پاکستان کی معیشت کو امریکی پالیسیوں سے کوئی خطرہ لاحق نہیں، وزیر دفاع

خبر کا کوڈ: 1502650 خدمت: پاکستان
خرم دستگیر

وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ ہم امریکا کے ساتھ حقائق کی روشنی میں کام جاری رکھنا چاہتے ہیں جبکہ امریکا کی نئی پالیسیوں سے پاکستانی معیشت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق گجرانوالا میں آل پاکستان چیمبر زصدور کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کی قیادت کی بدولت اندھیرے میں ڈوبے ہوئے پاکستان کی روشنیاں بحال ہوئیں اور پاکستان میں امن آیا اس لیے پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت معاشی ترقی، جمہوریت کے فروغ اور ملک کو دنیا کے ساتھ جوڑنے کے وژن پر قائم رہے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ان تھک محنت کی بدولت شہریوں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے اور نواز حکومت میں سڑکوں کا جال بچھانے کے لیے 1200ارب روپے کے مختلف منصوبوں پر کام کا آغاز کیا گیا جن کی اہمیت کا صحیح اندازہ آنے والے وقت میں لگایا جا سکے گا۔

وزیردفاع کا کہنا تھا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبے میں نواز شریف کی ذاتی کاوشوں اور دلچسپی سے توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے 36ارب ڈالرز مختص کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چین نے انتہائی مشکل صورت حال میں پاکستان میں سی پیک کی شکل میں بھاری سرمایہ کاری کی جس کو بعض لوگ قرض سے تعبیر کر کے اس کی اہمیت کوکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ یہ خالصتاََ سرمایہ کاری ہے۔

اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ 2014 میں جب چین نے پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبے کی مد میں 50ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی اس وقت پاکستانیوں سمیت کوئی بھی یہاں اپنا سرمایہ لگانے کو تیار نہیں تھا۔

وزیردفاع نے امریکا کی پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے نئی پالیسیوں کے حوالے سے کہا کہ امریکا کے ساتھ حقائق کی روشنی میں کام جاری رکھنا چاہتے ہیں اورمعیشت کو امریکی پالیسیوں سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی سرمایہ کار پاکستان پر اپنا بھروسہ اور یقین قائم رکھیں اور یہاں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کریں، حکومت ان کی مشکلات کو کم کرنے اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنے میں مکمل تعاون کرے گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری