بھارت میں مذہبی رہنما پر فرد جرم کے بعد حالات کشیدہ، 32 افراد ہلاک سینکڑوں زخمی

خبر کا کوڈ: 1501671 خدمت: دنیا
بھارت

بھارت کے مذہبی رہنما گرو گرمیت رام رحیم سنگھ پر جنسی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر ریاست ہریانہ میں ہنگامے پھوٹ پڑے جب کہ پرتشدد واقعات میں 32 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہوگئے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بھارت میں خواتین مریدوں کا مبینہ طور پر ریپ کرنے والے متنازع گرورام رحیم پر عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد مختلف علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور پرتشدد واقعات میں 32 افراد ہلاک اور 250 سے زائد زخمی ہوگئے۔

خیال رہے بھارت کی ایک عدالت نے ملک کے معروف خود ساختہ مذہبی رہنما اور ریاست ہریانہ میں قائم ڈیرا سچا سودا آرگنائزیشن کے سربراہ گرومیت رام رحیم پر 2 خواتین کے ریپ کے الزام میں فرد جرم عائد کردی تھی۔

فرد جرم سنائے جانے کے بعد عدالت کے باہر موجود گرو رام رحیم کے ہزاروں عقیدت مند مشتعل ہوگئے جنہوں نے مختلف علاقوں میں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے پی‘ نے پولیس اور ڈاکٹرز کے حوالے سے بتایا کہ گرو رام رحیم پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد شمالی بھارت میں ہنگامے پھوٹ پڑے، جس میں 22 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مشتعل افراد نے کئی عمارتوں کو آگ لگادی۔

پولیس نے مختلف علاقوں میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔

کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس اور پیرا ملٹری افواج کے 15 ہزار اہلکار ضلع پنچکولا اور اطراف کے علاقوں میں تعینات تھے۔

مشتعل مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کو آگ بھی لگائی اور پولیس اور ٹی وی صحافیوں پر حملے کیے اور ان کا براڈکاسٹ سامان توڑ دیا۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس اِشام سنگھ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد ہریانہ میں پھوٹنے والے ہنگامے میں درجنوں افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ’صورتحال کشیدہ مگر قابو میں ہے اور بیشتر مقامات سے مظاہرین کو منتشر کردیا گیا ہے۔‘

حکام نے پنچکولا میں کرفیو نافذ کردیا جبکہ وہاں پر موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو پہلے معطل کردیا گیا ہے۔

مقامی رہائشی سندیپ سنگھ نے اے ایف پی کو بتایا کہ 'حکومت اور پولیس کیا کر رہی ہیں میں سمجھ نہیں پایا، ہم گزشتہ روز سے خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے تھے اور آج ہمارا خوف سچ ثابت ہوا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پولیس ان مریدوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کیوں نہیں کررہی ہے'۔

اطلاعات کے مطابق رام رحیم سنگھ پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد پڑوسی ریاست پنجاب اور ہریانہ سے منسلک نئی دہلی کے مضافات میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔

بھارتی ریلوے کے ترجمان نیراج شرما کا کہنا تھا کہ 'پنجاب میں دو ریلوں کو نذر آتش کیا گیا ہے اور دہلی کے آنند وہرا اسٹیشن میں دو خالی ریلوں کو بھی نذر آتش کیا گیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور ہریانہ سے گزرنے والی سیکڑوں ریلوں کو معطل کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب ہجوم نے سرکاری عمارتوں، پولیس اور صحافیوں پر بھی حملہ کیا اور میڈیا کی گاڑیوں کے شیشے اور دیگر آلات توڑ دیے۔

گرومیت رام رحیم کی تنظیم ڈیرہ سچا سودا کا دعویٰ ہے کہ وہ معاشی اور روحانی ویلفیئر کا کام کرتے ہیں اور ان کے ملک بھر میں لاکھوں کارکنان موجود ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری