تسنیم کی خصوصی رپورٹ/

افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کا ذمہ دار اسلام آباد یا واشنگٹن ؟

خبر کا کوڈ: 1502037 خدمت: پاکستان
پاک امریکہ

پاکستان پر انگلیاں اٹھانے والے امریکہ نے افغانستان میں 16 سال کی مدت میں اربوں ڈالر خرچ کرکے اس ملک کو دہشت گردوں کے سپرد کردیا ہے جبکہ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ملک کو دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان آرمی نے محدود وسائل کے باوجود دہشتگردوں کیخلاف نہایت جامع اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے سوات، خیبر ایجنسی، باجوڑ، بونیر، لوئر دیر، مہمند ایجنسی، جنوبی وزیرستان، شمالی وزیر ستان، راجگال، شاوال، سندھ، بلوچستان، سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں کامیاب آپریشن کرکے پاک وطن کو دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کردیا جبکہ دنیا کا سب سے بڑا دعوے دار امریکہ نے اربوں ڈالر اور دنیا کے جدید ترین اسلحے سے لیس افواج افغانستان میں تعینات کرنے کے باوجود اس ملک کو دسیوں دہشت گرد تنظیموں کے حوالے کرکے اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی ناکام کوشش کررہاہے۔

واضح رہے کہ سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کےاعداد وشمار کے مطابق سن 2001 سے اب تک امریکا افغانستان میں تقریباً 841 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔

افغان فورسز کی تعمیرنو، اقتصادی امداد اور منشیات کنٹرول کرنے کے لئے امریکہ نے افغانستان کو 110 ارب ڈالر دئے جس کا کوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکلا، اس وقت نہ منشیات ختم ہوئے نہ اس ملک کی فوج میں کوئی جان آئی نہ ہی اقتصادی حالات درست ہوئے بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ افغانستان کی حالت پہلے سے بدتر ہوگئی ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں امریکہ کے تمام تر اخراجات شامل کرلیے جائیں تو امریکا کا افغانستان جنگ پر خرچہ 20 کھرب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔

اگر آپ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوجائے گا کہ 2001 میں 1300 امریکی فوجی افغانستان میں اتارے گئے تھے اور اگست 2010 تک یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ تک پہنچ گئی تھی اور اب بھی 8 ہزار سے زائد فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔ اس کے باجود افغانستان سے اب تک نہ تو شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ ہوا، نہ ہی کرپشن ختم ہوئی اور نہ ہی اقتصادی طور پر کوئی بہتری آئی، آخر کیوں؟ دنیا کی طاقتور ترین افواج اس ملک میں کیا کررہی ہیں کہیں دہشت گردوں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں پالنے کی پالیسی پر تو گامزن نہیں؟!

عالمی تحقیقاتی اداروں اور لانگ وار جرنل کی رپورٹس کے مطابق افغان حکومت کی رٹ تمام تر سپورٹ کے باوجود صرف 50فیصد رقبے پر قائم ہے جبکہ 50 فیصد ملک طالبان سمیت دیگر شدپسند گروہوں کے قبضے میں ہے۔

اور بعض صوبے ایسے بھی ہیں جہاں افغان حکومت کے کنٹرول میں ہونے کے باوجود ان علاقوں پر طالبان کا اچھا خاصا اثر و رسوخ پایا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق امریکہ نے 8.4 ارب ڈالر منشیات کے خاتمے پرخرچ کئے لیکن کمی کے بجائے افیون کی کاشت کا رقبہ 2001 کے 8 ہزار ہیکٹر سے بڑہ کر 2 لاکھ ہیکٹر تک جا پہنچا اور افیون کی پیداوار بھی 185 میٹرک ٹن سے بڑھ کر8 ہزار ٹن سے زیادہ ہوگئی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا افغانستان میں منشیات کی کاشت بھی پاکستان کررہا ہے؟ یا منشیات کی محفوظ پناہیں کہیں پاکستان میں تو نہیں؟!

کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے افغان حکومت کو منشیات کے خاتمے کے لیے 94 کروڑ ڈالر کے جہاز بھی دیے مگر یہ جہاز بھی ناکام رہے کیوں؟ کیا ان جہازوں کو بھی کہیں پاکستانی ایجنسیوں نے ناکارہ تو نہیں بنایا؟

رپورٹ کے مطابق 66 کروڑ ڈالر کی 630 آرمرڈ وہیکل اور 49کروڑ کے 20 کارگو جہاز جو امریکہ نے افغانستان کو دیئے تھے، مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث ناکارہ ہوگئے کیا اس سلسلے میں بھی پاکستان قصوروار ہے؟ یا اس کی تمام تر ذمہ داری امریکی اور افغان حکام پر عائد ہوتی ہے؟

افغان حکومت واویلا کرتی نظر آتی ہے کہ ہمیں ناکامی کا سامنا پاکستان کی وجہ سے ہے ہمارے ملک میں پاکستان دخالت کررہا ہے وغیرہ وغیرہ، ایک اندازے کے مطابق امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں نے افغانستان میں معدنیات نکالنے کے منصوبے کے لئے 49 کروڑ ڈالر دیئے آج تک کسی کو پتہ ہی نہیں چلا آخر اس رقم سے کتنے معدنیات کے خزانے دریافت کئے گئے کہا تو یہی جارہا ہے کہ یہ 49 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم بھی افغان حکومت کے کرپشن کی نذر ہوگئی، کوئی تو پوچھے مسٹر ٹرمپ اور افغان حکومت سے کیا یہ 49 کروڑ ڈالر میں کرپشن بھی پاکستان کی عدم تعاون کی وجہ سے ہوا؟ کیا اس کرپشن میں بھی پاکستانی ایجنسیاں شامل تھیں؟

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایک ارب ڈالر جوڈیشل ریفارم اور 47 کروڑ ڈالر مقامی پولیس کی تربیت کے لئے خرچ کیے ہیں مگر آئے روز افغان پولیس کے جوان طالبان کے ساتھ کام کرتے نظر آتے ہیں اور اسلحہ سمیت طالبان میں شمولیت اختیار کرتے ہیں کیا اس کے پیچھے بھی پاکستان ہے کیا یہ سب کچھ پاکستان کے کہنے پر ہورہاہے؟ یا امریکی ناقص اور دوغلی پالیسیوں کا نتیجہ ہے؟

افغان حکومت اور امریکہ نے ان سالوں میں ہمیشہ سے پاکستان کو تنہا کرکے ہندوستانی ایجنسیوں کو خطے میں برتری دلانے کی بھرپور کوشش کی ہے، افغانستان نے پاکستان کے سرحد پر بھارتی قونصلیٹ کھول کر بھارت نوازی کی انتہا کردی ہے۔

بھارتی خفیہ ایجنسی را نے افغان خفیہ ایجنسی کو پاکستان کے خلاف ہر موڑ پر استعمال کرنے کی بھر کوشش کی ہے جس کی پاکستان میں کئی زندہ مثالیں موجود ہیں ان میں سے ایک حال ہی میں پاک فوج کے توسط سے انکشاف ہونے والا ( 2013 کا روالپنڈی) حملہ ہے۔ اس حملے کے ذریعے پاکستان میں وسیع پیمانے پر شیعہ سنی فسادات کروانے کی ناکام کوشش کی گئی، اب یہ ٹرمپ ہی بتائے کہ خطے میں بدامنی کا ذمہ دار کون ہے؟ پاکستان یا امریکہ اور اس کے پجاری؟

حرف آخر:

تاریخ نے ثابت کردیا ہے کہ امریکہ کبھی بھی پاکستان کا خیر خواہ نہیں رہا ہے اس کا اصل ہدف پاکستان کے جوہری ہتھیار ہیں لہذا ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ اس مکار شیطان اعظم کے اصل چہرے کو پہنچانتے ہوئے اس کی ناپاک قدموں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملک سے باہر پھینک دیں تاکہ پاکستان سمیت پورا خطہ امن کا گہوارہ بن جائے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری