کراچی میں پرندوں اور جانوروں کا بین الاقوامی میلہ + تصاویر

خبر کا کوڈ: 1523195 خدمت: پاکستان
پرندہ میلہ

پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی اور ساحلی شہر کراچی میں پرندوں اور جانوروں کا بین الاقوامی میلہ سجایا گیا جہاں ایرانی بلی، آسٹریلین طوطے اور دیگر پرندے و جانوروں میں شہریوں کی خصوصی دلچسپی دیکھنے میں آئی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی اور ساحلی شہر کراچی میں پرندوں اور جانوروں کا بین الاقوامی میلہ سجایا گیا، جس میں آبی حیات بھی پیش کی گئیں۔

اس منفرد نوعیت کے میلے میں آسٹریلین، پہاڑی، کاٹیل، فشر، لوبرڈ اور ککاپو سمیت طوطوں کی مختلف اقسام پیش کی گئیں، ایرانی اور روسی بلیاں، مور، سارس، بطخ، بندر، خرگوش، مگرمچھ، اژدھا، کچھوا اور مچھلیوں سمیت مختلف جانور بھی ایک روزہ میلے کا حصہ رہے۔

یہ میلہ سماجی تنظیم پاکستان ایوی کلچر پویلین کے تحت منعقد کیا گیا، جس کا مقصد پرندوں اور جانوروں کے حوالے سے شہریوں میں شعور اجاگر کرنا، پاکستان اور اس سے باہر دوسرے ملکوں میں پرندوں اور جانوروں کی تشہیر اور ان کی برآمد کے ذریعے کثیر زرمبادلہ کمانا تھا۔

پرندوں اور جانوروں کے اس میلے کے منتظم کار علی شاہ نے تسنیم نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "پرندوں اور جانوروں بالخصوص طوطوں کو پالنا عام طور پر لوگوں کا شوق ہوتا ہے، جن کی افزائش کے لئے وہ مختلف جتن کرتے ہیں، جبکہ گذشتہ مالی سال پاکستان سے پینتیس کروڑ امریکی ڈالر کے پرندے دنیا کے مختلف ملکوں کو برآمد کئے گئے۔"

ان کے بقول اس میلے سے جہاں شوقین افراد کی تسکین ہورہی ہے، وہیں یہ میلہ کاروباری مقاصد کے لئے بھی سودمند ثابت ہوگا۔"

میلے کے شرکا میں زیادہ تر ایسے افراد شامل تھے، جو بچوں کو وہاں انواع و اقسام کے جانور اور پرندے دکھانے آئے تھے، شرکا نے مور، بندر، رنگ برنگے طوطوں اور ایرانی بلی میں خاص دلچسپی لی۔

میلے میں شریک ڈیفنس سے آئے بیالیس سالہ عبدالمنان نے تسنیم نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "یہ ایرانی بلی ہے، اس کا نام "پیتو" ہے، یہ صرف میری نہیں بلکہ ہمارے سب گھر والوں کی لاڈلی اور چہیتی ہے، سارا گھر اس کا خیال رکھتا ہے، اس کے نرم و ملائم بال بہت خوبصورت ہیں، بڑی محنت اور محبت سے پالا ہے، میں نے اسے۔"

پرندوں اور جانوروں کے میلے میں ان کے افزائش نسل کے لئے ماہرین اور ڈاکٹرز نے بھی خصوصی شرکت کی، جہاں شرکا اور اس شوق سے منسلک افراد کو پرندوں اور جانوروں کی نسل بڑھانے کے حوالے سے مختلف تراکیب اور نکات سکھائے گئے۔

شرکا کا کہنا تھا کہ میلہ زبردست ہے، مختلف ملکوں کے پرندے اور جانور دیکھ کر مزہ آیا، کراچی جیسے شہر میں اس قسم کے میلے ٹھیلے تواتر سے لگتے رہنے چاہیئں۔

میلے کے دوران جانوروں اور پرندوں کی صحت، خوبصورتی اور رنگ و نسل کے اعتبار سے "مقابلہ حسن" بھی منعقد کیا گیا، جس میں جج کے فرائض آسٹریلیا، جرمنی اور ہالینڈ سے آئے خصوصی ماہرین نے انجام دیئے۔

مقابلہ حسن جیتنے والے پرندے یا جانور کے مالک کو شیلڈ، فٹنیس سرٹیفکیٹ اور گولڈ میڈل انعام میں دیا گیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری