حکومت پاکستان ہزارہ کمیونٹی کے مسئلے کو سنجیدہ لے بصورت دیگر عالمی برادری مسئلے کا حل سوچنے پر مجبور ہو جائے گی

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن کا کہنا ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے میں بلوچستان حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے جبکہ وفاقی حکومت اس مسئلے کو سنجیدہ لے بصورت دیگر عالمی برادری اس مسئلے کا حل سوچنے پر مجبور ہو جائے گی۔

حکومت پاکستان ہزارہ کمیونٹی کے مسئلے کو سنجیدہ لے بصورت دیگر عالمی برادری مسئلے کا حل سوچنے پر مجبور ہو جائے گی

خبررساں ادارے تسنیم کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ڈاکٹر فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ روہنگیا برادری کا مسئلہ پوری دنیا کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، چونکہ جتنا ظلم وہاں ہوا، ہمیں پوری دنیا میں کوئی کمیونٹی ایسی دکھائی نہیں دیتی۔ پھر اس کمیونٹی کو کوئی ملک لینے کےلئے تیار بھی نہیں ہے، اس وقت ان کا کوئی وطن نہیں ہے، جہاں صدیوں سے یہ لوگ رہ رہے تھے وہاں سے انہیں نکالا جارہا ہے، تاریخی طور پر برما، پاکستان اور بنگلہ دیش برصغیر میں یکجا تھے، انگریز نے یہ لائنیں کھینچ کر الگ الگ کیا، 1937 تک برما برصغیر کا حصہ تھا، مذہب سے زیادہ یہ مسئلہ انسانیت کا ہے، روہنگیا کمیونٹی میں ہندو بھی شامل ہیں، اس کمیونٹی کی سوچی سمجھی نسل کشی جاری ہے، دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ راکھائن کا یہ صوبہ Resource rich علاقہ ہے، قدرتی وسائل سے مالامال زرخیز علاقہ ہے، بدھسٹ سرمایہ دار طبقے کی کوشش ہے کہ اس علاقے کو خالی کرایا جائے اور اس پر قبضہ کیا جائے۔

میانمار کی حکومت پر اگر دباو ڈالنا ہے تو یہ کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں ہے، اقوام متحدہ سے میانمار کے ان مظالم کے خلاف قرارداد پاس کرانا ہوگی، اور Peace keeping force وہاں تعینات کرنا ہوگی، صحافیوں، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کو ان علاقوں تک رسائی نہیں دی جارہی، تو جب تک اقوام متحدہ اور او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اس مسئلے کو نہیں اٹھایا جائے گا حل ممکن نہیں ہے۔ پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ تباہ حال روہنگیا جس جس ملک میں جارہے ہیں وہ ملک انہیں شہریت دے۔

دہشتگرد گروہ داعش کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انسانی حقوق کی رکن کا کہنا تھا کہ داعش ایک عالمی دہشت گرد تحریک ہے جس میں دنیا کی مختلف انتہا پسند تنظیموں سے لوگ شامل ہوئے، ان میں خواتین بھی تھیں، پھر ان کے ساتھ وہاں پر جو کچھ ہوا، عورتوں کے ساتھ بہت ظلم اور زیادتی ہوئی، اب داعش کے بھاگنے کے بعد ان کے پیچھے خواتین اور بچے رہ گئے ہیں، عالمی قوانین کے مطابق جنگ کے دوران یا اس کے بعد رہ جانے والوں کے انسانی حقوق ختم نہیں ہو جاتے، جنیوا کنونشن موجود ہے، اس میں درج ہے کہ کس طرح ان لوگوں کے حقوق کا دفاع کیا جائے۔

ہزارہ قبیلے کے نسل کشی پر بات کرتے ہوئے فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ ہزارہ کمیونٹی کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں بلوچستان حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جب تک پاکستان کی حکومت ان افراد کو تحفظ فراہم نہیں کرے گی ان کی نسل کشی کو نہیں روکا جا سکتا۔ ہزارہ سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے گھر میں محفوظ نہیں ہیں، انہیں بسوں سے اتار اتار کر قتل کیا جاتا ہے، زیارات پر جاتے ہوئے بھی ان کا قتل عام کیا جاتا ہے، وفاقی حکومت ہزارہ کمیونٹی کے مسئلے کو سنجیدہ لے بصورت دیگر عالمی برادری اس مسئلے کا حل سوچنے پر مجبور ہو جائے گی۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی انٹرویو خبریں
اہم ترین انٹرویو خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری