عزاداری ہماری عبادت ہے، جس پر کسی پابندی یا قدغن کو قبول نہیں کریں گے، ایم ڈبلیو ایم

خبر کا کوڈ: 1523703 خدمت: اسلامی بیداری
لبیک یا حسین کانفرنس

مجلس وحدت مسلمین کے زیرِاہتمام محرم الحرام میں امن و امان اور عزاداروں کو درپیش مسائل کے پیش نظر "عزاداری کانفرنس" کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں علمائے کرام، ذاکرین عظام، بانیان مجالس اور عزاداروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عزاداری کانفرنس میں سنٹرل پنجاب کے مختلف اضلاع کے علماء، ذاکرین اور بانیان مجالس شریک ہوئے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ عزاداری امام حسین ؑ کے راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو ہم ملت جعفریہ کی توہین سمجھتے ہیں اور اس قسم کے سازشوں کو ہم آئینی قانونی اور جمہوری جدوجہد سے شکست دینگے، ملک بھر میں ایک دفعہ پھر محرم سے قبل ایک منظم منصوبے کے تحت عزاداروں کو ہراساں کرنے کا عمل جاری ہے، پاکستان بھر کے جیلوں میں مکتب تشیع سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو محرم الحرام میں ان کے مذہبی دینی عبادت سے روکا جا رہا ہے، ہم حکمرانوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسے سلوک کا مقصد اور ہدف کیا ہے؟ ان کو یہ احکامات کہاں سے ملتے ہیں؟ ہم مادرِوطن میں منافرت پھیلانے والوں سے بخوبی واقف ہیں، پاکستان کے شیعہ سنی متحد ہیں اور چند مٹھی بھر انتہا پسند سوچ کے حامل لوگ جن کے سبب آج ہم دنیا بھر میں مسائل و مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ان کی خوشنودی کیلئے پُرامن محب وطن عوام کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری سیاسیات و رکن شوریٰ عالی سید اسد عباس نقوی نے کہا کہ عزاداری نواسہ رسول حضرت امام حسینؑ ہماری شہ رگ حیات ہے، پنجاب سمیت ملک بھر میں کسی بھی حصے میں عزاداری کو محدود کرنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے، پنجاب کے مختلف اضلاع میں ہماری اطلاعات کے مطابق متعصب انتظامیہ عزاداروں اور بانیان مجالس کیخلاف بلا جواز کارروائیوں میں مصروف ہیں، ہم انتظامیہ اور حکومت وقت کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ عزاداری امام حسین ؑ ہمارا آئینی و قانونی حق ہے اور ہم اپنے اس آئینی حق پر قدغن لگانے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے، چاردیواری کے اندر مجالس عزاء پر کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہم بانیان پاکستان کے وارث ہیں، ہمارے ساتھ مقبوضہ کشمیر والوں جیسا سلوک سے انتظامیہ باز رہے۔

مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ مبارک موسوی نے کہا کہ یہ المیہ سے کم نہیں کہ بانیان پاکستان کے اولادوں کو نواسہ رسولؑ کا غم منانے کیلئے ریاست سے اجازت درکار ہے، ناچ گانے، ہلہ گلہ کرکے اسلامی روایات کا تمسخر اُڑانے والوں سے نہ حکومت کو خطرہ ہے نہ انتہاپسندوں کو گلہ، ملک میں اگر مشکلات درپیش ہیں تو وہ صرف نواسہ رسولؑ کا غم منانے والے عزاداروں کو ہے، یاد رکھیں عزاداری امام حسین ؑ کو اس وقت کے یزید اور ان کے پیروکار محدود نہیں کر سکے، آج بھی دنیا بھر میں عزاداری کے لاکھوں اجتماعات برپا ہوتے ہیں لیکن عزاداری کے دشمنوں کا نام لیوا کوئی نہیں، پنجاب بھر میں محرم سے قبل عزاداروں بانیان مجالس کو ہراساں کیا جا رہا ہے، اتحاد بین المسلمین کے داعی علماء پر بین اضلاعی و بین صوبائی پابندیاں شہری حقوق کے سراسر خلاف ورزی ہے، جو ہمیں قابل قبول نہیں، چاردیواری کے اندر مجالس عزاء پر قدغن لگانے والوں کیخلاف ہم عدالتوں سے رجوع کریں گے، ہم اپنے بنیادی شہری حقوق پر قدغن لگانے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے، عزاداران امام مظلومؑ کی سکیورٹی فول پروف بنانا حکومت پر فرض ہے، پنجاب کے مختلف اضلاع میں جلوس ہائے عزاء کے روٹس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو ہم برداشت نہیں کرینگے، اس قسم کے کسی بھی واقعے اور سازش کیخلاف ملک گیر احتجاج کا آئینی و قانونی حق ہم محفوظ رکھتے ہیں۔

عزاداری کانفرنس میں اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ عزاداری امام حسین علیہ السلام ہماری شہ رگ حیات ہے، ہم اپنی اس عظیم عبادت پر کسی بھی قسم کی قدغن برداشت نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ علماء و ذاکرین پر بلاجواز پابندی بنیادی شہری حقوق کی خلاف ورزی ہے، ایسے احکامات کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرینگے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ عزاداری امام حسین ؑ کے بانیان پر بلاجواز مقدمات قائم کرنے کے عمل کو فوری روکا جائے، کسی کی مذہبی عبادت کی ٹائمنگ مختص کرنے کا حق انتظامیہ کو نہیں، مجالس کی ٹائمنگ اور اجازت نامے کے نام پر بنائے گئے، مقدمات کو فوری ختم کیا جائے۔ جیلوں میں ہونیوالی عزاداری و ماتمی جلوسوں پر پابندی لگانے والے متعصب افسران کا محاسبہ کیا جائے اور آئی جی جیل خانہ جات فوری طور پر جیلوں میں روکی گئی مجالس عزا و جلوس ہائے عزاء کو بحال کریں۔ اعلامیہ میں کہا گیاکہ عزاداری امام حسین ؑ کے انعقاد کے جرم میں بانیان مجالس کیخلاف نظر بندی کے احکامات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جسے ہم قبول نہیں کرینگے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے احکامات کو فوری طور پر کالعدم قرار دیا جائے۔ پنجاب سمیت ملک بھر میں عزاداران امام حسین ؑ کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور ان کے سیاسی سرپرستوں کیخلاف کارروائی کی جائے نہ کہ دہشت گردی کے نام پر پرامن عوام کو ہراساں کیا جائے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری