میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری، مزید 71 افراد شہید کردئے گئے

خبر کا کوڈ: 1502120 خدمت: اسلامی بیداری
میانماری

میانمار کی حکومت اور فوج کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی تازہ ترین کارروائی میں مزید 71 مسلمان مارے گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران کے حوزۂ علمیہ قم کے جامعہ مدرسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے دعویداروں کی خاموشی کی آڑ میں میانماری مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری ہے۔

تسنیم نیوز نے روئٹرز کے حوالے سے بتایا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے اور مزید 71 مسلمانوں کو بدترین تشدد کے بعد قتل کردیا گیاہے۔

میانمار کی حکومت اور فوج کا دعویٰ ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے پولیس کے 30 سے زائد چیک پوسٹوں پر حملے کیے گئے جس کی وجہ سے  سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں اور ان جھڑپوں میں 59 مسلمان اور 12 فوجی مارے گئے۔

واضح رہے کہ میانمار میں اسلام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے اس ملک کے 87 ہزار مسلمان بنگلادیش کا رخ کرچکے ہیں جبکہ ڈھاکہ کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں 1.1 میلین میانماری تارکین وطن موجود ہیں جن کو شہریت دینا ممکن نہیں ہے۔

دوسری طرف میانماری تارکین وطن نے بنگلادیش کی حکومت سے اپیل کی ہے اب ان کے لئے میانمار قابل سکونت نہیں رہا ہے لہذا انہیں باقاعدہ طور پر بنگلادشی شہریت دی جائے۔

میانماری مسلمانوں نے امت مسلمہ اور دنیا کے تمام حریت پسندوں سے بھی اپیل کی ہے کہ میانماری مسلمانوں کی مظلومت پر آواز اٹھائیں۔

مسلمانوں کا کہنا ہے کہ عالمی اداروں کی خاموشی کی وجہ سے ان کا قتل عام جاری ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں، عالمی ادارے انسانی حقوق کی حمایت کا صرف دم بھرتے ہیں جبکہ انھیں انسانی حقوق اور انسانیت کے مقابلے میں اپنی خاموش کا اعتراف کرنا چاہئے۔

مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کو اس وقت صرف ایک سیاسی حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ میانمار کے صوبے راخین میں روہنگیا مسلمان آباد ہیں جنھیں شہری حقوق دلوانے کے برعکس مسلسل قتل کیا جا رہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری