تحریر: رضا مشہدی

روھنگیا مسلمانوں کی صعوبتوں کی ایک مختصر ٹائم لائن؛ "آٹھویں صدی سے آج تک"

خبر کا کوڈ: 1514409 خدمت: مقالات
مسلمانان آواره میانمار

میانمار صرف گزشتہ چند سالوں سے ہی مسلمانوں کا مقتل نہیں بنا ہوا بلکہ اس سرزمین پر خون مسلم کئی صدیوں سے ارزاں ہے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: میانمار (پرانا نام برما) تقریبا ساڑھے پانچ کروڑکی آبادی پر مشتمل ملک ہے۔ اس میں کئی مذاہب کے لوگ آباد ہیں لیکن سب سے بڑا مذہب بدھ مت ہے جو کہ کل آبادی کا 84 فیصد ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ترقی کے لحاظ سے پسماندہ ترین ملکوں میں سے ایک، برما دنیا میں پیدا ہونے والی اوپیم ( ہیروئین) کا 25 فیصد حصہ کاشت کرتا ہے اور اس لحاظ سے برما کا منشیات کی پیداوار میں بہت بڑا حصہ ہے۔

میانمار سارک ممالک کے اتحاد کا حصہ نہیں ہے جب کہ اس کے آس پاس کے تمام ممالک سارک اتحاد میں شامل ہیں۔ برما میں دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں جن میں اس وقت ”نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی“ اقتدار میں ہے جس کی سربراہ ”آنگ سان سوچی“ ہیں۔ یہ خاتون بدقسمتی سے امن کی نوبل انعام یافتہ بھی ہیں۔

میانمار صرف گزشتہ چند سالوں سے ہی مسلمانوں کا مقتل نہیں بنا ہوا بلکہ اس سرزمین پر خون مسلم کئی صدیوں سے ارزاں ہے۔ برما کے سب سے بڑے شہر رنگون کی جیل  میں آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے سامنے ان کے  گیارہ بیٹوں کے سر ناشتے کے دسترخوان میں سجا کر پیش کیے گئے تھے۔ اسی برما میں جاپان نے برطانیہ کو دوسری جنگ عظیم میں شکست دینے کے بعد برطانیہ کا ساتھ دینے کی پاداش میں مسلمانوں کو خون میں غلطاں کردیا تھا۔ اس کے بعد بھی مختلف ادوار میں برما کی سرزمین پر مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم روا رکھا گیا۔

ہم یہاں روہنگیا اور میانمار کی بدھ مت حکومت  کے درمیان تنازعات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے  روہنگیا مسلمانوں کی تاریخ کی ایک مختصر ٹائم لائن پیش کرینگے۔

8 ویں صدی: روہنگیا کے جنوب ایشیائی لوگ، اراکان نامی ایک آزاد ریاست میں زندگی بسر کرتے تھے۔ 

9 ویں - 14 ویں صدی: عرب مسلمان تاجروں نے اراکان میں اسلام کو متعارف کرایا اور یہاں کی آبادی دائرہ اسلام میں داخل ہوئی اور اسی دوران اراکان اور بنگال کی ریاستوں کے مابین قریبی روابط قائم ہوئے۔

1784: برما کے بادشاہ بوداوپایا نے ریاستِ اراکان پر لشکر کشی کرکے اس پر قبضہ کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں روھنگیا افراد نے اراکان سے بھاگ کر ریاست بنگال میں پناہ لی۔

1790: برطانوی سفیر ہیرم کوکس کو برطانوی سامراج  کی جانب سے روھنگیا پناہ گزینوں کی بنگال میں آبادکاری کیلئے مقرر کیا گیا۔ اس نے بنگال میں کوکس ٹاون قائم کیا جہاں اب بھی بہت سے روھنگیا مسلمان رہائش پذیر ہیں۔    

1824 - 1942: برطانیہ نے برما پر تسلط کرکے اسے اپنے استعماری نوآبادیاتی نظام کا حصہ بنائے رکھا اور اسے برٹش انڈیا کا ایک صوبہ قرار دیا اور برما کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے ہندوستان سے مختلف ہنرمندوں اور کاریگروں کو لاکر یہاں بسایا گیا۔ اس دوران روھنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بنگال سے واپس اپنے علاقے اراکان میں لوٹ آئی۔

1942: جاپان نے برما پر حملہ کیا اور یہاں پر برطانیہ کو شکست دیتے ہوئے اسے برما سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ اس کے بعد برمی بدھسٹ قوم پرستوں  نے روھنگیا اور ہندوستانی مسلم کمیونٹی پر برطانیہ کی وفاداری کا الزام لگا کر ظلم و ستم کا آغاز کردیا۔  

1945: برطانیہ نے دوبارہ برما کا رخ کیا اور اسے جاپانی قبضے سے آزاد کرا دیا۔ برمی قوم پرستوں نے آنگ سان، (موجودہ خاتون حکمران آنگ سان سوچی کے والد) کی قیادت میں برطانیہ کا ساتھ دیا اور روھنگیا کے مسلمانوں نے بھی جاپانی تسلط سے آزادی حاصل کرنے اور آزاد مسلم ریاست اراکان کے قیام کیلئے برطانیہ کا ساتھ دیا کیوںکہ برطانیہ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ جاپانی تسلط  کے خاتمے پر اراکان کو خود مختار اسلامی ریاست کا درجہ دے دیا جائے گا۔ تاہم، جاپان کے برما سے جاتے ہی برطانوی استعمار نے اپنی اسلام دشمنی کی تاریخ دھراتے ہوئے روھنگیا کے مسلمانوں کو دھوکہ دیا اور اراکان کی خودمختاری کے وعدے کو پورا نہیں کیا۔

1945: برما کے مسلمانوں نے اپنے تحفظ کیلئے (بی ایم سی) برما مسلم کانگریس کے نام سے ایک سیاسی تنظیم بنائی۔ اسکے پہلے سربراہ “یو رزاق” تھے، وہ برما کی آئینی کونسل کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ یورزاق کو بعد ازاں قتل کردیا گیا اور بی ایم سی پر پابندی لگا دی گئی۔

تحریک پاکستان کے عروج کے زمانے میں روھنگیا کے مسلمانوں نے ایک تحریک چلائی کہ اراکان صوبے کو مجوزہ پاکستان کے مشرقی بازو (مشرقی پاکستان، اب بنگلہ دیش) کا حصہ بنایا جائے۔ اس تحریک نے مختلف موقعوں پر تشدّد کا رنگ بھی اختیار کیا تھا۔

1948: برما نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی. ظلم و ستم اور استحصال کے شکار برما کے مسلمانوں نے اراکان صوبے کو پاکستان سے الحاق کا مطالبہ کردیا جس پر مسلمانوں اور بدھسٹ قوم پرستوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ برما کی آزادی کے بعد بننے والی نئی حکومت نے مسلمانوں کی اس خواہش کے جواب میں ان کے استحصال اور ظلم و ستم کا نیا سلسلہ شروع کیا، ان کا حقہ پانی بند کردیا حتیٰ مسلمانوں پر سرکاری ملازمتوں کے حصول پر بھی پابندی لگادی گئی۔ 

1950: اراکان کے مسلمانوں کی ایک تعداد نے ایک مزاحمتی تحریک شروع کی، یہ لوگ اپنے آپ کو مجاھد کہتے تھے۔ انہوں نے اپنے حقوق اور سرزمین کے دفاع کیلئے ہتھیار اٹھائے اور مسلح جدوجہد شروع کی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ  تحریک دم توڑ گئی۔

1962: جنرل نی ون نے برمی قومیت کا نعرہ لگا کر برمی سوشلسٹ پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اقتدار پر قبضہ کرتے ہی اس نے  مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا، انہیں برمی فوج سے نکال دیا گیا اور انہیں غیر ملکی، گاو کش اور دیگر القابات سے نوازتے ہوئے شہری حقوق و مراعات سے محروم کردیا گیا۔

1977: برمی فوجی جنتا نے ڈریگن کنگ نامی ایک آپریشن شروع کیا جس میں روھنگیا مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دیتے ہوئے ان پر ظلم و ستم اور ناانصافی کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا جس کے نتیجے میں دو لاکھ سے زیادہ روھنگیا مسلمان برما سے فرار ہوکر بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہوئے۔  

 1978: بنگلہ دیش نے اقوام متحدہ کے توسط سے برمی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت بنگلہ دیش میں برمی جنتا کے ظلم و ستم سے بھاگ کر آئے ہوئے روھنگیا پناہ گزین واپس اراکان بھیج دیے گئے۔ 

  1982: برما کی حکومت نے ایک نیا امیگریشن قانون پاس کیا جس کے تحت وہ تمام تارکین وطن جو برما پر برطانوی تسلط کے دوران آئے تھے ان کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا اور یہ قانون تمام روھنگیا مسلمانوں پر لاگو کردیا گیا۔

1989: اقتدار پر قابض برمی جنتا (فوج) نے برما کا نام تبدیل کرکے میانمار رکھ دیا۔ 

1991:  میانمار کی فوجی جنتا نے اراکان صوبے میں نئے قانون کے اطلاق کی آڑ میں مسلمانوں پر مذھبی ایذا رسانی، عقوبت، خواتین کی عصمت دری، جبری مشقت جیسے مظالم کا سلسلہ شروع کیا، بیمار اور مجروح مسلمانوں کو طبی امداد کی فراہمی بھی معطل کردی گئی۔ مظالم کے اس نئے دور کے دوران ڈھائی لاکھ سے زیادہ روھنگیا مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔

:1992-1997 بنگلہ دیشی حکومت نے برما کی حکومت کو روھنگیا پناہ گزینوں کی واپسی کے سلسلے میں ایک اور معاہدے پر مجبور کیا جس کے بعد ان پانچ سالوں کی مدت میں دو لاکھ تیس ہزار روھنگیا پناہ گزین اپنے صوبے اراکان میں واپس لوٹے۔ فوجی جنتا نے اراکان صوبے کا نام تبدیل کرکے راکھائن رکھ دیا۔

2012: بدھسٹ شدت پسند گروہوں نے حکومتی سرپرستی میں آتشیں ہتھیاروں، تلواروں اور خنجروں سے لیس ہوکر روھنگیا مسلمانوں کے گھروں پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں سو سے زائد روھنگیا مسلمان جاں بحق ہوگئے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد روھنگیا مسلمانوں کو زبرستی سرحدی علاقے میں قائم فوجی حراستی کیمپوں میں محبوس کردیا گیا جہاں انہیں ہر قسم کی بنیادی سہولتوں بشمول طبی امداد اور تمام شہری حقوق سے محروم کردیا گیا۔ ظلم و ستم کے اس دور میں ایک بار پھر ایک لاکھ ستر ہزار مظلوم روھنگیا مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔

:2014-2015 اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ ان دو سالوں میں مزید 94000 (چورانوے ہزار) روھنگیا مسلمان میانمار ترک کرنے پر مجبور ہوئے، جن میں سے پانچ ہزار روھنگیا جو سمندری راستے کے ذریعے تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے ساحلوں پر پہنچے تھے انہیں ان تینوں ملکوں نے پناہ دینے سے انکار کردیا۔ کم از کم ستر (70) روھنگیا اس سفر کے دوران اپنی جان گنوا بیٹھے۔

2016: روھنگیا مسلمانوں کے ایک مقاومتی گروہ ”حرکت الیقین“ نے برمی افواج اور بدھسٹ شدت پسند گروہوں کے مستقل ظلم و تشدد اور غارت گری کے ردعمل کے طور پر سرحدی فوجی چوکیوں پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 9 فوجی ہلاک ہوگئے۔ جس کے جواب میں برمی فوج اور پولیس نے روھنگیا مسلمانوں پر بدترین کریک ڈاون کیا اور ایک ہزار سے زیادہ روھنگیا مسلمانوں کو قتل کردیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں مسلمان روھنگیا خواتین کی عصمت دری کی گئی، انہیں قتل کیا گیا، بچوں کو ذبح کیا گیا یا زندہ آگ میں جھونک دیا گیا۔ مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگا کر خاکستر کردیا گیا اور بدترین ریاستی نسل کشی اور مذھبی بنیاد پر ظلم و ستم کی نئی تاریخ رقم کی گئی جبکہ امن کی نوبل انعام یافتہ میانمار کی خاتون حکمران آنگ سان سوچی مسلسل ان تمام ظلم و بربریت سے انکاری رہیں اور اپنی فوج اور بدھسٹ شدت پسند گروہوں کے مظالم پر پردہ ڈالتی رہیں۔

2017: روھنگیا مسلمانوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے ایک مزاحمتی گروپ، اراکان سالویشن آرمی (ارسا) نے میانمار کی فوج کے ظلم و ستم کے جواب میں کچھ سرحدی سیکیورٹی چوکیوں پر حملہ کرکے 12 سیکیورٹی اھلکاروں کو ہلاک کردیا جبکہ اس حملے میں اس گروہ کے 71 افراد بھی ہلاک ہوگئے۔ جس کے بعد میانمار آرمی نے اکتوبر 2016 سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ اور وسیع پیمانے پر روھنگیا مسلمانوں کا کریک ڈاون شروع کردیا۔  

اس وقت میانمار میں روھنگیا مسلمان بدترین ریاستی قتل عام اور نسل کشی کا شکار ہیں، بچوں اور خواتین سمیت روزانہ بیسیوں مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ اسرائیلی اور برطانوی ہتھیاروں کی مدد سے اب تک سینکڑوں مسلمانوں کے خون سےہولی کھیلی جاچکی ہے اور نسل کشی کا یہ کھیل امن کی نوبل انعام یافتہ حکمران آنگ سان سوچی کی نگرانی میں جاری ہے۔ آنگ سان سوچی کی سرکاری فوج کے ساتھ بودھسٹ ملیشیاز بھی میانمار کے مسلمانوں کے گھروں پر حملوں، ان کو زندہ جلائے جانے اور بچوں کو ذبح کرنے میں مصروف ہیں۔ روھنگیا مسلمان ان حملوں سے بچ کر پناہ کی تلاش میں خلیج بنگال عبور کر کے بنگلہ دیش کی طرف جارہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ پچیس ہزار روھنگیا مسلمانوں نے پیدل میانمار سے بنگلہ دیش کی جانب مہاجرت شروع کی جن میں سے جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے افراد کی تعداد 88ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جہاں ان کی حالت بہت ابتر ہے۔ سینکڑوں روھنگیا، سمندر کی بے رحم موجوں کی نظر ہوکر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تیس ہزار روھنگیا پہاڑوں میں بغیر غذا اور پانی کے محصور ہیں۔

وہ روھنگیا جو کسی نہ کسی طرح بنگلہ دیش پہنچے ہیں انہوں نے غیر ملکی مندومین کو میانمار آرمی اور بدھسٹ شدت پسند گروہوں کی جانب سے بہیمانہ قتل و غارت، زندہ جلانے، ذبح کرنے اور مسلمان خواتین کی وسیع پیمانے پر عصمت دری کی ان گنت دلخراش اور ناقابل بیان داستانیں سنائی ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری