پاکستان اور ہندوستان کے حساس ادارے جاسوسی کی زد میں

خبر کا کوڈ: 1504900 خدمت: پاکستان
جاسوسی

ڈیجیٹل سیکیورٹی کمپنی کا دعویٰ ہے کہ پاکستان اور بھارت کےحساس اور اہم ادارے بین الاقوامی سائبر جاسوسی کی زد میں ہیں جو ممکنہ طور پر کسی ملک کی ایماء پر کی جا رہی ہے۔

تسنیم نیوز نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کمپنی سیمینٹک کارپوریشن کا دعویٰ ہے کہ اس نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے کام کرنے والے پاکستانی اور ہندوستانی  اداروں کے خلاف ایک مستقل سائبر جاسوسی کا پتہ لگایا ہے۔

ڈیجیٹل سیکیورٹی کمپنی دعویٰ ہے کہ پاک و ہند کے حساس اداروں کی جاسوسی کسی ملک کی ایماء پر کی جا رہی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے  کہ جاسوسی کا عمل اکتوبر 2016 سے جاری ہے۔

رائٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ ’تھریٹ رپورٹ‘ دیکھی ہے تاہم اس میں یہ بات واضح نہیں کہ جاسوسی کس ملک کے کہنے پر کی جا رہی ہے اور کون کر رہا ہے۔

رائٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ جاسوسی کی یہ مہم مختلف گروہوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے تاہم جو طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام گروپس ایک مقصد اور ایک ہی سمت میں کام کر رہے ہیں اور ان کا اسپانسر بھی ممکنہ طور پر ایک ہی ہے لیکن اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

سیمینٹک نے اپنی رپورٹ میں اس جاسوسی کے پیچھے کارفرما عناصر کی نشاندہی نہیں کی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ حکومتیں اور افواج جو جنوبی ایشیا میں سرگرم ہیں اور یہاں کے سیکیورٹی معاملات سے ان کے مفادات وابستہ ہیں وہ ممکنہ طور پر اس جاسوسی کی زد میں آسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ  پاکستان کی تحقیقاتی ایجنسی ایف آئی اے کے ایک سینیئر عہدے دار کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سائبر حملے کا کوئی انتباہ موصول نہیں ہوا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری