افغانستان میں امن علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے، تہمینہ جنجوعہ

خبر کا کوڈ: 1523415 خدمت: پاکستان
تہمینہ جنجوعہ

سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کا کہنا ہے کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں اور افغان امن کا معاملہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے جب کہ افغانستان میں امن علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سیکرٹری برائے خارجہ امور تہمینہ جنجوعہ جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچیں جہاں انہوں نے امریکی نائب وزیرخارجہ ٹام شینن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں افغانستان میں امن و امان کی صورت حال سمیت امریکا کی جنوبی ایشیا کے حوالے سے نئی پالیسی کے خطے پر پڑنے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اس موقع پر تہمینہ جنجوعہ کا کہنا تھا کہ حالیہ امریکی بیانات پر پاکستان کا بھی سخت ردعمل سامنے آیا، پاکستان کے لیے امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہت اہمیت ہے جب کہ دونوں ممالک انسداد دہشتگردی اور مشترکہ دشمن کے خاتمے کے لیے تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، افغان امن کا معاملہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے جب کہ افغانستان سے داعش کے خاتمے کے لیے دونوں مل کر کام کر سکتے ہیں اور پاکستان افغانستان میں امن کیلیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

دوسری جانب سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور افغان نائب وزیر خارجہ حکمت کرزئی کے درمیان بھی ملاقات ہوئی جس میں افغانستان میں امن و استحکام کیلیے دو طرفہ تعاون پر بات چیت ہوئی جب کہ سیکرٹری خارجہ نے افغان مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے۔

تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ حکومت پاکستان افغانستان سے تعلقات مستحکم کرنے کیلیے پرعزم ہے اور دونوں ملکوں کو مختلف شعبوں میں تعاون کے فر وغ کے لیے مل کر کام کرناچاہیے جب کہ افغان عوام اور قیادت پر مشتمل امن عمل کے ذریعے مسئلے کے حل پر توجہ دینا ہو گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری