تحریر: رضا مشہدی

وہی قتل بھی کرے ہے، وہی لے ثواب الٹا

خبر کا کوڈ: 1521515 خدمت: مقالات
یمن

برطانیہ کی یمن کے متاثرین کیلئے 137 ملین پاونڈ کی امداد اور سعودیہ کو اسی یمن کی تباہی کیلئے 4 ارب پاونڈ کے اسلحے کی فروخت پر مبنی ایک چشم گشا رپورٹ ملاحظہ فرمائیے۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: برطانوی حکومت کی سیکرٹری انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ، پریتی پٹیل نے اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق برطانیہ بیرونی امداد کی مد میں یمن جنگ کے متاثرین کیلئے مزید (37ملین) سینتیس ملین پاونڈ کی امدادی رقم ارسال کرے گا جس کے ساتھ ہی یمن کیلئے برطانیہ کی امداد (137 ملین) ایک سو سینتیس ملین پاونڈ تک پہنچ جائے گی۔

منافقت کی انتہا دیکھئے کہ اسی برطانیہ نے سعودی عرب کو یمن پر ڈھائی سال سے جاری جارحیت کیلئے چار ارب پاونڈ کا اسلحہ فروخت کیا ہے جس میں لڑاکا طیارے، میزائل، اور ممنوعہ کلسٹر بم بھی شامل ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مارچ 2015 سے لیکر ابتک سعودی طیاروں نے یمنی شہریوں پر کئی لاکھ کی تعداد میں برطانوی ساختہ ممنوعہ کلسٹر بم برسائے ہیں جبکہ کلسٹر بموں کی فروخت اور استعمال پر بین الاقوامی قوانین کے مطابق پابندی ہے اور 119 ممالک کی  حکومتوں نے اپنی افواج پر اس کے استعمال پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ آل سعود کو اسلحہ فروخت کرنے سے یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بڑھ جانے کی وجہ بنے ہیں نیز عالمی برادری سے یمن کو ملنے والی چند ملین ڈالرز کی امداد کے باوجود، کچھ ممالک یمن کے مخالفین کو اسلحہ فروخت کرکے اس انسانی سبوتاژ میں برابر کے شریک ہیں۔

تازہ ترین اطلاع کے مطابق برطانیہ سرکاری طور پر یمن پر جارحیت کرنے والے اتحاد کا حصہ بن چکا ہے اور یمن سے ملحقہ ساحلوں پر اپنی عسکری قوت میں اضافہ کررہا ہے۔

ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق برطانوی اور سعودی فوجی افسران نیز انٹیلجنس اور لاجسٹک سپورٹ کے عہدہ داران اسی مہینے ستمبر 2017 کے اوائل میں یمن کے ساحلی شہر عدن سے ملحقہ ساحلوں پر پہنچے تھے اور جارح اتحادی افواج کی متعدد نیول پوزیشنز کا جائزہ لیا اور ساتھ ہی یمن کی بحری دفاعی طاقت، اور عدن، ابیان، تعز اور لاہج کے ساحلوں پر یمنی کوسٹ گارڈز کی پوزیشنز سے متعلق انٹیلجنس معلومات اکٹھی کیں۔ 

یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ برطانیہ یمن کے ساحلوں پر اپنی عسکری طاقت میں مسلسل 4 ماہ سے اضافہ کر رہا ہے۔ اور ان چار ماہ کے دوران برطانوی انٹیلجنس افسران نے متعدد بار، بئرعلی،  شبوا، حضر موت، خانفر اور اھور کی ساحلی پٹی کا بھی دورہ کیا اور اس دوران اپاچی ہیلی کاپٹرز سے فضائی اور متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کے ذریعے زمینی مدد فراہم کی جاتی رہی۔   

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گزشتہ ہفتے برطانوی اور سعودی فوجی افسران نے عدن کے نیول بیس کا دورہ کیا ہے اور وہاں پر موجود القاعدہ قیادت جو کہ سعودی پشت پناہی سے یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ساتھ متحارب ہے، اور جارح افواج کی نیول کمانڈ سے مختلف اسٹریٹیجک امور طے پائے ہیں۔  

 

 ایک اور اہم مقصد اس دورے کا یہ تھا کہ تمام موجود اسلحے کی فہرست بندی کی جائے، اور اس میں روسی ساختہ اسلحے کی علیحدہ فہرست تیار کی جائے کیونکہ برطانیہ اور سعودی عرب نے یہ طے کیا ہے کہ روسی ساختہ اسلحے کو برطانوی اسلحے سے تبدیل کردیا جائے اور اپنی جارح اتحادی افواج، بشمول بحری فوج، کرائے کے کولمبین فوجی اور القاعدہ کے دھشت گرد جو کہ یمنی افواج اور عوامی رضاکار فورس سے لڑ رہے ہیں، سے باقی ماندہ روسی اسلحہ لیکر اس کی جگہ برطانوی اسلحہ دیا جائے۔ یہ بھی برطانیہ کی سعودیہ کو مزید اسلحہ فروخت کرنے کی ایک کوشش ہے جس کے نتیجے میں مزید قتل و غارت، مزید بچوں اور عورتوں کی ہلاکت اور مزید خانماں بربادی۔

 ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ سعودی اور برطانوی افواج، روس کو عدن کے ساحلوں پر آنے سے روکنا چاہتی ہیں جو عدن پر ایک فوجی بیس قائم کرنا چاہتا ہے۔عدن کے ساحل پر موجود اتحادی جارح افواج کی بحریہ کے کمانڈر میجر جنرل عبدالله سالم ال نخعی نے بھی اس علاقے میں بحریہ کی قوت کو بڑھانے کیلئے سعودی اور برطانوی منصوبے کا اعتراف کیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان ڈھائی سالوں کے دوران یمن کے خلاف سعودی جارحیت میں  پندرہ ہزار سے زیادہ یمنی شہری جاں بحق ہوگئے ہیں اور تیس ہزار سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 2248 خواتین اور 2773 بچے شامل ہیں اس کے علاوہ پینتیس لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں نیز وبائی امراض خصوصا ہیضے کی وبا پھیلنے اور اسپتالوں پر سعودی طیاروں کے حملوں اور طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے مزید ہزاروں بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح نقصان پہنچ چکا ہے۔ سعودی طیاروں نے اسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی عمارات پر بے تحاشہ بم برسائے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سعودی بمباری اور یمن کا محاصرہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران ہے، کیوں کہ اس بحران کی وجہ سے لاکھوں افراد قحط کے دہانے پر کھڑے ہیں، ملک میں پھوٹنے والی ہیضے کی وبا سے سات لاکھ  لوگ متاثر ہوچکے ہیں جن میں اکثریت بچوں کی ہے اور اس کی بنیادی وجہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ہے کیونکہ سعودی و اتحادی طیاروں نے بمباری کر کے آبی ذخائر تباہ کردیے ہیں، نیز ایک کروڑ ستر لاکھ افراد بھوک کا شکار ہیں جن میں ستر لاکھ افراد کو شدید قحط کی صورتحال کا سامنا ہے۔  آبی ذخائر پر بمباری کی وجہ سے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ یمنی شہریوں کو پینے کے پانی کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے یمن ایک بہت بڑی اجتماعی قبر میں تبدیل ہورہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کی روک تھام کے لئے اور یمن میں ہونے والے انسانی جرائم کی تحقیقات کے لئے بین الاقوامی سطح پر اقدامات کریں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری