شمالی کوریا کی جانب سے اہمیت نہ دینے کے باوجود ٹرمپ کی گیدڑ بھبکیاں جاری

خبر کا کوڈ: 1524724 خدمت: دنیا
ترامپ رهبر کره شمالی

امریکی صدر نے اپنے تازہ ترین خطاب میں ایران اور وینزویلا کو بھی شدید تنقید کانشانہ بناتے ہوئے شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی دیدی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 72 ویں سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انھوں نے جوہری ہتھیاروں کو نہیں روکا تو امریکا اس کو 'مکمل طورپر تباہ' کردے گا۔

یو این جی اے کے افتتاحی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نےشمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ'اقوام عالم کو مقابلہ کرنا پڑتا ہے جبکہ دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'جوہری ہتھیاروں کا حصول پوری دنیا میں انسانی جانوں کے لیے سخت خطر ہ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو ان کے عرفی نام راکٹ مین سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ'راکٹ مین اپنی اور اپنی حکومت کی خودکشی کے راستے پر گامزن ہے'۔

انھوں نے کہا کہ 'امریکا کے پاس بڑی طاقت اور صبر ہے تاہم جب اس کو دفاع کے لئے مجبور کیا جائے گا تو پھر ہمارے پاس شمالی کوریا کو مکمل طورپر تباہ کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا'۔

اقوام متحدہ کے فورم میں پہلی بار خطاب کرنے والے ٹرمپ نے کوریا کے خلاف روایتی زبان استعمال کرتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جس پر دیگر ممالک کے رہنماؤں نے تنقید کی۔

امریکی صدر نے تمام اقوام کو ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے سے روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ 'شرمناک' تھا اور یہ عالمی طور پر 'خراب ترین' معاہدہ تھا۔

انھوں نے اسلامی شدت پسند اور دہشت گردی' کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلامی شدت پسندی اور اسلامی شدت پسندی کی حمایت کرنےوالوں کو بھی ختم کریں گے۔

ٹرمپ نے دنیا بھر کے رہنماوں کو اپنی 'قومی خودمختاری' کو یقینی بنانے کے لیے اپنے ملکوں میں سیکیورٹی کے اقدامات کرنے پر زور دیا۔

امریکی صدر نے اقوام متحدہ میں موجود عالمی رہنماؤں اور مندوبین کے سامنے کھڑے ہوکر کہا کہ اقوام متحدہ کے اراکین کومشترکہ طور پر ذاتی دلچسپی کے لیے کام کرنے والی اقوام کی طرح عالمی خطرات سے نمٹنے کے لیے متحدہ ہونا چاہیے ۔

انھوں نے وینزویلا کے صدر نیکولس میڈورا کی حکومت کو 'تباہ کن حکمرانی' قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کو مداخلت کرنے پر زور دیا اور کہا کہ 'یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے، نہ ہی اس کی حمایت کی جاسکتی ہے اور نہ دیکھی جاسکتی ہے'۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری