پاک افغان سرحد طورخم کو مکمل طور پر بند کرنے کی متضاد خبریں

خبر کا کوڈ: 1522759 خدمت: پاکستان
طورخم

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں امریکہ کی نئی افغان پالیسی کے پیش نظر پاک افغان سرحد طورخم کو نیٹو سپلائی کیلئے مکمل طور پر بند کرنے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق افغانستان کی سرحد سے سیکیورٹی اہلکارو ں پر بم کے حملے کے بعد پاک افغان سرحد طورخم بندنیٹو سپلائی سمیت تجارتی سرگرمیاں مکمل معطل رہیں۔

سیکورٹی ذرائع کاکہناہے کہ طورخم سرحد کو تا حکم ثانی ہمیشہ کیلئے بند کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

گزشتہ دنوں دھماکوں کے بعد یہ سرحد بند کردی گئی تھی جس میں 7 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 9 افراد زخمی ہوئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں دھماکے دستی بم کے تھے جو افغانستان کے علاقے سے پھینکے گئے۔

دھماکوں کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرحد ہر قسم کی آمد رفت کے لیے بند کردی گئی۔

لنڈی کوتل آنے جانے والے راستوں پر چیکنگ بھی سخت کردی گئی ہے۔

یاد رہے پاکستان میں دہشت گردی افغانستان کے راستے بھارت کروا رہا ہے اور یہ بات ساری دنیا جانتی ہے۔

دوسری جانب برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر امریکا نے پاکستان کا غیرنیٹو اتحادی کا درجہ ختم کیا تو افغانستان میں امریکی فوجی مہم اور تجارتی مفادات کو نقصان پہنچے گا جب کہ دہشت گردی کو بھی فروغ ملے گا۔

وزیراعظم نے امریکی حکومت کی پالیسی کو الجھاؤ کا شکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطے سے متعلق عزائم کا اخبارات سے پتہ چلتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ امریکا پر دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ پاکستان اس سے نئے ایف 16 طیارے نہ خریدے۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ واشنگٹن سے ملنے والے اشارے الجھن سے بھرپور ہیں، لیکن ہمارا پیغام واضح ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، تاہم امریکا نے اتحادی کا درجہ ختم کیا تو اس سے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پاکستانی کوششوں کو نقصان ہوگا بلکہ امریکا کا بھی نقصان ہوگا، پاکستان کے دہشت گردی کیخلاف آپریشنز کیلئے امریکا کا تعاون بہت ضروری ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری