نکاسی کے پانی سے فصل اگانے والے ممالک میں پاکستان سرِ فہرست

خبر کا کوڈ: 1520039 خدمت: پاکستان
چاول کی کاشت

اینوائرونمینٹل ریسرچ لیٹرز نامی ریسرچ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو بڑے پیمانے پر شہروں اور صنعتوں کی نکاسی کا پانی زراعت میں استعمال کررہے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اس مطالعے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پوری دنیا میں آلودہ پانی سے فصلوں کو سیراب کرنے کا رحجان عام ہے جو کم ازکم 60 ممالک میں جاری ہے اور یہ رحجان گزشتہ تخمینوں کےمقابلے میں بھی 50 فیصد زیادہ ہے۔

یہ تحقیق اینوائرونمینٹل ریسرچ لیٹرز نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں روایتی کیس اسٹڈی کی بجائے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کی پروفیسر این لوئیس تھیبو نے جیوگرافکل انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس)کی طرز پر پوری دنیا سے ڈیٹا جمع کیا ہے۔

اس ڈیٹابیس سے انکشاف ہوا ہے کہ براہِ راست گندے پانی سے اگائی جانے والی فصلوں اور زراعت سے لگ بھگ 85 کروڑ افراد کی صحت کو خطرات لاحق ہیں۔

رپورٹ کے مصنفین کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر آلودہ پانی کے زرعی استعمال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اول تو زراعت کیلیے صاف پانی کی شدید قلت ہے اور دوم کسانوں کا اصرار ہے کہ اس سے فصل اچھی ہوتی ہے اور مہنگی مصنوعی کھادوں اور کیڑے مار ادویہ کی ضرورت بھی کم ہوجاتی ہے۔

واضح رہے کہ نکاسی کے آلودہ پانی میں فاسفیٹ اور نائٹریٹس کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو ایک حد تک فصلوں کیلیے بہتر ہوتی ہے یہاں تک کہ انسانی فضلے سے بھرپور پانی بھی فصلوں کیلیے مفید ہوتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری