ظالم کی تھپکی ظالم کو، مظلوم کے آنسو مظلوم کیلئے


ظالم کی تھپکی ظالم کو، مظلوم کے آنسو مظلوم کیلئے

ان دنوں جبکہ بدھسٹ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے مسلمانوں کا قتل عام، بچوں کو ذبح کرنے، زندہ آگ میں جلانے، ہزاروں گھروں کو خاکستر کرنے اور ان گنت مسلمان خواتین کی عصمت دری کرنے کے دلخراش واقعات نے ہر درد مند دل کو خون کے آنسو رلا دیا ہے، ایسے میں سعودی اخبار اپنی حکومت کی ایما پر میانمار حکومت کی پیٹھ تھپ تھپا رہا ہے اور روھنگیا مسلمانوں کو دھشت گرد کہہ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ان دنوں جبکہ میانمار میں روھنگیا مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کی وجہ سے عالم اسلام کرب میں مبتلا ہے، بدھسٹ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے مسلمانوں کا قتل عام، بچوں کو ذبح کرنے، زندہ آگ میں جلانے، ہزاروں گھروں کو خاکستر کرنے اور ان گنت مسلمان خواتین کی عصمت دری کرنے کے دلخراش واقعات نے ہر درد مند دل کو خون کے آنسو رلا دیا ہے،  ایسے میں سعودی اخبار اپنی حکومت کی ایما پر میانمار حکومت کی پیٹھ تھپ تھپا رہا ہے اور روھنگیا مسلمانوں کو دھشت گرد کہہ رہا ہے۔

حال ہی میں سعودی جریدے الشرق الاوسط جو کہ آل سعود کا منظور نظر اور سعودی حکومت کا نمائندہ اخبار ہے، نے ایک بار پھر میانمار حکومت کی مشیر آنگ سان سوچی کا دفاع کرتے ہوئے روھنگیا مسلمانوں کو دہشتگرد قراد دیا ہے نیز میانمار حکومت اور اس کے قتل عام کا دفاع کیا ہے۔

واضع رہے کہ اس سعودی جریدے کے مالک، شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے پانچویں بیٹے، سابق وزیر دفاع اور مدینہ صوبے کے موجودہ گورنر، پرنس فیصل بن سلمان ہیں۔

کیا سعودی حکومت کی نظر میں بدترین ریاستی نسل کشی، بربریت اور آبروریزی کے شکار روھنگیا مسلمان مرد، عورتیں اور بچے دھشت گرد جبکہ گلے کاٹنے، گھر جلانے اور عصمتوں کے لٹیرے، بدھسٹ شدت پسند اور میانمار کی حکومت امن کی فاختائیں۔۔۔۔۔۔؟؟

یہ دوسری بار ہے کہ الشرق الاوسط نے  میانمار کے مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ اس سے  قبل بھی اس جریدے نے میانمار میں حکومت کے ظلم و ستم اور ریاستی استحصال پر احتجاج کرنے والے روھنگیا مسلمانوں کو  دہشت گرد قراد دیا تھا، اور آنگ سان سوچی اور بدھسٹ شدت پسندوں کے دفاع میں لکھا تھا: "آنگ سان سوچی کے ملک کی اکثریت بدھ مت ہے، اور اس بحران کی وجہ سے مسلم ممالک کی طرف سے ان پر دباؤ ہے۔"

اس جریدے نے میانمار کی حکومت کو مزید تھپکی دیتے ہوئے لکھا ہے کہ: "سوچی نے کہا ہے کہ حکومت راکھائن صوبے میں عوام کی اچھی طرح حمایت کررہی ہے۔"

جبکہ دوسری طرف انہی آل سعود کے ظلم و بربریت کی چکی میں پسی ہوئی یمنی عوام نے جو گزشتہ ڈھائی سال سے سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ کی بھٹی میں سلگ رہے ہیں، میانمار کے مظلوم روھنگیا مسلمانوں کی حمایت میں یمن کے مختلف شہروں میں منظم  اور پر امن مظاہرے کئے ہیں۔

یمنی مظاہرین نے میانمار کے مسلمانوں پر ہونے والی بربریت پر میانمار حکومت کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے عرب ممالک کے سربراہوں کی مبینہ خاموشی کی بھی شدید مذمت کی ہے۔

بقول شاعر؛

ہم اہل جبر کے نام و نسب سے واقف ہیں

سروں کی فصل جب اتری تھی تب سے واقف ہیں

کبھی بجھے ہوئے خنجر کبھی کھچی ہوئی تیغ

سپاہ ظلم کے ایک ایک ڈھب سے واقف ہیں

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری