حسن نصراللہ:

حزب اللہ کی طاقت نے اسرائیل پر وحشت طاری کردی/ نتین یاہو داعش کی نابودی پر گریہ کناں ہے

خبر کا کوڈ: 1505396 خدمت: اسلامی بیداری
سید حسن نصرالله

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ الجرود کی جنگ میں حزب اللہ نے فتح حاصل کرلی ہے اور یہ فتح صرف حزب اللہ کی نہیں بلکہ پورے خطےکی فتح ہے۔

تسنیم نیوز نے المنار کے حوالے سے بتایا ہے کہ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے اپنی فوج کے شہیدوں اور داعش کے ہاتھوں اغواء ہونے والے جوانوں کے خاندانوں کو صبر و حوصلے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ "ہم شھداء کے جنازوں کی مکمل طور پر شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، شناخت کے بعد لاشوں کو ورثا کے حوالے کیا جائیگا۔

واضح رہے کہ سید حسن نصراللہ نے قلمون کی فتح کے موقع پر عوام سے خطاب کیا ہے اور تقریر کے اہم ترین نکات قارئین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں۔

سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ جنگ کے ابتداء میں ہی داعشی دہشت گرد جنگ بندی کرنا چاہتے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ دو طرف سے محاصرے میں ہیں تو تسلیم ہوکر ہتھیار ڈال دئے۔

ہم نے داعش کے ساتھ مذاکرات اس شرط کے ساتھ کئے کہ وہ ہمیں تمام شہداء کے جنازے تحویل دیں گے، داعش کے جتنے بھی دہشت گرد رومیہ کے جیل میں ہیں، انہیں کسی بھی صورت میں رہا نہیں کیا جائے گا۔

داعش کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں دو پادری بھی شامل تھے جنہیں داعش کے دہشت گردوں نے اغوا کرلیا تھا تاہم داعش نے کہا کہ پادریوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں۔

مذاکرات میں 670 عام شہری، 26 زخمی اور 307 داعشی جنگجوؤں کی رہائی پر اتفاق ہوا ہے۔

سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ ہم لبنان اور شام کی سرحد پر موجود تمام دہشت گردوں کا خاتمہ کرسکتے تھے لیکن ہمارے اغواء شدہ جوانوں کی جان خطرے میں تھی اسلیے ہم نے داعش کے ساتھ مذاکرات کرنے کو ہی ترجیح دی تاکہ بے گناہ لوگوں کی جانیں بچ سکیں۔

چونکہ ہم نے تمام اہداف پورے کرلئے تھے ہمارا اصل مقصد فجرالجرود سے دہشت گردوں کا صفایا کرنا تھا، وہ کرلیا اور اب داعش مکمل طور پر تسلیم ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الجرود جنگ میں حزب اللہ کے 11 اور شامی فوج کے 7 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔

سید حسن کا کہنا تھا کہ لبنان کی شام سے ملحقہ سرحد کی تمام چوٹیوں سے دہشت گردوں کا مکمل طور پر صفایا کردیا گیا ہے اب اس علاقے میں ایک بھی تکفیری نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ البادیه، رقه، حلب اور حماه میں داعشیوں کو شدید دھچکا لگا تھا جس کی وجہ سے وہ الجرود میں بھی جلد تسلیم ہوگئے۔

سید حسن نے کہا کہ ہم لبنان سے تکفیریوں اور صہیونیوں کو مکمل طور پر باہر کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے دن گزرتے جاتے ہیں دنیا پر واضح ہوتا جارہا ہے کہ داعش کے اصلی پیداوار امریکہ اور اسرائیل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج داعش کی شکست کی سب سے زیادہ تکلیف اسرائیلی وزیراعظم کو ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ گریہ کناں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 28 اگست کو لبنان کے اہم تاریخی دنوں میں شمار کیا جائے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری