عرب حکمرانوں کی جانب سے مغربی حکمرانوں کو کیا تحائف دئے جاتے ہیں ؟

خبر کا کوڈ: 1521453 خدمت: دنیا
ترامپ ملک سلمان

سربراہانِ مملکت کو تحائف دینا کوئی نئی بات نہیں تاہم یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان تحائف کی قیمت کتنی ہے اور انہیں کن شخصیات کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے؟

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عرب حکمرانوں کی مغربی حکمرانوں کیساتھ دہائیوں پر مشتمل دوسری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جب 1945 میں برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل سعودی بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود سے ملاقات کے لیے گئے تو انھیں جلد ہی اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ وہ ایک سو پاؤنڈ کی قیمت والا جو پرفیوم بطورِ تحفہ سعودی بادشاہ کے لیے لے کر گئے تھے اس کی قیمت سعودی تحائف کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھی۔

سعودی بادشاہ نے ونسٹن چرچل کو جواہرات سے لیس تلوار، چغہ اور خنجر سمیت ہیرے کی انگھوٹیاں پیش کیں۔

برطانوی وزیر اعظم نے واپس آتے ہی سعودی بادشاہ کے لیے رولز رائس گاڑی بنوانے کا حکم دیا اور سات ماہ بعد وہ گاڑی عبد العزیز ابن سعود کو بھجوائی۔

آج کے دور میں شاید سربراہانِ مملکت اس طرح کی مہنگی گاڑیاں اور جہاز تحائف میں نہ دیتے ہوں لیکن امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کی گئی ایک حالیہ دستاویز میں صدر ٹرمپ کو ملنے والے سعودی تحائف کی تعداد 83 بتائی گئی ہے۔

یہ تحائف انھیں مئی میں کیے گئے سعودی دورے کے دوران ملے تو صدر ٹرمپ کو ملا کیا؟

ٹرمپ کو ملنے والے تحائف میں، متعدد تلواریں، خنجر، چمڑے سے بنی اشیا، پستول خانے، سونے کی ذری کے کام والے ملبوسات، درجن سکارف، پرفیوم، ریشم، اور فن پارے شامل تھے۔

اریبیا فاؤنڈیشن کے علی شہابی کہتے ہیں کہ یہ تحائف بالکل پرتعیش نہیں ہیں۔ پرانے وقتوں میں خلیجی ریاستیں مہنگے تحائف دیتی تھیں: قیمتی گھڑیاں، زیور وغیرہ۔ وہ کہتے ہیں کہ اب ایسا نہیں ہے۔ اب تحائف مقامی ثقافت کی نمائنگی کرتے ہیں۔کیا ٹرمپ انھیں رکھ سکتے ہیں؟

امریکی قوانین کے مطابق سرکاری ملازم کوئی بھی تحفہ جس کی مالیت تین سو نوے ڈالر سے زیادہ ہے نہیں رکھ سکتے۔ یہ قانون 1966 میں بنا جب امریکی سیاست دانوں کو قیمتی گاڑیاں اور گھوڑے جیسے تحائف ملنا شروع ہوئے۔ اس رقم سے زیادہ مالیت کے تحفے امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ اپنے پاس یا پھر عجائب گھروں میں نمائش کے لیے رکھتا ہے۔ ہاں البتہ، سیاست دانوں کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ ان تحائف کو بازاری داموں واپس خرید ضرور سکتے ہیں۔

اس سے پہلے بھی امریکی سربراہانِ مملکت اور سیاست دانوں کو اس طرح کے تحائف دیے جا چکے ہیں۔ ہلیری کلنٹن کو میانمار کی لیڈر نے جو ہار تحفے میں دیا تھا اس کی قیمت نو سو ستر ڈالر تھی۔ ہلیری کلنٹن نے اسے مارکیٹ کی قیمت پر دوبارہ خریدا۔

اسی طرع صدر اوباما کو بھی بیشتر تحائف دیے گئے۔ صدر اوباما کو گھوڑے کا مجسمہ سعودی بادشاہ نے ستمبر 2015 میں دیا تھا۔ چاندی سے بنے اس مجسمے پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا اور یہ ہیرے، یاقوت، نیلم اور روبی کے پتھروں سے ڈھکا ہوا تھا۔

اندازے کے مطابق اس مجسمے کی قیمت پانچ لاکھ 23 ہزار امریکی ڈالر کے قریب تھی۔ اسی طرح قطر کے امیر نے صدر اوباما کو ایک ایسی گھڑی دی ہے جس پر پرندہ بنا ہوا ہے جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے۔ اس گھڑی کی قیمت ایک لاکھ دس ہزار امریکی ڈالر کے قریب بتائی جاتی ہے۔

سعودی عرب نے ہی امریکی صدر کو ایک تلوار بھی تحفے میں دی تھی جس کا دستہ سونے اور روبی سے بنا تھا اور اس کی قیمت کا اندازہ 87 ہزار نو سو ڈالر لگایا گیا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آل سعود اور دیگر عرب حکمرانوں کو مغربی آقاوں کو خوش کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمان ممالک میں موجود غریب و نادار عوام کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے جن میں سے اکثر بھوک اور قحط کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آل سعود دنیائے اسلام میں موجود فقیر و مسکین مسلمانوں کی مدد کی بجائے مغربی ممالک سے اسلحہ خریدنے اور اسے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کیخلاف استعمال کرنے پر عمل پیرا ہے جس کی زندہ مثال یمن اور شام جیسے جنگ زدہ ممالک ہیں۔  

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری