تحریر: رضا مشہدی

جیرالڈ ورسٹین; ایک یہودی تھنک ٹینک اور سابق امریکی سفیر جن کا یمن کی تباہی میں اہم کردار ہے

خبر کا کوڈ: 1522091 خدمت: مقالات
جیرالڈ ورسٹین

ان سے ملئے۔ یہ ہیں جیرالڈ ورسٹین۔ مسلمانوں سے شدید دشمنی رکھنے والے پیٹرو ڈالر فنڈڈ، امریکی یہودی تھنک ٹینک۔

خبر رساں اداہ تسنیم: مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر، اسرائیل، لبنان، پاکستان، سعودی عرب وغیرہ میں خدمات انجام دینے والے سابق امریکی سفیر، جیرالڈ ورسٹین، یمن کی بھیانک جنگ میں مسلمانوں سے اپنی ازلی دشمنی کی پیاس بھی بجھا رہے ہیں اور یمن میں عام شہریوں کا قتل عام کرنے والی خلیجی عرب ریاستوں پر تحسین و آفرین کے ڈونگرے برساتے ہوئے ان کی جارحیت کا دفاع کر کے بھاری رقوم بھی وصول کر رہے ہیں۔

مگر افسوس اس بات کا ہے کہ یمن پر جنگ مسلط کرنے والی عرب ریاستوں اور جیرالڈ ورسٹین کے مابین یارانہ پر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد چپ ہے اور ذرائع ابلاغ نے بھی حقائق کو پردہ اخفاء میں رکھا ہوا ہے کیونکہ ان خاموش مسلمانوں کے اذھان ابہام سے لبریز ہیں اور ذرائع ابلاغ کے اکاونٹ پیٹرو ڈالرز سے۔

سابق امریکی سفیر، ورسٹین 41 سال امریکی فارن سروس میں رہتے ہوئے اسرائیل، سعودی عرب، لبنان، پاکستان، عمان اور تیونس میں بطور سفیر تعینات رہے ہیں۔ 2010 میں سابق امریکی صدر باراک ابامہ نے انہیں یمن میں امریکی سفیر تعینات کیا تھا جہاں یہ 2013 یعنی اپنی ریٹائرمنٹ تک تعینات رہے اور پرنسپل ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے اور اب مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ہیں جو کہ امریکہ کا ایک انتہائی با اثر تھنک ٹینک ہے۔

مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ، مشرق وسطیٰ میں امریکی جنگوں کیلئے راہ ہموار کرنے، ممالک کو جنگوں پر اکسانے، حکومتوں کے مابین تعلقات برانگیختہ کرکے امریکی فوجی مداخلت کی زمینہ سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس نے یمن پر سعودی و اتحادی ممالک کی جارحیت کے دفاع کیلئے ان سے کروڑوں ڈالر وصول کیے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ، جس میں ریٹائرڈ اعلیٰ سطحی امریکی عہدہ داران شامل ہیں، یمن پر 900 دنوں سے جاری سعودی جارحیت اور بربریت کے دفاع میں شب و روز نغمہ سرا ہے۔

مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے عہدہ داروں کو مغربی ممالک، سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک کا میڈیا شد ومد کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کے طور پر پیش کرتا رہتا ہے تاہم جس چیز کی پردہ پوشی کی جاتی ہے وہ یہ کہ یمن پر جارحیت کرنے والے ممالک میں سے ایک، متحدہ عرب امارات، اس تھنک ٹینک کو سب سے زیادہ فنڈنگ کرنے والا ملک ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ انسٹی ٹیوٹ یمن پر ہونے والی جارحیت کا سختی سے دفاع  کرتا ہے۔

ابھی حال ہی میں اس ادارے کو ہونے والی فنڈنگ سے متعلق انکشافات سامنے آئے ہیں جس کے مطابق اسے متحدہ عرب امارات کے علاوہ، سعودی عرب، قطر، امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ اور بڑی بڑی اسلحہ ساز کمپنیاں اور فوسل فیول (جہاز کے ایندھن) تیار کرنے والی کمپنیوں جیسے Northrop Grumman, Raytheon، BAE Systems, Chevron, ExxonMobil وغیرہ بھاری بھرکم فنڈنگ کرتی ہیں اور یہ سمجھنا چنداں مشکل نہیں کہ خلیجی عرب ممالک کی فنڈنگ ان کی جارحیت کے دفاع کیلئے ہوتی ہے اور اسلحہ ساز کمپنیوں کی، جنگوں کی آگ بھڑکا کر اپنا اسلحہ فروخت کرنے کیلئے۔۔۔

یہ تہلکہ خیز انکشافات اس وقت ہوئے جب گذشتہ ماہ اگست میں متحدہ عرب امارات کے امریکہ میں سفیر، یوسف ال عتیبہ، کا ھاٹ میل اکاونٹ ھیک ہوگیا اور ان کی متعدد آفیشل ایمیل لیک ہوگئیں، جن کو امریکی اخبار انٹرسیپٹ اور خلیجی میڈیا الجزیرہ نے رپورٹ کردیا، جس سے یہ حقائق سامنے آئے کہ متحدہ عرب امارات نے صرف 2016 اور 2017 کے دوران مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ورسٹین کو 20 میلن ڈالرز کی فنڈنگ کی ہے۔  یہ فنڈنگ ورسٹین کو ایک ایسی جارحیت کے دفاع کیلئے رشوت کے طور پر پیش کی گئی جس میں ہزاروں عام شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں، لاکھوں افراد شدید قحط کا شکار ہوچکے ہیں اور ہیضے کی وبا اور اسپتالوں کی تباہی کے باعث ہر پانچ منٹ بعد ایک بچے کی ہلاکت ہورہی ہے۔ (یمن پر سعودی جارحیت کے 900 دنوں کے ہولناک اعداد و شمار پچھلے کالم میں مفصل ذکر ہوچکے ہیں قارئین رجوع فرما سکتے ہیں

اس انکشاف کے بعد متعدد  اداروں میں کھلبلی مچ گئی اور مزید تحقیقات کیلئے پنڈورا بکس کھل گیا۔ فارن پالیسی ٹرسٹ کے ڈائرکٹر، رابرٹ نیمین، نے ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے ملنے والی فنڈنگ کی تحقیقات کرے۔ جب کہ ورسٹین مسلسل اس حقیقت سے انکار کر رہے ہیں کہ ان کے ادارے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ نے کسی بھی خلیجی ملک سے کوئی فنڈنگ وصول کی ہے۔

 تاہم، انٹرسیپٹ اخبار کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب، جن کا یمن پر جارحیت میں کلیدی کردار ہے، نے اس انسٹی ٹیوٹ کو کئی ملین ڈالرز دیئے ہیں تاکہ یہ ادارہ ان کی جارحیت کا دفاع کرے۔ ایک ایسی جارحیت کا دفاع جس میں بے گناہ یمنی شہریوں پر ممنوعہ کلسڑ بموں اور ڈزنی کٹر بموں سے بمباری کر کے ایسے دلسوز مظالم ڈھائے گئے کہ معصوم بچوں کے کٹے ہوئے جسموں کی تصاویر دیکھ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔

جیرالڈ ورسٹین، اسلام دشمن یہودی ہونے کی وجہ سے خونِ مسلم کے خوگر تو تھے ہی، عرب ریاستوں کے کروڑوں ڈالرز نے ان کی ہوس غارت گری کو اور بڑھاوا دیا اور انہوں نے اسی سال مارچ 2017 میں، امریکی سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کے سامنے سعودی عرب کو یمن جنگ میں استعمال کرنے کیلئے مزید امریکی اسلحے کی فروخت کا بھرپور دفاع کیا۔ 

یہی نہیں بلکہ جیرالڈ ورسٹین نے ہمیشہ خلیجی عرب ریاستوں کو پڑوسی ممالک کے خلاف جارحیت کیلئے امریکی اسلحے کی فروخت کا دفاع اور لابنگ کی ہے، خصوصا یمن جنگ میں، جہاں سعودی عرب اور اس کے اتحادی بے گناہ شہریوں پر وحشیانہ بمباری کر رہے ہیں اور متعدد سیاستدان سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں تاہم ورسٹین نے ہر موقع پر اس کا دفاع کیا ہے۔

ورسٹین نے امریکی کانگریس کی ایک انکوائری کمیٹی کے سامنے سعودی عرب کی جارحیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں جو بھی عام شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں وہ صرف سعودی پائلٹس کی غلطیوں کا نتیجہ ہیں، جبکہ خود کانگریس کی اس انکوائری کمیٹی کے ارکان کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک دانستہ طور پر یمن کی شہری آبادیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

ورسٹین، جن کو مغربی و سعودی ذرائع ابلاغ، مشرق وسطیٰ کے ماہر کے طور پر پیش کرتے ہیں، درحقیقت انہیں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے میڈیا کو پیش کی جانے والی کروڑوں ڈالرز کی رشوت کے عوض یہ پلیٹ فارم میسر آیا ہے۔ انہی پیٹرو ڈالرز کے حجم کی بدولت ورسٹین نے کونسل آف فارن ریلیشنز کی جانب سے شائع ہونے والے ایک با اثر جریدے فارن افئیرز میں یمن پر سعودی جارحیت کے دفاع میں متعدد مقالے لکھے ہیں۔ 

20 اگست 2017 کو فارن پالیسی ٹرسٹ کے ڈائرکٹر نے، مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ اور جیرالڈ ورسٹین کو ان خلیجی ممالک سے ملنی والی فنڈنگ کے خلاف 5000 افراد کی دستخطوں کے ساتھ ایک پٹیشن جمع کروائی ہے۔ رابرٹ نیمین نے اپنے پیٹیشن میں یہ بھی لکھا ہے کہ کس طرح امریکی پشت پناہی سے خلیجی ریاستوں نے مغربی میڈیا اور تھنک ٹینکس کو بھاری رشوتیں ادا کر کے یمن جنگ کی آگ کو بھڑکایا اور مسلسل اپنی جارحیت اور بربریت کا دفاع کروا رہی ہیں۔ 

جیرالڈ ورسٹین نے یمن کی بندرگاہ الحدیدہ پر سعودی عرب اور اتحادی افواج کی بمباری کی کھل کر حمایت کی باوجود اس کے کہ انسانی حقوق کے اداروں نے انتباہ کیا تھا کہ الحدیدہ بندرگاہ پر حملے سے لاکھوں یمنی شہری قحط کا شکار ہوجائیں گے کیوں کہ یمن کی 70 سے 80 فیصد شہری ضروریات کی رسد بشمول غذائی اجناس، ادویات اور ایندھن وغیرہ کی سپلائی اسی بندرگاہ  ہی سے آتی ہے۔

 شمالی افریقہ اور یمن کے معاملات کے نیشنل سیکورٹی کونسل کے سابق ڈائرکٹر ایریک پیلوسکی نے خبردار کیا تھا کہ اگر یمن کی الحدیدہ بندرگاہ پر حملہ کیا گیا تو یمن میں بدترین انسانی بحران آجائے گا۔

یو ایس ایڈ کے ایک سابق عہدہ دار، جیریمی کونیڈک، نے بھی خبردار کیا تھا کہ الحدیدہ بندرگاہ ہی پر یمنی عوام کی خوراک و ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات کا دارو مدار ہے اور اس کی تباہی سے یمنی عوام شدید ترین قحط اور صحت کے مسائل سے دوچار ہو جائے گی۔

تاہم ورسٹین نے مسلسل اس بات پر اصرار کیا تھا کہ سعودی عرب کو الحدیدہ بندرگاہ پر حملہ ضرور کرنا چاہئے ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب اس بندرگاہ پر حملہ کر کے اسے کنٹرول میں لے لے تو وہ اس کی مرمت کرکے یمنی عوام کیلئے مختلف امدادی اداروں کی امداد کی رسائی کے راستے کھول دے گا اور اس طرح انسانی بحران کا خطرہ ٹل جائے گا۔۔۔

ورسٹین کی اس حمایت کے بعد جو کہ اس کی مسلمان دشمنی اور خلیجی عرب ممالک کی فنڈنگ کا شاخسانہ تھی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے الحدیدہ بندرگاہ پر حملہ کردیا۔ حملہ تو ہوگیا مگر کہاں کی مرمت اور امدادی اداروں کی رسائی؟ اس حملے  کے نتیجے میں یمنی عوام بدترین محاصرے میں آگئی اور ان تک اشیائے خوردونوش اور ادویات کی رسائی نہ ہونے سے ہلاکتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ یمن میں بے گناہ انسانوں کی ہلاکت میں اسی سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے ساتھ ساتھ جیرالڈ ورسٹین کا بھی بہت بڑا کردارہے۔

ورسٹین نے شام میں بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے امریکی اور سعودی منصوبوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے امریکی حکومت کا ایران کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے، ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب اور ایران کے خلاف سخت زبان اختیار کرنے، نئی پابندیاں لگانے اور سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے 150 ارب ڈالر کے اسلحے کے معاہدہ کی بھی بھرپور حمایت کی۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ اسلحہ کہاں استعمال ہونا تھا؟

نہ فلسطین کے مسلمانوں کے دفاع کیلئے اسرائیل کے خلاف، نہ میانمار کے مظلوم مسلمانوں کے دفاع کیلئے اور نہ کشمیر کے مسلمانوں کیلئے۔ بلکہ اگر استعمال ہونا ہے تو یمن کے مسلمانوں کے قتل عام، یا داعش کے ذریعے شام و عراق میں بے گناہ مسلمانوں کی متاع حیات چھیننے، بحرین میں ظالم بادشاہت کے خلاف آواز اٹھاتے جمہوریت پسند نہتے مسلمانوں کو خون میں نہلانے، یا پھر اپنے ہی ملک کے شہریوں کا العوامیہ کی سڑکوں پر قتل عام کیلئے۔

 ورسٹین نے شام کے ایئر بیس پر امریکی میزائل حملے کو بھی بہت زیادہ سراہا تھا۔ ورسٹین ایران سے شدید مخاصمت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کو ختم کرنے کیلئے سعودی جارحیت کو سپورٹ کرنا انتہائی ضروری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کی یمن جنگ میں جتنی زیادہ مدد کرے گا اتنا ہی ایرانی خطرے کو ختم کرنے کی حکمت عملی کو استحکام ملے گا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ یمن پوری طرح تباہ ہوچکا ہے اور ملکی سطح پر شدید غذائی قلت کا شکارہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی مستند رپورٹس اور ماہرین کے مطابق، سعودی اور اتحادی جارح افواج نے دانستہ طور پر یمن کی زرعی فصلوں، پانی و خوراک کے ذخائر، تجارتی مراکز، اسپتالوں، اسکولوں، شہری علاقوں کو میزائلوں کا نشانہ بنایا۔  

جس کی وجہ سے یمن میں انسانی صورت حال بہت گھمبیر ہوگئی ہے، لوگ پانی، خوراک، ادویات سے محروم ہوگئے ہیں۔ سویلین اس بمباری کے سب سے زیادہ متاثرہ ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ یمن پر سعودی عرب کی کھلی جارحیت اور اس وحشیانہ کھیل کو مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ کی جانب سے فرقہ وارانہ اصطلاحوں میں رپورٹ کیا جارہا ہے۔ مڈل ایسٹ انسٹ ٹیوٹ کے تجزیہ کار خصوصا یہی جیرالڈ ورسٹین عام افراد کے ذہنوں میں فکری انتشار کو بڑھاتے گئے کیونکہ ”کنفیوژن“ ایسے نام نہاد تھنک ٹینکس کا کار آمد ہتھیار ہوتا ہے اور یہ لوگ اس طلسماتی ہتھیار کو اپنی تزویری حکمت عملی کے کیموفلاج کے طور پر استعمال میں لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

یمن کے حالات جان کر ہر مسلمان کا دل یقینا اپنے اندر ایک غم اور اپنے سینے میں چبھن محسوس کرتا ہے۔ کیوں کہ ہمیں اسلام نے ایک ایسی لڑی میں پرویا ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں کسی پر ظلم ہو مسلمان تڑپ جاتا ہے۔ ہر شخص اپنی استطاعت بھر اس ظلم کو روکنے، ظالموں کا ہاتھ پکڑنے اور مظلوموں کی داد رسی کا مکلّف ہے۔

ولاتحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون انما یؤخر ھم لیوم تشخص فیہ الابصار(ابراھیم:42) "اور یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو کچھ یہ ظالم کررہے ہیں، اللہ اس سے غافل ہے۔ وہ تو ان لوگوں کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔"

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری