قائم دیگر 16 کمپنیوں سے متعلق ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری