مقبوضہ کشمیر میں ایام ہائے عزاء کی تیاریاں عروج پر

ملت تشیع کشمیر نے تقریبا 28 سال سے عائد سرکاری پابندی کے باوجود 8 اور 10 محرم الحرام کے دو بڑے مرکزی جلوس برآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا

مقبوضہ کشمیر میں ایام ہائے عزاء کی تیاریاں عروج پر

خبر رساں ادارے تسنیم کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق کشمیر کے گوشہ و کنار میں ایام ہای عزاداری کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ کشمیر کے گوشہ و کنار میں تمام چھوٹے بڑے راستوں، امام بارگاہوں، درگاہوں اور  مساجدوں کو بینروں اور ماتمی کپڑوں سے سجایا گیا ہے۔

دریں اثناء کشمیر کے دو بڑے 8 اور 10 محرم الحرام کے عزاداری کے مرکزی جلوسوں پر تقریباً پچھلے 28 سالوں سے پابندی عائد ہے اور عزادار ہر سال پابندیوں بندشوں اور کرفیو کے باوجود ان جلوسوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس سال بھی کشمیر کی مذہبی تنظیموں نے سرکاری بندشوں اور پابندیوں کے باوجود ان دو بڑے مرکزی جلوسوں کو سرینگر سے برآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

کشمیر کی دو بڑی مذہبی تنظیموں جن میں اتحاد المسلمین اور پیروان ولایت شامل ہیں، نے اس سلسلے میں اجلاس طلب کرکے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ اس سال بھی ہزاروں سرکاری بندشوں اور پابندیوں کے باوجود 8 اور 10 محرم الحرام کے دو بڑے مرکزی جلوسوں کو مذہبی عقیدت واحترام کیساتھ برآمد کیا جائے گا۔

ملت تشیع کشمیر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سرکار کشمیر میں تقریباً ایک مہینے تک جاری رہنے والی امرناتھ یاترا کے لئے مہینوں پہلے  انتظامات کرواتی رہی ہے لیکن محرم الحرام کے جلوسوں پر پابندی عائد کرکے عزاداروں پر لاٹھیاں برساتے رہے ہیں۔

واضع رہے 1989 سے 8 محرم الحرام جو گرو بازار سرینگر اور عاشورہ کا جلوس جو آبی گزر لالچوک سے برآمد ہوتے تھے، پر بھارتی حکام نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری