جو حال روہنگیا مسلمانوں کا ہے وہی حال خلیجی ممالک کے عربوں کا ہوگا!


جو حال روہنگیا مسلمانوں کا ہے وہی حال خلیجی ممالک کے عربوں کا ہوگا!

میانمار، جس کا پرانا نام برما ہوا کرتا تھا، 5 کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والا دنیا کا 25واں بڑا ملک ہے جہاں اکثریت بدھ مذہب کے ماننے والوں کی ہے لیکن اس میں مسلمانوں سمیت دوسرے مذاہب کے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: برما ہمیشہ سے ایک غریب ملک رہا ہے جو کبھی جاپان تو کبھی برطانیہ کے زیراثر بھی رہا۔ یہاں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت کا تعلق برصغیر یعنی انڈیا سے بتایا جاتا ہے جو کئی صدیاں قبل وہاں رہنے کیلئے آئے اور مختلف وجوہات کی بنا پر وہیں سیٹل ہوگئے۔ ان مسلمانوں کے ساتھ ہر دور میں زیادتیاں ہوئیں۔ جنگ عظیم کے ہنگام جاپان کی فوجیں برما میں موجود تھیں اور انہوں نے انڈیا کی برطانوی حمایت کی وجہ سے انتقاماً برمی مسلمانوں کو انڈین سمجھتے ہوئے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔

صرف برٹش راج ایسا تھا جب مسلمانوں کو نوکریاں بھی ملیں اور ان کے ساتھ حتی الامکان برابری کا سلوک بھی کیا گیا۔

پچھلی صدی کے اوائل میں شروع ہونے والے معاشی بحران 'گریٹ ڈیپریشن' کے بعد برما میں ملازمتیں ناپید ہوگئیں۔ وہاں کے رہنے والوں کو لگا کہ مسلم پاپولیشن کی وجہ سے انہیں ملازمتیں نہیں مل سکیں گی، چنانچہ انہوں نے وقتاً فوقتاً برمی مسلمانوں کے خلاف فسادات بھڑکانے کا سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔

برما کی حکومت نے کئی دہائیاں قبل قانون پاس کیا تھا جس کے مطابق برما میں رہنے والے مسلمانوں کو شہریت حاصل کرنے کیلئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق برما سے تھا اور وہ وہاں 1820 سے قبل رہائش رکھتے تھے، یعنی نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج تک مسلمانوں کی برما میں وہی حیثیت ہے جو خلیجی ممالک میں رہنے والے غیرملکیوں کی، یعنی ان کے پاس ایک ریزیڈنس سٹیٹس ہوتا ہے اور ان کی شہریت کے خانے میں جلی حروف میں "غیر ملکی" لکھا ہوتا ہے۔ برما کے مسلمانوں کو بیرون ملک سفر کرنے کیلئے حکومت سے اجازت درکار ہوتی ہے جو تقریباً ناممکن ہے، برما کے مسلمانوں کو 2 سے زائد بچے پیدا کرنے کی اجازت نہیں۔ بعض علاقوں میں تو ان پر جانور ذبح کرنے کی بھی پابندی عائد رہی ہے۔

ویسے تو برما کے مسلمانوں اور بدھسٹس کے درمیان کشیدگی ہمیشہ سے چلی آئی ہے، لیکن 2000 کے بعد اس میں اس وقت شدت آگئی جب افغانستان میں طالبان کی حکومت نے کچھ بدھ پرستوں کو پھانسی پر لٹکایا اور افغانستان میں موجود ان کے مجسمے کو توڑ دیا جس کے ردعمل کے طور پر برما میں مسلمانوں پر حملے ہونا شروع ہوگئے اور ان کی دکانیں جلا دی گئیں۔

2006 میں ایک مرتبہ پھر بیروزگار بدھسٹس مسلمانوں کے علاقے میں آئے اور ان کے خلاف نعرے بازی شروع کردی جس پر دونوں گروہوں میں تصادم ہوا اور کئی جانیں چلی گئیں۔

2011 میں فیس بک پر چند تصویریں شئیر ہوئیں جن میں مبینہ طور پر کسی مسلمان کو ایک بدھسٹ خاتون کا ریپ کرتے دکھایا گیا، اس کے بعد ایک مرتبہ پھر ہنگامے شروع ہوئے اور بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ آج کل بھی برما یعنی میانمار میں مسلمانوں اور بدھسٹس کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔

یہ سب حقیقت اپنی جگہ، لیکن سوشل میڈیا پر جس قسم کی تصاویر 2011 سے لے کر آج تک گردش کرتی آئی ہیں، ان کی اکثریت یا تو فوٹو شاپڈ ہے، یا پھر وہ کسی فلموں کے سین ہیں۔ چونکہ جہالت والے معاشرے میں ایسی تصاویر ہاتھوں ہاتھ بکتی ہیں، چنانچہ پاکستان میں یہ تصاویر بھی بہت بکیں۔

پچھلے چند دنوں کی میری پوسٹس پر کمنٹس ملاحظہ فرمائیں یا پھر اگر میرا انباکس دیکھ سکیں تو 90 فیصد میسجز یا کمنٹس میں لوگ یہ فرمائش کرتے نظر آئیں گے کہ میں برما کے مسلمانوں پر لکھوں۔

آپ یقین کریں کہ ایسی فرمائشیں کرنے والے پرلے درجے کے جاہل، ہڈ حرام اور معاشرے کا سب سے بے کار طبقہ ہیں۔ ان جاہلوں کے نزدیک ایک پاکستانی پیج پر اردو میں کی گئی پوسٹ سے برمی مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاسکے گا اور یہ جالین اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہوجائیں گے۔

برما کا مسئلہ مذہبی منافرت سے زیادہ معاشی بدحالی ہے۔ جب وہاں کے لوگوں کو کھانے کو نہ مل سکا تو انہیں لگا کہ شاید مسلمانوں کو مار کر ان کی حالت کچھ بہتر ہوسکے، چنانچہ انہوں نے مسلم پاپولیشن کے خلاف مظاہرے شروع کردیئے۔ اگر وہاں مسلمانوں کی بجائے ہندو، سکھ یا عیسائی بھی اقلیت میں ہوتے تو ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوتا جو مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے۔

اس مسئلے کا حل بہت آسان تھا۔ اگر 50 مسلمان ممالک بشمول تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب، امارات، قطر، کویت اور ایٹمی طاقت پاکستان مل کر اقوام متحدہ میں ایک قرارداد جمع کرواتے جس میں میانمار میں انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ اٹھایا جاتا تو ساری دنیا اس پر فوکس کرنے پر مجبور ہوجاتی۔

دنیا کی 25 فیصد سے زائد مسلم پاپولیشن کو نظرانداز کرنا آسان نہیں، لیکن اس کیلئے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو اپنی بے غیرتی ترک کرنا ہوگی جو ان کیلئے ممکن نہیں۔

اس کا دوسرا حل یہ تھا کہ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے شہزادے، جن کے پاس جنوبی امریکہ سے لے کر موریشس اور یورپ تک، کئی جزیرے ان کی ملکیت میں ہیں جہاں وہ صرف شکار اور عیاشی کیلئے جاتے ہیں، اگر وہ ان جزیروں کو برما کے چند لاکھ مسلمانوں کے ساتھ آباد کردیتے تو ان مسلمانوں کو رہنے کیلئے ایک علیحدہ جگہ بھی مل جاتی جہاں وہ اسلامی طریقے سے اپنی زندگیاں گزار سکتے، وہاں یہ عرب شہزادے صنعتیں لگا سکتے تھے جہاں برمی مسلمانوں کی شکل میں انتہائی سستی لیبر دستیاب ہوتی۔ عرب شہزادوں کا بھی فائدہ ہوجاتا اور برمی مسلمان بھی خوشحال ہوجاتے۔

لیکن یہ سب کچھ کرنے کیلئے انسانیت، غیرت اور شرم کی ضرورت ہے جو اس وقت ڈیڑھ ارب کی مسلمان پاپولیشن اور ان کے حکمرانوں میں ناپید ہوچکی۔

جو حال اس وقت برما کے مسلمانوں کا ہے، وہی حال عنقریب خلیجی ممالک کے عربوں کا بھی ہونے والا ہے، صرف چند دہائیاں انتظار کرلیں!!!

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری